گوانتانامو میں قیدیوں کی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا میں امریکی جیل گوانتانامو بے میں باون قیدیوں نے اپنی حراست اور ان کے ساتھ کئے جارہے سلوک کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پچھلے تین دن میں ان قیدیوں نے نو مرتبہ کھانا کھانے سے انکار کردیا ہے۔ طبی ماہرین ان قیدیوں کا معائنہ کررہے ہیں اور ہر روز ان کی صحت کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔ گوانتانامو بے میں پانچ سو قیدی رکھے گئے ہیں جن میں اب تک صرف چار قیدیوں کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہڑتال شائد کچھ قیدیوں کی طرف سے اپنی حراست کے خلاف کیا جانے والا ایک وقتی احتجاج ہے۔ بدھ کے روز رہا ہونے والے ایک افغان قیدی نے بتایا تھا کہ گوانتانامو بے میں پچھلے دو ہفتوں سے سو کے قریب قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طالبان کے اس سابقہ فوجی کے مطابق یہ ہڑتال جیل میں کئے جانے والا غیر انسانی سلوک کے خلاف ہے۔ تاہم گوانتانامو بے کے کئی قیدیوں کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کو بتایا ہے کہ وہاں اس طرح کا احتجاج پچھلے برس جون سے جاری ہے۔ اس وکیل کے مطابق جیل میں قیدیوں کو پینے کے لئے دئیے جانے والے پانی کے معیار کی وجہ سے یہ احتجاج شروع ہوا تھا۔ لیکن بعد میں اس احتجاج نے ان قیدیوں کی مسلسل حراست اور ان کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کے خلاف مزید زور پکڑ لیا۔ امریکی فوج کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے کچھ قیدی پانی وغیرہ پی رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہیں زبردستی پانی پلایا جارہا ہے یا وہ اپنی مرضی سے ایسا کررہے ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے نمائندے اتوار کے روز گوانتانامو بے پہنچ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||