فوج بدسلوکی سے باز رہے: سینیٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود امریکی سینیٹ نے بھاری اکثریت سے امریکی فوج پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ گوانتانامو بے یا دیگر مقامات پر واقع امریکی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی رویہ نہ اختیار کریں۔ امریکی سینیٹ نے نو کے مقابلے میں نوے ووٹوں سے ایک آئینی ترمیم کو منظوری دی جس کے تحت امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگن پر قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے ضابطےکو واضح کیا جائے گا۔ بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس قانون سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے امریکی فوجیوں کے ہاتھ بندھ جائیں گے۔ ریپبلیکن سینیٹر جان میککین کی جانب سے پیش کردہ اس ترمیم کے تحت پینٹاگن کو ایک ضابطہ تیار کرنا ہوگا تاکہ قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی رویے کو تفتیش کے دوران روکا جاسکے۔ سینیٹر جان میککین نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت امریکی فوج کی حراست میں کسی بھی شخص کے ساتھ غیرانسانی رویے کو روکا جاسکے گا۔ سینیٹ کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ عراق کے ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر شائع ہونے سے امریکہ کا جو امیج متاثر ہوا تھا وہ اس آئینی ترمیم سے کچھ بہتر ہونے کی امید ہے۔ امریکی نائب صدر ڈِک چینی نے کوشش کی تھی کہ اس آئینی ترمیم کو واپس لے لیا جائے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ اس ترمیم کو اپنے اختیارات کے حدود میں مداخلت سمجھتی ہے اور اسے ویٹو کرسکتی ہے۔ دریں اثناء نائب صدر ڈِک چینی امریکیوں سے جنگِ عراق پر صبر سے کام لینے کے لئے اپیل کرنے والے بش انتظامیہ کے اعلیٰ ترین اہلکاروں میں شامل ہوگئے ہیں۔ عراق میں جاری تشدد کی وجہ سے بش انتظامیہ ابھی شدید دباؤ میں ہے۔ نائب صدر چینی نے کہا کہ عراق دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے عشروں تک متحد کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ عراق میں اپنا مشن چھوڑ دے گا تو دہشت گرد جیت جائیں گے۔ نائب صدر چینی کا اصرار تھا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی ٹریننگ میں پیش رفت ہورہی ہے۔ جمعرات کو صدر جارج بش ایک خطاب کے دوران عراق کے موضوع پر امریکی عوام سے پھر مخاطب ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||