گوانتانامو: سترہ افغان رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام کے مطابق سترہ افغانوں کو خلیج گوانتانامو کی جیل سے رہا کر کے کابل میں حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایک ترک باشندے کو بھی تین سال بعد رہائی ملی ہے۔ اسے ترکی پہنچا دیا گیا ہے۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی پانےوالے افراد سے بدھ تک پوچھ گچھ کی جائے گی جس کے بعد توقع ہے کہ انہیں اپنے خاندان والوں کے ساتھ جانے کی اجازت ملے گی۔ رہائی پانے والوں میں سے کچھ نے قید کے دوران زیادتیوں کی شکایت کی۔ گوانتانامو کی جیل سے دو سو افراد کو رہا کیا جا چکا ہے جبکہ ابھی پانچ سو افراد وہاں قید ہیں۔ افغانستان کے چیف جسٹس نے رہائی پانے والے افراد سے کہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ جیل میں زیادتیاں ہوئی ہیں تو وہ ان کا ذکر نہ کریں کیونکہ اس سے مزید افراد کی رہائی مشکل ہو جائے گی۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے رہا ہونے والے ایک شحض عبدالرحمٰن کے حوالے سے بتایا کہ ان کے ساتھ قید میں زیادتیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں بات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||