گوانتانامو،تشددہوا: سابقہ قیدی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیج گوانتانامو کی جیل سے رہا ہونے والے ایک آسٹریلوی شہری نے کہا کہ قید کے دوران ان پر تشدد ہوا تھا۔ رہائی پانے کے بعد ایک انٹرویو میں ممدوح حبیب نے کہا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ مصر میں پیدا ہونے والے ممدوح حبیب کو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان سے گرفتار کر کے مصر بھیج دیا گیا تھا۔ حبیب انیس سو اسّی میں آسٹریلیا چلے گئے تھے جہاں وہ سڈنی میں ٹیکسی چلاتے تھے۔ اڑتالیس سالہ حبیب نے انٹرویو میں کہا کہ ان پر جنسی حملہ کیا گیا اور ایک طوائف کی ماہواری کا خون ان کے منہ پر ملا گیا۔ امریکی حکام نے یہ کہہ کر انہیں رہا کیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن وہ تین سال سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے۔ حبیب نے کہا کہ گوانتانامو جیل میں تشدد معمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر درجن سے زیادہ افراد نے انہیں بچوں کے زیر جامے پہنا کر مارا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تشدد سے بچنے کے لیے خود پر لگے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ حبیب کی رہائی کے فیصلے سے آسٹریلیا کی حکومت کو حیرت ہوئی ہے کیونکہ وہ انہیں بدستور شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ حبیب سے ان کا پاسپورٹ بھی لے لیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں اعلیٰ حکام نے حبیب کی کہانی پر شک کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ ایلگزانڈر ڈاؤنر نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوانتانامو جیل میں تشدد ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||