BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 June, 2005, 03:33 GMT 08:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمنسٹی کی رپورٹ لغو ہے‘ بش
 صدر بش
صدر بش کا کہنا ہے کہ امریکہ آزادی کے فروغ کا علمبردار ہے
امریکی صدر جارج بش نے حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو لغو اور فضول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں گوانتانامو میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر امریکہ کی مذمت کی گئی تھی۔

تاہم ایمنسٹی نے جواب میں کہا ہے ’لغو اور فضول بات یہ ہے کہ صدر بش اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں سے انکار کررہے ہیں اور یہ کہ بش انتظامیہ نے اس سلسلے میں مکمل طور پر آزادانہ تحقیقات نہیں کرائی ہیں۔‘

تنظیم نے اپنی روپورٹ میں گوانتا نامو کے قید خانے کو سوویت زمانے کے گولاگ یعنی جبری کیمپوں سے تشبیہ دی تھی اور واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ دنیا بھر میں حقوق انسانی کی بگڑتی صورت حال کے لیے امریکہ سب سے زیادہ قابل الزام ہے۔

گوانتانامو کے قید خانے میں محافظوں پر یہ الزام بھی لگا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی بے حرمتی کی تھی جس پر مسلمان دنیا نے بہت احتجاج کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران صدر بش نے ایمنسٹی کی رپورٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ امریکہ تو وہ ملک ہے جو دنیا بھر میں آزادیوں کے فروغ کی بات کرتا ہے۔ ’ایمنسٹی کی رپورٹ میں نے دیکھی ہے اور وہ فضول ہے۔ یہ ایک فضول الزام ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے خلاف الزامات کی پوری طرح چھان بین کی گئی ہے اور اس کے لیے شفاف انداز اختیار کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے بعد امریکہ میں اعلیٰ ترین فوجی سطح پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جنرل رچرڈ مائر نے بھی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا جبکہ امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔

چینی کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ دیگر اقوام کے مقابلے میں امریکہ نے آزادی کے لیے زیادہ کام کیا ہے اور بیسوی صدی میں استبداد سے زیادہ لوگوں کو نجات دلائی ہے۔‘

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ گوانتانامو میں قیدیوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی حکام کے زیرِ حراست افراد کی طرف سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کے بعد مرتب کی تھی۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ یہ الزامات دراصل ان لوگوں کے ہیں جو امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں اسی چیز کی تربیت دی جاتی ہے لہذا ان کی بات سچ نہیں ہے۔

تاہم ایمنسٹی کا جواب تھا ’خود صدر بش کی یہ کوشش لغو اور فضول ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں سے انکار کر رہے ہیں۔ اور لغو اور فضول بات یہ ہے بش انتظامیہ نے ایک مکمل اور آزادانہ انکوائری نہیں کرائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد