ایمنسٹی رپورٹ میں امریکہ پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر بش انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ تین سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے تشدد کی ازسرنو تشریح کرنے کی کوشش میں انسانی حقوق کی بنیادی قدروں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ واشنگٹن نے اس معاملے میں دوہرے معیار اپنائے ہیں اور دنیا کی کئی حکومتیں امریکہ ہی کے مثال پر سیاسی مفاد کے لیے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ کے رویے سے دنیا کے دوسرے ممالک میں آمرانہ حکومتوں کو اشارہ ملا ہے کہ شہریوں کے ساتھ بد سلوکی اور ان کے خلاف پر تشدد رویہ اپنانے کو جائز کہا جا سکتا ہے۔ اکثر یہ ممالک ایسے اقدامات کو یہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل آئیرین خان نے کہا ہے کہ میڈرڈ ٹرین بم حملے، روس کے شہر بسلان میں سکول کا قبضہ اور عراق میں مغوی افراد کی ویڈیو کی گئی ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں بلکہ بدتر ہوئی ہے۔’گیارہ ستمبر کو چار سال ہو گئے ہیں اور اس وقت امریکہ نے وعدہ کیا تھا کو وہ دنیا کو زیادہ محفوظ بنائے گا، لیکن اب تو یہ وعدہ بالکل کھوکلا معلوم ہوتا ہے۔‘ آئیرین خان نے اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انسانی حقوق پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں اور وہ معصوم شہریوں کا دفاع کرنے میں نا کام رہا ہے۔ آئیرین خان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹس کمیشن محض انسانی حقوق کی ہارس ٹریڈنگ کا ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال اس کمیشن نے عراق کا جائزہ لینا ختم کر دیا، چیچنیا، زمبابوے اور نیپال میں حکمت عملی پر اتفاق نہ کر سکا، اور گوانتانامو بے کے معاملے پر بالکل خاموش رہا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں دنیا کے پانچ خطوں میں ایک سو اکتیس ممالک کا جائزہ لیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||