بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں مظاہرین نےمتنازعہ کارٹونوں کی اشاعت پر ایک مظاہرے کے دوران بیروت میں واقع ڈنمارک کے سفارتخانے کونذر آتش کردیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سفارت خانے کی عمارت کے باہر جمع تھے۔ تقریبا دو ہزار فوج اور پولیس کے جوان اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے ہجوم کو عمارت سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ لیکن مظاہرین کے عمارت میں داخل ہونے کے بعد سفارت خانے کی حدود میں واقع مکانات سے دھواں بلند ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ سنیچر کو مشتعل ہجوم نے دمشق میں واقع ڈنمارک اور ناروے کے سفارت خانوں کو نذر آتش کر دیا تھا اور مظاہرین ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگانے کے بعد مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے ناروے کے سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے تھے۔ بیروت میں متنازعہ کارٹونوں کے سلسلے میں کیا جانے والا احتجاج اس وقت تشدد کی شکل اختیار کر گیا جب اسلامی شدت پسندوں نے سکیورٹی کاروٹوں کو توڑ کر سفارت خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس واقعے میں تقریبا دس افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہوں نے شہر کےعیسائی اکثریتی علاقے میں املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے بارے میں بھی بتایا۔ اس سے قبل ڈنمارک اور ناروے نے اپنے شہریوں کو کہا تھا کہ وہ شام سے نکل جائیں۔ امریکہ نے دمشق میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانوں کو نذر آتش کیے جانے پر شام کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کا کہناتھا کہ سفارت خانوں کو اس قسم کا نقصان ناقابل معافی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ’امریکہ دمشق میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارت خانوں کے جلائے جانے کے عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس واقعے میں چلی اور سویڈن کے سفارت خانے بھی متاثر ہوئے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’شام کی حکومت کی ان سفارت خانوں کو تحفظ فراہم کرنےمیں ناکامی ناقابل معافی ہے‘۔ دمشق میں مظاہرین نے فرانس کے سفارت خانے کے پاس بھی جمع ہونے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں گزشتہ ستمبر میں پہلی بار توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت سے مسلم دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بعد میں چند یورپی ممالک نے یہ کارٹون دوبارہ شائع کیے ہیں جس کے باعث یہ تنازعہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور مسلم دنیا کے اشتعال میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جارہی ہے۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی کسی طرح کی بھی شبیہ چھاپنا جائز نہیں ہے۔ ان کارٹونوں کی اشاعت کے بعد بہت سے ممالک نے بطور احتجاج ڈنمارک سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے اور ان ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔ اردن کے دو اخبارات میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت نو کے بعد اخبار کے مدیران کو گرفتار کرلیا گیا۔ شام کے ڈنمارک سے اپنے سفیر کے واپس بلانے کے بعد شامیوں نے ڈنمارک کے سفارت خانے کے باہر دھرنا بھی دیا۔ اس واقعے کے بعد سے شام میں واقع ڈنمارک کا سفارت خانہ بند ہے تاہم اس حملے میں کسی سفارتی عملے کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازع: مکرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر02 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پراحتجاج جاری03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل03 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||