کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے ایک اخبار میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے بعد اخبار کے برطرف کیے گئے مدیر کو اب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اردن کے ذرائع ابلاغ کے قوانین کے مطابق اخبار کے مدیر جہاد مومانی پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جہاد مومانی کو ڈنمارک میں شائع ہونے والے ان کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد برطرف کردیا گیا تھا۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی کسی طرح کی بھی شبیہ بنانا جائز نہیں ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کا غیر ضروری اور غلط استعمال قرار دیا تھا۔ اخبار کے مدیر کو شاہ عبداللہ کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ مومانی نے اخبار میں تین کارٹون شائع کیے تھے اور اسلامی دنیا کے رد عمل پر سوال اٹھایا تھا۔ اپنے برطرف کیے جانے کے بعد جہاد مومانی نے ایک خط کے ذریعے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا۔ عرب پرنٹر کمپنی نے ملک بھر کے بازاروں سے اس اخبار کی کاپیاں واپس لے لی ہیں اور اس اقدام میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عہد کیا ہے۔ کئی ممالک بشمول عراق، ترکی، مصر اور انڈونیشیا میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر شدید غم و غصہ پایا جاتاہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں ڈنمارک میں شائع ہونے والے یہ کارٹون کئی یورپی اخبارات میں دوبارہ شائع کیے گئے ہیں تاہم اردن ایسا کرنے والا پہلا اسلامی ملک ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی تنازعہ کے سلسلے میں اردن کے ایک اور اخبار کے خلاف بھی انکوائری کی جارہی ہے۔ دریں اثناء شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل افراد نے ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگادی ہے۔ شام میں مظاہرین روزانہ ہی اس سفارتخانے کے آگے دھرنا دے رہے ہیں۔ کئی عرب ممالک نے ڈنمارک کے اس اقدام کے بعد بائیکاٹ، موت کی دھمکیاں اور سفارتی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ | اسی بارے میں خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم ’تہذیبوں کے تصادم کو ہوا ملے گی‘03 February, 2006 | پاکستان کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول کیا معاملہ واقعی آزادیِ اظہار کا ہے؟04 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||