BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 February, 2006, 04:22 GMT 09:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شام: حکومت نے کوتاہی برتی ہے‘
شامی مظاہرین
کئی ممالک میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر شدید غم و غصہ پایا جاتاہے
امریکہ نے دمشق میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانوں کو نذر آتش کیے جانے پر شام کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ایسا شام کی حکومت کی ایما پر کیا گیا ہے وگرنہ یہ ممکن نہیں ہے۔

اس سے پہلے ڈنمارک اور ناروے نے بھی دمشق میں اپنے سفارتخانوں کو نذر آتش کیے جانے پر شام کی حکومت پر تنقید کی ہے اور اپنے شہریوں کو شام سے فوراً نکل جانے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈنمارک اور ناروے نے کہا ہے کہ شام نے اپنے بین الاقوامی فرائض پورے کرنے میں کوتاہی سے کام لیا ہے۔

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں ان دونوں ملکوں میں چھپنے والے کارٹونوں کی وجہ سے دمشق میں ان کے سفارت خانوں پر ہجوم کے حملے کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ شام کے حکام کی بے عملی کی وجہ سے یہ حملے ممکن ہوئے اور یہ بات نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ شام کو فوراً چھوڑ دیں۔

دمشق میں ہجوم نے فرانس کے سفارت خانے پر بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے اس کا راستہ روک دیا۔

متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت پر شام کے مشتعل عوام نے ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانے نذر آتش کردیے تھے۔

ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگانے کے بعد مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے ناروے کے سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے۔

پولیس نے آنسو گیس کے استعمال سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی اہلکار مشتعل مظاہرین کو روک نہ سکے۔

ڈنمارک کے ایک اخبار نے گزشتہ ستمبر میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کی تھی۔

بعد میں چند یورپی ممالک نے یہ کارٹون دوبارہ شائع کیے ہیں جس کے باعث یہ تنازعہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور مسلم دنیا کے اشتعال میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جارہی ہے۔

اردن کے ایک اخبار میں متنازعہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد اخبار کے برطرف کیے گئے مدیر کو اب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اردن کے ذرائع ابلاغ کے قوانین کے مطابق اخبار کے مدیر جہاد مومانی پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اردن یہ کارٹون شائع کرنے والا پہلا اسلامی ملک ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ نے کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کا غیر ضروری اور غلط استعمال قرار دیا تھا۔ اخبار کے مدیر کو شاہ عبداللہ کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

کئی ممالک بشمول عراق، ترکی، پاکستان، مصر اور انڈونیشیا میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ ان ممالک سے کاروباری اور تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کررہا جہاں یہ کارٹون شائع کیے گئے ہیں۔

ادھر رومن کیتھولک چرچ نے بھی کارٹون شائع کرنے کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ ویٹیکن کے ایک ترجمان جوکن ناوارو کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار کا مطلب کسی کے مذہبی عقائد و جذبات مجروح کرنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پر امن طور پر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ قومیں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔

اسی بارے میں
خبر کا جبر
04 February, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد