پشاور: حکومت کا احتجاجی مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نےمنگل کو پشاور میں ایک احتجاجی جلسہ عام میں ڈنمارک کے اس اخبار کے مدیر اور کارٹونسٹ کی گرفتاری اور سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جس نے پیغمبرِ اسلام سے متعلق کارٹون شائع کیے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کی اپیل پر یہ احتجاجی مظاہرہ پشاور کے خیبر بازار میں منعقد ہوا۔ ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس کے طلبہ اور ایم ایم اے کے کارکنوں نے اس میں شرکت کی۔ مظاہرین نے یورپی ممالک کے خلاف نعرہ بازی کی اور ان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا اگرچہ یہ کارٹون امریکہ میں شائع نہیں ہوئے تاہم مظاہرین نے ’امریکہ اور بش مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر ڈنمارک کے وزیراعظم اور کارٹونسٹ کے پتلے نذر آتش بھی کیے گئے۔ اس احتجاج کی قیادت صوبائی وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے کی جبکہ کئی صوبائی وزراء بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے مظاہرین سے خطاب میں اس کارٹونسٹ کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت عالم اسلام اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نےمظاہرین کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور اپیل کی کہ مندروں اور گرجاگھروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔انہوں نے آئندہ جمعہ کو صوبے بھر میں پرامن احتجاج کی اپیل بھی کی۔ مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں تاریخی قصہ خوانی بازار تک مارچ کیا۔ دیگر مقررین میں جماعتہ دعوۃ کے رہنما بھی شامل تھے جنہوں نے جہاد کی اہمیت پر زور دیا۔ صوبہ سرحد میں کارٹون کی اشاعت کے بعد سے چھوٹے موٹے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے تاہم پشاور میں اب تک کا یہ سب سے بڑا احتجاج تھا۔ ادھر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں بھی اسی قسم کا احتجاج منعقد ہوا۔ | اسی بارے میں کارٹون پر پاکستان کا احتجاج02 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازعہ، سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان کارٹون: نو سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کامعاملہ کشمیرپرچھایارہا 05 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||