BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 23:17 GMT 04:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ آدم خیل میں احتجاج

امریکہ نے ایران اور شام پر لوگوں کے جذبات بڑھکانے کا الزام عائد کیا ہے
پاکستان میں بھی توہین رسالت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا تاہم ابھی تک یہ مظاہرے پرامن رہے ہیں۔

قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں نے جلوس نکالا اور امریکی صدر جارج بش کا پتلہ نذر آتش کیا۔

پشاور اور کراچی میں بھی مختلف تنظیموں کے علاوہ محرم کے ماتمی اجتماعات میں بھی اس مسئلہ پر احتجاج ہوا ہے۔

بدھ کے روز کا سب سے بڑا احتجاج قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کی۔ سیاہ پرچم اٹھائے ان قبائلیوں نے عباس چوک تک مارچ کیا اور امریکی صدر جارج بش کا پتلہ نذر آتش کیا۔

اس احتجاج کا انتظام قبائلیوں کی قومی تحریک نے کیا تھا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں ڈنمارک کے سفیر کو فورا ملک سے نکال دینے اور اس ملک سے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

درہ آدم خیل پاکستان اور بین القوامی سطح پر اسلحے کی ایک بڑی منڈی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ تاہم آج احتجاج میں تمام تاجروں نے بھی شرکت کی اور اپنا کاروبار بند رکھا۔

ادھر صوبائی دارالحکومت پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹ اور پشاور پریس کلب کے اراکین نے بھی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور کارٹون کی اشاعت میں ملوث افراد پر مقدمہ چلانے اور حکومت سے ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا۔

بعد میں صحافیوں نے ڈنمارک کا پرچم نذر آتش بھی کیا۔

پشاور میں سپیر پارٹس اور ہوٹل ایسوسی ایشن کے علاوہ کئی دیگر تاجر تنظیموں نے بھی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔

پشاور میں صدر کے علاقے میں محرم کی مناسبت سے نکلنے والے ایک ماتمی جلوس میں بھی ڈنمارک کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔

یہی صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نشتر پارک سے نکلنے والے ماتمی جلوس میں بھی سننے میں آئی۔ شرکاء نے بھی ڈنمارک کا پرچم نذر آتش کیا۔

اس کے علاوہ جعمیت علمائے پاکستان نے کراچی پریس کلب جبکہ اسلامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ایم اے جناح روڈ پر کارٹونوں کے خلاف احتجاج کیا۔

پاکستان میں اب تک کا احتجاج پرامن رہا ہے۔ تاہم یہ سلسلہ آئندہ کئی روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ آئندہ جمعہ صوبائی حکومت نے ایک مرتبہ پھر صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد