BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: مظاہرے، مزید چار ہلاک
افغانستان میں مظاہرین(فائل فوٹو)
اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور او آئی سی نے مسلمانوں سے امن کی مشترکہ اپیل کی تھی
افغانستان میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں مزید چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد قلات میں اس وقت پولیس کی گولی کا نشانہ بنے جب پولیس نے ہجوم کو امریکی فوجی اڈے کی طرف بڑھنے سے روکنا چاہا۔

اس واقعے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔


پولیس نے بتایا کہ تیس افراد کو گاڑیوں کر آگ لگانے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

کابل سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ادھر کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔


دریں اثناء فرانس میں ایک اور جریدے چارلی ہیبدو نے خاکے شائع کیے ہیں۔ اس جریدے کو خاکوں کی اشاعت کے لیے منگل کو ایک عدالتی فیصلے کی بھی حمایت حاصل ہو گئی جہاں ملک میں اسلامی تنظیموں نے شکایت کر رکھی تھی کہ خاکوں کی اشاعت سے ان کے مذہب کی توہین ہو گی۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور او آئی سی نے مسلمانوں سے امن کی مشترکہ اپیل کی تھی۔


اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدیداروں نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر امن کی مشترکہ اپیل کی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر اداروں میں ان کے ہم منصب افراد نے کارٹونوں کو نفرت انگیز اور مسلمانوں کے لیے موجبِ آزار قرار دیا۔ تاہم انہوں نےان کارٹونوں سے پیدا ہونے والے پُر تشدد عالمی ردِ عمل پرخطرے سے بھی خبردار کیا۔


تین عالمی اداروں کی طرف سے امن کی اپیل ڈنمارک کے وزیرِ اعظم کی اس پریس کانفرنس کے بعد کئی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے ’عالمی بحران‘ پیدا ہوگیا ہے۔

مسلم ممالک میں پُرتشدد ردِ عمل پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس سے اسلام کے پُرامن تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے اخبارات کی آزادی میں احتیاط اور ذمہ داری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے واقعات نے بات چیت کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد