BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 February, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون احتجاج، سیاسی بحران
مشتعل مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ڈنمارک کے سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اتوار کو ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملے اور اسے نذر آتش کیے جانے کے بعد ملک سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے یہ کارروائیاں ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون شائع کیے جانے کے خلاف احتجاجاً کی تھیں۔

ان مظاہروں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ لبنان کے وزیر داخلہ نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے جبکہ فوج کے کمانڈر نے بھی اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی ہے۔

اگرچہ لبنانی حکومت نے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کی ہے تاہم ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملے پر بھی وہ پشیمان ہے اور حکومت نے اس واقعے پر ڈنمارک سے معذرت بھی کی ہے۔

سنیچر کو مشتعل ہجوم نے دمشق میں واقع ڈنمارک اور ناروے کے سفارت خانوں کو نذر آتش کر دیا تھا اور ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگانے کے بعد مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے ناروے کے سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے تھے۔

بیروت میں متنازعہ کارٹونوں کے سلسلے میں کیا جانے والا احتجاج اس وقت تشدد کی شکل اختیار کر گیا جب اسلامی شدت پسندوں نے سکیورٹی رکاوٹوں کو توڑ کر سفارت خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

حکومت کا موقف ہے کہ ان اشتعال انگیز واقعات سے لبنان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس سے ملک کے استحکام کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کی بھرپور تحقیق کا وعدہ کیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان کارروائیوں میں بیرونی خفیہ ایجنسی کے ہاتھ کے امکان کو بھی رد نہیں کررہے۔

اس سے لبنانی حکومت کا اشارہ ہمسایہ ملک شام کی طرف معلوم ہوتا ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لبنان میں شبہہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملک میں شدید احتجاجی مظاہروں اور ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگانے کے واقعات کا تعلق شام سے ہوسکتا ہے جس کے بنیاد پرست گروپوں نے ممکنہ طور پر لبنان کے سنی بنیاد پرست حلقوں کو ان کارروائیوں کے لیے بھڑکایا۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ لبنان میں عدم استحکام اور افراتفری پھیلانے کی سازش ہے۔

لبنان میں مظاہروں کے بعد حراست میں لیے گئے دو سو افراد میں سے قریباً نصف شامی ہیں۔

اسی بارے میں
افغانستان:2 مظاہرین ہلاک
06 February, 2006 | آس پاس
کارٹون: نو سفیروں کی طلبی
04 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد