افغانستان:2 مظاہرین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں یورپ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف ایک مظاہرے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد لغمان کے مشرقی صوبے میں ایک مظاہرے میں ہلاک ہوئے۔ ایک شخص موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے نے جلال آباد کے ہسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا اور اسی لیے اسے گولی چلانی پڑی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہجوم میں موجود طالبان اور القاعدہ کے ارکان ان اموات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو اکسایا تھا۔ ادھر دارالحکومت کابل میں بھی تقریباً دو سو افراد نے ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قندھار اور مزار شریف میں بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے۔ ان کارٹون کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق افغانستان میں ہلاک ہونے والے یہ دو افراد اس احتجاجی مہم کی پہلی ہلاکتیں ہیں۔ |
اسی بارے میں اسلامی دنیا میں شدید ردِ عمل02 February, 2006 | آس پاس بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس مظاہرین گرفتاریاں: پولیس پر دباؤ05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||