BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 February, 2006, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونوں کی اشاعت پراحتجاج:آپ کا ردعمل
اس فورم پر آنے والی آراء میں سے ایک رائے فلوریڈا سے ڈاکٹر واحد بلوچ کی ہے جن کا کہنا ہے:

’ مغرب میں حکومت کے پاس بہت کم طاقت ہوتی ہے۔ یہاں کی زندگی کا بنیادی اصول ہے آزادی اظہار، اور اس میں مذہبی اعتقادات کی توہین بھی شامل ہے۔ اس قسم کے معاملات میں حکومت کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اسی طرح ڈنمارک کے لوگوں نے بھی ان کارٹونوں کی کوئی حمایت نہیں کی کیونکہ وہ بھی آزادی اظہار کے حامی ہیں۔ اس سے پہلے یہ اخبار حضرت عیسٰی کے کارٹون بھی شائع کر چکے ہیں اس لیے بہترین احتجاج یہ ہے کہ آپ ایسے اخباروں کا بائیکاٹ کر دیں۔‘

ڈاکٹر واحد بلوچ کی رائے پر آپ کا کیا رد عمل ہے۔

آپ کی رائے: حصہ دوئم

اب یہ فورم بند ہو چکاہے۔قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے بعدگزشتہ جمعہ سے پوری دنیا میں شدید احتجاج کا سسلسلہ جاری ہے۔لبنان میں ڈنمارک کے سفارتخانے کونذر آتش کردیاگیا ہے، جبکہ مسلمان ممالک کے علاوہ یورپ میں بھی مختلف سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

کیا مغرب اور مسلمانوں کے سوچنے کے انداز میں واقعی فرق ہے؟ کارٹونوں کی اشاعت سے مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات پر دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں؟ احتجاج کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکیں گے یا اس کے اثرات منفی ہوں گے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔


نشا خان، ورجینیا، امریکہ:
میں ڈاکٹر واحد بلوچ صاحب سے اتفاق کرتی ہوں۔
میں تو اتنا کہتی ہوں کہ ہم مسلمانوں تو خود حضرت محمد (صلعم) کے نقش قدم پر نہ چل کر کارٹون بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں پریکٹیکل اسلام میں آنا چاہیے نہ کہ صرف قلمی اور جذباتی مسلمان۔ ہمیں احتجاج کرنا چاہیے لیکن کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے ہم غیر مسلموں کو کوئی نقصان پہنچائیں۔

نوراحمد قاسمی، پشین، پاکستان:
یہ صرف اور صرف مسلمانوں کا امتحان ہے، اگرمسلمان ڈٹ گئے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے اور اگر سست روی دکھائی تو مغرب سے ہمیں یہی امید ہے کہ وہ آئندہ بھی یہی کریں گے۔

شبیر احمد صاحبزادہ، پاکستان:
کسی کو بھی ’آزادی اظہار‘ کے نام پر قابل احترام ہستیوں کا مذاق اڑانے کا حق نہیں ہے۔ میں تمام مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

عاطف خان، اسلام آباد:
میں نہیں مان سکتا کہ ایڈیٹر کو یہ نہیں پتا تھا کہ اس کی اس حرکت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔اس قسم کے واقعات مسلم اور غیر مسلم دنیا میں فاصلوں کو بڑھاتے ہیں ان کے نتائج دونوں کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔میرا خیال ہے بائیکاٹ کا فیصلہ ٹھیک ہے۔

انیس خان، سپرنگ فیلڈ، امریکہ:
ہمیں کارٹون پر احتجاج کرنا چاہیے لیکن ایسے نہیں جیسے ہم لوگ کر رہے ہیں۔ نبی (صلعم) کے سامنے لوگ انہیں گالی دیتے تھے لیکن نبی نے انہیں کچھ نہیں کہا، معاف فرما دیا سب کو لیکن ہم اتنا ایشو بنا رہے ہیں اس کو۔ ہم خود کتنے گناہ کر رہے ہیں، شراب نوشی، سود اور شادی کے بغیر جنسی تعلقات۔۔۔ یہ سب کارٹون سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں نبی کو۔ہمیں اس دور میں سوچ سے کام لینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخلاق سے لوگوں کو اسلام سمجھائیں نہ کہ پاگل پن سے ان کو اسلام سے اور بھی دور کریں۔ ہمیں ایسا احتجاج نہیں کرنا چاہیے جس سے اپنا یا کسی غیر مسلم کا کوئی نقصان ہو۔

زبیرگوندل، لاہور:
اسلام سب کا احترام کرتا ہے لیکن اگر کوئی اسلام کا احترام نہیں کرتا تو اسے ضرور سزا دی جانی چاہیے اس وقت تک جب تک وہ معافی نہ مانگ لے۔

محمد خرم بھٹی، امریکہ:
آزادی اظہار بالکل فضول بات ہے۔ مجھے ایسے ملک کا نام بتائیں جو آپ کے خیال میں آزادی اظہار کا علمبردار ہے، میں آپ کو بتاؤں گا کہ وہاں کن کن چیزوں پر بات نہیں ہو سکتی۔ مسلمان اپنے پیغمبر کے احترام کا مطالبہ برابری کی بنیاد پر کر رہے ہیں، یکطرفہ نہیں۔

صنوبر خان، کراچی:
ہم مغرب کو اپنے مذہب کے ساتھ کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عبدالمجید نورانی، کراچی:
آزادی رائے اور کسی کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے میں فرق ہے۔

محمد زاہد خان، سوات:
افسوس ہوتا ہے کہ اتنے سارے مسلمان ملک مل کر کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان جو اپنے آپ کو اسلام کا قلعہ کہتا ہے اس کی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ہم سے تو ہزار درجے اچھا ایران ہے۔ جس نے جواب میں ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ یہ سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ کاش میں پاکستانی نہیں ایرانی ہوتا۔

رضوان علی، پاکستان:
مسلمان پہلے تو کچھ نہیں کرتے مگر جب ان کو تنگ کیا جاتا ہے تو آرام سے بیٹھنا مشکل ہے۔ پہلے ہی اپنے سوچوں کو ایسا رکھا جائے مسلمان تنگ نہ ہوں۔ مگر آپ یہ ہی دیکھ لیں جہاں کوئی اسلامی ملک گوروں کی بات ماننے سے انکار کرتا ہے وہاں ہی اس کو مسل دیا جاتا ہے۔

عنصر میمن، شکار پور:
یہ مغرب کا ڈبل سٹینڈرڈ ہیں یہودیوں کے مظالم تو میڈیامیں آ نہیں سکتے۔

محبوب الٰہی، راولپنڈی:
مغرب کی طرف سے مکالمے اور رواداری کی باتیں سب مصنوعی ہیں۔

نوید ہنجرہ، گھوٹکی:
یہ کارٹون چھاپنے کا مقصد مسلمانوں کو آزمانہ تھا کہ وہ کس طرح کا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو احتجاج کرنا چاہیے لیکن تشدد کی صورت میں نہیں لیکن وہ ان ملکوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔

اسفر خان، نامعلوم:
یہ مسلمانوں کو ٹیسٹ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں دم خم ہے یا کہ نہیں۔ اس کے بعد اور بھی بہت کچھ شائع ہو گا۔

زاہد حسین، مردان:
یہ وقت ہے مسلمانوں کےمتحد ہونے کا اور یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا۔

سفی اللہ، سرگودھا:
غیر مسلم مسلمانوں کی برداشت دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پر کتنا برداشت کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے احتجاج کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں اور ان کو جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

محمد آصف، کراچی:
مغربی معاشرہ در حقیقت اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاقی صفات سے محروم ہے۔ وہاس عزت ذلت، ادب واحترام، محبت نفرت سب کچھ جبلی اور اقتصادی مفادات کے تابع ہے۔ ایسے لوگوں کا علاج مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

سید ابرار گردیزی، راولپنڈی:
نبی کا فرمان ہے ’تم میں سے کوئی اس وقت تک ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں ا سکے لیے اس کے ماں، باپ اور اولاد سے زیادہ پیارہ نہ ہو جاؤں‘۔ ہم اپنے پیار کی توہین کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔ اس حرکت کا سختی سے نوٹس لینا ضروری ہے۔

مغرب سے مکالمہ کرنا چاہیے
 مسلم قوم کو اس موقعے پر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ ایک مہذب اور متحد قوم ہیں۔ توڑ پھوڑ کی بجائے پر امن احتجاج کریں۔ سارے عالمِ اسلام کو ایک مرکزی نظامِ خلافت قائم کرنا چاہیے تا کہ مغرب سے پر امن مکالمہ کر سکیں۔
ہمایوں ارشد، کراچی

ہمایوں ارشد، کراچی:
مسلم قوم کو اس موقعے پر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ ایک مہذب اور متحد قوم ہیں۔ توڑ پھوڑ کی بجائے پر امن احتجاج کریں۔ سارے عالمِ اسلام کو ایک مرکزی نظامِ خلافت قائم کرنا چاہیے تا کہ مغرب سے پر امن مکالمہ کر سکیں۔

نامعلوم:
آزادی کے کچھ حدود ہونے چاہیں بےلغام گورے کی طرح نہ ہو جو کسی کو زخمی کر دے اور کہے یہ میری آزادی ہے۔ اس کے لیے انٹرنیشنل قانون ہونا چاہیے۔

نزامانی، حیدر آباد:
جو رردِ عمل سامنے آیا ہے وہ ایک عام بات ہے کیونکہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں تو یہ ایک فطری بات ہےان کے بارے میں برا نہیں سوچ سکتے۔ مغرب نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ غلط کیا میں پوچھتی ہوں کہاں ہیں وہ ہتھیار جن کو جواز بنا کر عراق پر حملہ کر کے معصوم جانوں کے ساتھ کھیلا گیا۔ ابھی بھی وقت ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سوچیں اور مغرب کی غلامی نہ کریں۔

خان پٹھان، ٹورانٹو:
جہاں تک بائیکاٹ کا تعلق ہے ہم سب جانتے ہیں کہ ڈنمارک پر تجارتی پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں۔ 3-4 بڑی فارمیسوٹیکل کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں جو سر درد سے لے کر شوگر اور دل کے مرض کی دوائیاں بناتی ہیں۔ عقل کا تقاضہ یہی ہے کہ ان کا بائیکاٹ نہیں ہو سکتا ۔ امیر لوگ تو باہر سے دوائیاں منگوا لیں گے ہم غریبوں کا کیا ہو گا۔

عاصمہ فہیم، پاکستان:
ڈاکٹر واحد بلوچ جیسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے۔ یہ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ اگر ہمیں گالی دیں تو ہم لڑ پڑیں گے ہمارے بنی کی بہ حرمتی کی جائے تو ہم بے حس بنے رہتے ہیں۔ ہمارے نبی ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیزہیں۔ مغربی ممالک کی تمام چیزوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو اپنے جذبات کا تو خیال رکھتے ہیں ہمارے جذبات کا نہیں۔

سہون شریف کا فقیر، دادو، پاکستان:
انہیں ایسے ہزاروں کارٹون شائع کر لینے دیں، سندھی سب سے زیادہ سیکولر مسلمان ہیں۔ ہم ان باتوں سے اشتعال میں نہیں آئیں گے۔

سجاد، جھنگ، پاکستان:
آزاد دنیا تو جانوروں کے جذبات کا بھی احترام کرتی ہے۔ انہیں آدھی دنیا کے جذبات کو نہیں کچلنا چاہیے تھا۔

آصف منہاس، ٹورانٹو:
ڈاکٹر واحد بلوچ سے روس کے صدر پوٹن کی سوچ اچھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آزادی کے باوجود اگر بچوں کی فحش تصاویر شائع نہیں ہو سکتیں تو مسلمانوں کی دل آزاری کا بھی کوئی حق نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ کے کارٹون بناتے ہیں چرچ میں ان کامجسمہ بھی ہوتا ہے لیکن حضرت محمد کی تصویر بنانے کی مسلمان طبقہ اجازت نہیں دے سکتا۔

محمد شکیل، دبئی:
اس کا جواب علامہ اقبال کا شعر ہے۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

شمس، پاکستان:
مغربی ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کر دیں اور ان کے سفارتکاروں کو اسلامی ممالک سے باہر نکال دیں۔

شاہد خٹک، کرک:
ابھی وقت ہے کہ مسلمان ممالک اس کا جواب دیں اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو پھر ہمارا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ تمام مسلمانوں کو متعلقہ ممالک کی ہر چیز کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

نبیل وڑائچ، شارجہ:
مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں لیکن نبی کی توہین کوئی مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ یورپ نے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا لیکن مسلمان آج بھی اپنے مذہب کو اہم سمجھتے ہیں۔ مغرب کو حق نہیں پہنچتا کہ ہمارے مذہبی رہنماؤں کی توہین کرے۔

عبدالوحید، نامعلوم:
ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرے۔ مسلمانوں کو اس کے خلاف پرزور احتجاج کرنا چاہیے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
ڈاکٹر واحد بلوچ نے جو بات کی اس سے تولگتا ہے کہ وہ کارٹون بنانے اور چھاپنے والوں کے وکیل ہیں۔

قادر قریشی، ٹورانٹو:
اس واقعے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس سے ان کا حوصلہ بڑھے گا۔ جب یورپ اور امریکہ معاشی پابندیاں لگا کر ایران، عراق اور لیبیا میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر سکتے ہیں توہم کیوں بائیکاٹ نہیں کر سکتے۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
ڈاکٹر واحد بلوچ کی آراء سے میں پوری طرح متفق ہوں کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ یورپی ممالک کے لوگوں کے پاس ان قدروں کی کمی ہے جن کا تعلق جذبات سے ہو۔

مدثر احمد، یونان:
انتہائی غلط حرکت کی ہے جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

عبداللہ بھٹی، کراچی:
یہ انتہائی گھناؤنا اقدام ہےکہ آپ کسی ہستی کی توہین کریں جو دوسروں کے ایمان کا حصہ ہو۔ دراصل یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ ایسے اقدامات انسانیت کو ایک خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ناممعلوم:
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا کارٹون سامنے نہیں آنا چاہیے تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ شاید جان بوجھ کر شائع کیا گیا ہے۔

یاسر محمود سلیمانی، ایبٹ آباد:
یہ ایک انتہائی غلط اقدام ہے۔ یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ کم از کم اپنے اخبارات کو ضابطہ اخلاق ہی سیکھا دیں۔ ڈنمارک کی حکومت سے پوچھنا چاہوں گا کہ کسی کی برطرفی سے کیا اتنی بڑی توہین کا ازالہ ہوسکتا ہے؟

ہمارا مذہب آج بھی ہمارے لیے اہم ہے
 مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں لیکن نبی کی توہین کوئی مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یورپ نے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا لیکن مسلمان آج بھی اپنے مذہب کو اہم سمجھتے ہیں۔ مغرب کو حق نہیں پہنچتا کہ ہمارے مذہبی رہنماؤں کی توہین کرے۔
نبیل وڑائچ، شارجہ

محمد یوسف بھٹہ، گجرات:
یہ صرف مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور اسلام کو برا کہلوانے کے لیے کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سرفراز عباسی، امریکہ:
مسلم دنیا کو ڈینش مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور مسلمانوں کو متحد ہو کر ایک کرنسی اور ڈیفنس بنانا چاہیے۔

سید محمد رضا، کراچی:
یقیناً یہ ایک گھناؤنی حرکت ہے لیکن ایسے لوگوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایسی حرکت سے تمام مسلمان متحد ہو جاتے ہیں۔

فخر صاحبزادہ، لاہور:
میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلمان اب ایک ہو جائیں اور کفار کا منہ توڑ جواب دیں۔

کاشف خان، ملتان:
مغرب مسلمانوں کے حساس ایشوز کو چھیڑ کر تنگ کرنا چاہتا ہے۔ ہم اس وقت کمزور ہیں اور ہمارے حکمران امریکہ اور مغرب کے غلام ہیں۔

محمد حنیف، جھنگ:
تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ متعلقہ ممالک کے ساتھ ہر قسم کا بائیکاٹ کریں۔

کاشف چوھدری، یو اے ای:
حیرت اور افسوس ہوا ان کارٹونوں کو دیکھ کر اور یہی کیفیت بی بی سی اردو کا پول (ووٹ) دیکھ کر ہوئی۔ مسلمان آج اس قابل نہیں ہیں کہ اس قسم کی حرکت کا موثر جواب دے سکیں۔ لہذا ہمیں پر امن احتجاج کرنا چاہیے اور تخریب کاری اور تشدد سے پرہیز کرنا چاہیے۔

علی مرتضیٰ، پاکستان:
میرے خیال میں ہمیں تحمل سے کام لینا چاہیے لیکن ہمیں ا س پر او آئی سی کے ذریعے مکالمہ کرنا چاہیے۔

محمد احمد، امریکہ:
کیا واقعی یورپ میں آزادیِ رائے ہے؟ نہیں۔ وہ صرف مسلمانوں اور ان کے پیغمبر کے خلاف آزادی سے لکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ آسٹریا نے ڈیویڈ اروینگ جو کہ ایک مانے ہوئے تاریخ دان تھے ان کو ہالوکاسٹ کے واقعے سے انکار پر جیل میں ڈال دیا تھا۔

نامعلوم:
مغربی دنیا کو کوئی عمل کرنے سے پہلے اس کے انجام کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔ یہ کارٹون شائع کر کے انہوں نے ہمارے مذہب کی تو ہین کی ہے۔ جو احتجاج ہو رہے ہیں وہ بلکل صحیح ہیں۔ اگر ہم آج چپ رہیں تو ہمیں پھر نشانہ بنایا جائے گا۔ مغربی دنیا دنیا بھر کے مسلمانوں کےدلوں میں نفرت پیدا کر رہی ہے۔

فہیم الدین، پرتگال:
ان کو کم از کم یہ تو پتہ چل گیا کہ ہم مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنے رسول کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔

راؤ وسیم ظفر، پاک پتن:
آزادی کا مطلب کسی کی دل آزاری نہیں ہوتا ۔ دنیا کے مسلمان اپنے مسلک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ وہ جو اپنے پیغبر کی تصویر بھی نہیں لگاتے وہ کیسے برداشت کریں گے کہ ان کا کارٹون شائع ہو۔ جہاں کسی کو تکلیف ہو گی وہ احتجاج تو کرے گا۔ ایسی آزادی کا کیا کرنا جس میں دوسروں کی دل آزاری ہو۔ مسلمانوں کا احتجاج اچھی بات ہے۔

امجد، دوہا:
جاہل لوگ یہ نہیں جانتے کہ اس حرکت سے ہمارے نبی کی عزت اور بھی ہمارے دلوں میں بڑھ گئی ہے۔

عدیل خاکی، پاکستان:
مغرب چار سو سال سے مختلف بہانوں سے پوری دنیا کا استحصال کر رہا ہے۔ ابھی بھی وہ مسلم دنیامیں موجود وسائل کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ مسلمانوں کو مشتعل کراتے ہیں تا کہ مغربی عوام کے سامنے مسلمانوں کی غلط تصویر پیش کر سکیں۔ مغرب والے علمی ضرور ہیں لیکن ان کی اخلاقیات خواہشات کی غلام ہے۔

یہ خواہشات کے غلام ہیں
 مغرب چار سو سال سے مختلف بہانوں سے پوری دنیا کا استحصال کر رہا ہے۔ مغرب والے علمی ضرور ہیں لیکن ان کی اخلاقیات خواہشات کی غلام ہے۔
عدیل خاکی، پاکستان

راجہ یوسف، سعودی عرب:
ساری امت مسلمہ کو فوری طور پر ڈینمارک سے اپنے سفارتی مشن واپس بلا لینے چاہیں اور ڈینش مشن کو فوراً ملک چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دینا چاہیے۔ ایسی حرکت کرنے والوں کے ساتھ بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

عارف جابر قریشی، سندھ:
اسلام امن کا مذہب ہے۔ اس طرح کے کارٹون کی اشاعت سے عالمِ اسلام کے جذبات سخت مجروح ہوئے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے دو تہذیبوں میں نفرت بڑھے گی۔ مسلمانوں پر دہشتگردی کا الزام لگانے والے بتائیں کیا یہ دہشتگری سے بڑا عمل نہیں۔

محمد طاہر جمیل، قطر:
جب بھی بڑے انسانوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے حضرت محمد کا نام سرِ فہرست ہوتا ہے۔ اتنی بڑی ہستی کی بےحرمتی کیسے برداشت کی جا سکتح ہے؟ مسلمانوں کو معاشی اقدامات کرنے چاہیں تا کہ دوبارہ یہ گستاخی نہ کر سکیں۔

سید حق، کراچی:
شاید مغرب مسلمانوں کو جانچنا چاہتا ہے۔ یہ کارٹون مسلسل چھاپے جا رہے ہیں اس طرزِ عمل کو کیا نام دیا جائے؟

محسن رانا، لندن:
آزادیِ رائے اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذہب کی توہین کی جائے۔ آزادیِ رائے جمہوریت اور انسانی حقوق کا بھی بنیادی اصول ہے۔

فرید خان، یو کے:
مسلمان دوسروں کے مذاہب کا مذاق نہیں اڑاتے۔ ان لوگوں کوسزا ملنی چاہیے تا کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

مجتبیٰ حیدر، ناروے:
ناروے نے اس سال کے شروع میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اب دیکھ لیں کیسی ہوشیاری سے یہودیوں نے ستمبر کے واقعے کو استعمال کیا ہے۔

محمد خان، امریکہ:
ان کارٹونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق یہ لوگ بہت کم جانتے ہیں۔

ارسلان شاہ، اسلام آباد:
یہ یورپ کے مہذب معاشرے کے لیے شرم کا مقام ہے۔ مسلمان ملکوں میں اتنے احتجاج ہوئے لیکن بد قسمتی سے کسی لیڈر نے اور خاص طور پر پاکستان کے لیڈروں نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔

سریر، سری نگر:
مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ان کے مذہب کو یوں نشانہ بنانا یا ان کے جذبات کے ساتھ کھیلنا عالمی امن کےلیے کسی بھی طرح صحت مند نہیں ہے۔

عزیز خان، راولپنڈی:
کاش آج شاہ فیصل زندہ ہوتے یا مہاتیر محمد اقتدار میں ہوتے جو احمدی نژاد کے شانہ بشانہ یورپ اور امریکہ کو مل کر جواب دیتے۔ آج احمدی نژاد اکیلے مغربی دنیا کا سامنا کر رہے ہیں باقی سب اپنی کرسی کا رونا رو رہے ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
پل پل بدلتی اس صورتحال کا نقصان یورپی ممالک کو ہو رہا ہے جو پوری دنیا میں بدنام ہو رہے ہیں۔ ان ملکوں کو اس کا اندازہ تو ہو چکا ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے کیا بھگتنا بھی انہیں پڑ رہا ہے۔ مغرب کے لیے یہ ایک فرسودہ بات ہے لیکن مسلمان مذہب کے لیے مرنے کو فخر کی بات سمجھتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔

صائمہ مرزا، لندن:
اسلام مسلمانوں کو سختی سے منع کرتا ہے کہ وہ دوسرہ مذاہب اور ان کی علامتوں کو برا کہیں کیونکہ وہ آپ سے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر لوگ صرف ایک دوسرے کے عقائد کی عزت کرنا سیکھ لیں تو اس قسم کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ میرے خیال میں ایک بے وقوف شخص بھی اگر کارٹونوں کو شائع کرنے سے پہلے دیکھتا تو اسے پتا چل جاتا کہ وہ غلط کر رہا ہے اور اس سے نفرت پھیلے گی۔

یہ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے
 ان کارٹونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق یہ لوگ بہت کم جانتے ہیں۔
محمد خان، امریکہ

ڈاکٹر احمد، برمنگھم، انگلینڈ:
کارٹون اس لیے شائع کیے گئے تھے تاکہ مسلمان غصے میں آ کر مار دھاڑ کریں اور نتیجہ کے دور پر یورپی عوام میں جو محبت اور ہمدردی روز بروز بڑھ رہی ہے اس کو کم کیا جائے اور اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کیا جا سکے۔

حفیظ رحمٰن، آکلینڈ، نیوزی لینڈ:
یورپ کا شکریہ کہ اس نے مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ ایک مسئلہ پر اکٹھا ہو جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ موجودہ صورتحال مسلمانوں میں اتحاد کو فروغ دے گی جو کہ مسلمانوں کی بیتری کے لیے ضروری ہے۔

ابصار حسین، کراچی:
ہمارے پیارے نبی نے ہمیں صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی اور ہمیں ہر صورت میں صبر کرنا چاہیے۔ کارٹونوں کا اصل مقصد ہمیں بڑھکانا تھا اور ہم اس چال میں آ گئے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ اب اسلام جیسے پر امن مذہب کو دہشتگرد کہا جا رہا ہے۔

ثناخان، کراچی:
مسلمانوں کا احتجاج بالکل جائز اور نارمل ہے پر اس کا سیاسی فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ اگر ایسا کارٹون کسی یہودی پر ہوتا تو ڈنمارک ہی نہیں امریکہ بھی اسرائیلیوں سے معافی مانگ چکا ہوتا۔ بہرحال مسلمانوں کو بھی محتاط رد عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔

شاہد راجپوت، سیالکوٹ:
عزت کر اور عزت کراؤ۔ ایک پرامن زندگی کا یہی اصول ہے۔

ڈاکٹر واحد بلوچ، فلوریڈا، امریکہ:
مغرب میں حکومت کے پاس بہت کم طاقت ہوتی ہے۔ یہاں کی زندگی کا بنیادی اصول ہے آزادی اظہار، اور اس میں مذہبی اعتقادات کی توہین بھی شامل ہے۔ اس قسم کے معاملات میں حکومت کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اسی طرح ڈنمارک کے لوگوں نے بھی ان کارٹونوں کی کوئی حمایت نہیں کی کیونکہ وہ بھی آزادی اظہار کے حامی ہیں۔ اس سے پہلے یہ اخبار حضرت عیسٰی کے کارٹون بھی شائع کر چکے ہیں اس لیے بہترین احتجاج یہ ہے کہ آپ ایسے اخباروں کا بائیکاٹ کر دیں۔

اسامہ اعوان، دوھا، قطر:
جب افغانستان میں لوگوں نے بدھا کا مجسمہ توڑا تھا تو ’معتدل مسلمان‘ رہنماؤں سمیت ہر کوئی شور مچا رہا تھا۔ آج یہ سب لوگ کیوں خاموش ہیں؟

محمد جہانگیر، ہالینڈ:
مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں صحیح کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو لبرل مسلمان کہنےوالوں کو اپنے دوستوں کی اصلیت کا پتا چل گیا ہے۔ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے یہ چیز فائدہ مند ثابت ہوگی جہاں تک مغرب کی بات ہے تویہ لوگ کپڑے اتارنے کو آزادی اور پہننےکو غلامی سمجھتے ہیں۔

عدنان، کراچی:
سچ بات یہ ہے کہ کاٹون چھاپنا کوئی غلطی نہیں تھی کیونکہ کسی بھی اخبار کے ایڈیٹر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ جو وہ شائع کر رہا ہے اس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح تو نہیں ہو رہے۔ مغرب کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اگر ہماری مذہبی اقدار کا خیال رکھے گے تو ہم بھی ان کے جذبات کا خیال رکھیں گے لیکن وہ اگر ہمارے مذہب کو دہشتگرد کہیں گے تو پھر ان کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔

سردار یاسر خان، مانچسٹر، انگلینڈ:
میرے خیال میں یہ امریکہ اور اس کے حواریوں کی سازش ہے تا کہ لوگوں کو فروعی باتوں کی طرف لگا کر ان کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹا دی جائے۔ میرے خیال میں کاٹونوں کی اشاعت بھی نان ایشو ہے اور ان آنے والا رد عمل بھی فضول ہے۔ لوگوں کے اصل مسائل بے روزگاری، کرپشن اور مہنگائی ہیں، یہ کوئی ایشو نہیں۔

سید شفیق پرویز شاہ، اٹک:
یورپ والے مسلمانوں کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اشتعال دلایا جاتا ہے اور مسلمانوں اور یورپ کے درمیان نفرت پھیلائی جاتی ہے۔

عبدالحنان چوہدری، فیصل آباد:
کیا فائدہ کچھ کہنے کا بی بی سی بھی تو انہی کا ہے۔ وہ تو ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، لندن:
یہ احتجاج بالکل جائز ہے کیونکہ کافروں کے لیے تو یہی دنیا سب کچھ ہے لیکن ہم مسلمانوں کے لیے سب سے اہم اللہ اور اس کے رسول (صلعم) ہیں۔

اسد ملک، فِن لینڈ:
احتجاج کرنا چاہیے مگر اس میں عام شہریوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ ڈنمارک سے سفارتی تعلقات ختم کر دے۔

نعیم رمضان، برسلز، بلجیم:
میں تو صرف اتنا کہوں گا کہ ہم مسلمانوں کو جوش نہیں بلکہ ہوش سے کام لینا چاہیے۔ معلوم نہیں ہمیں ہوش کب آئے گا۔ میڈیا پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اور وہ عیسائوں اور مسلمانوں کو لڑانا چاہتے ہیں۔

نامعلوم، یو اے ای:
یہ سب مغربی دنیا کی ایک پلاننگ ہے۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت تمام عالمِ اسلام کو ہر طرح سے بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان ملکوں کو خدا نے بہت کچھ دیا، تیل ہی لے لیں دنیا کا تین چوتھائی تیل مسلمان ملکوں میں موجود ہے پھر بھی ہم لوگ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے۔ بلکہ جو اٹھتا ہے اسے بھی گرا دیتے ہیں۔


سلمان بگٹی، سوئی:
کارٹون کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے لیکن احتجاج کا یہ انداز صحیح نہیں ہے۔ اس طرح کے احتجاج سے مسلمانوں کی انتہا پسندی اور برداشت کی کمی ظاہر ہوگئی۔

جمال اختر خان، فیصل آباد:
جتنا مرضی احتجاج کر لیں وہی ہو گا جو امریکہ یا اسرائیل چاہیں گے یہ سب کچھ ان کی ایما پر ہی ہو رہا ہے۔ یہ سب لوگ ہم مسلمانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب قصور مسلمان حکمرانوں کا ہے بیچاری عوام کیا کر سکتی ہے صرف احتجاج کر سکتی ہے۔ تمام مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ مل کر فرانس سے بات کریں اور ایسی حرکت کرنے والے کو سزا دیں۔ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔

مسلمانوں کے پاس لیڈرشپ نہیں
 ایسے موقعوں پر یہ لگتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں جو ہماری رہنمائی کر سکے اور امریکی اور یورپی لیڈرشپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔
ریاض فاروقی، دوبئی

طاہر چوھدری، جاپان:
مسلمانوں اور یورپ کی سوچ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ایک طاقتور اور ایک کمزور میں فرق ہوتا ہے۔ مسلمان کمزور اس لیے ہے کہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے۔ اس لیے یورپ اور امریکہ سرِعام مذاق اڑا رہے ہیں۔ ا س کے دیرپا اثرات شاید مسلمانوں کے اتحاد کی صورت میں نکلیں گے جس کی ابتدا ہو چکی ہے۔

فرحان خان، انڈیا:
کاٹونوں کی اشاعت پر ہمیں حق ہے کہ آواز بلند کریں۔ شام میں ڈینمارک کے سفارت خانے کو آگ لگنے پر امریکہ نے اس کو شام کے سفارتی تحفظ ناکام قرار دیا اور یہ کہ شام کا جرم ناقابلِ معافی ہے۔ تو ایک کاٹون بنانے والے کا جرم کیسے قابلِ معافی ہو سکتا ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
اخبار کے ایڈیٹر نے یہ کہا ہے کہ انہوں نے یہ سب اظہارِرائے کی آزادی کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ کوئی ان سے یہ پوچھے کیا مذہبی آزادی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ سب مسلمانوں کےجذبات سے کھیلنے والی بات ہے۔ اس سے مغرب کو فائدہ نہیں نقصان ہو گا۔ یہ آگ اب لبرل اور معتدل مسلمانوں کو بھی بھڑکا سکتی ہے۔

محمد معین الدین، جدہ:
کارٹونوں کی اشاعت اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک کرنا ہے جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اقوامِ عالم کو اسلام سے دور ہی رکھا جائے۔ احتجاج اور بائیکاٹ ضروری ہے۔ لندن کے مظاہرے میں بھی جو بینرز اٹھائے گئے تھے وہ غلط ہیں۔ مظاہرین کو جان بوجھ کر ہی نہیں پکڑا گیا تا کہ لوگ سمجھیں کہ بینرز پر جو نعرے لکھے گئے تھے وہ سچ ہیں اور مسلمانوں کا اصل امیج ہیں۔

افسر زیب خان، یو اے ای:
آج یا کل اس سے کچھ زیادہ بد تر ہوگا۔ یہ ایک سلسلہ ہے جو جاری رہے گا۔ آخر ایک دن نفرت کا پہار ٹوٹے گا پتا نہیں کتنے بے گناہ بھی جائیں گے۔

سجال احمد، امریکہ:
کسی کو موت کی دھمکی دینا توغلط بات ہے۔ مگر دنیا میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کسی کے پیغمبر کی تصویر بنا کر ایک دہشت گرد کے روپ میں پیش کرے۔ ان لوگوں کےساتھ کبھی بھی اچھے تعلقات نہیں بن سکتے۔ دوستی برابری میں ہوتی ہے اور برابری میں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھا جاتا ہے دل آزاری نہیں کی جاتی۔

عبدل باری مشونی، پاکستان:
مشرق اور مغرب میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کارٹونوں کی اشاعت شدت پسند مسلمانوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ جیسا کہ لندن کے احتجاج میں دیکھا گیا۔

محمد خان، دبئی:
اگر احتجاج زیادہ ہو گا تو مغرب ایسے اقدامات کو ہونے سے روکے گی۔ بصورتِ دیگر پھر سے فتنہ اٹھتا رہے گا جو مغرب کی سرپرستی میں ہو گا۔ جو کہ اب تک ہوتا آیا ہے جو بھی اسلام کا دشمن وہ مغرب کا دوست۔

یاسر غفور خان، پاکستان:
ڈینمارک کی اخبار سے جو انتشار پیدا کرنا تھا اس کا مقصد ہی شاید مسلمانوں کے جذبات کو ابھار کے مسلمان حکومتوں کے لیے پریشانی پیدا کرنا تھا۔ لیکن جس طرح احتجاج کیا گیا ہے اس سے ان کو یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ آئندہ ایسے کیا گیا تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اب اخبار کے معافی مانگنے سے اس معاملے کو ختم کرنا چاہیے۔ جو ہونا تھا ہو گیا اب زیادہ احتجاج کرنا خود اپنے لیے اور اپنے کاروبار کے لیے ہی پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔

مسلمانوں نے ان کا مقصد حل کر دیا
 جن لوگوں نے وہ کارٹون شائع کیے ان کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلانا تھا۔ مسلمان وہی کر رہے ہیں جو وہ ان سے کروانا چاہتے تھے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ مسلمان مدبرانہ مذاکرات نہیں کرتے۔
علی احمد، امریکہ

جاوید احمد ڈوگر، قصور:
احتجاج کرنے سے لوگوں کواندازہ ہوا ہو گا کہ مذہب کا مذاق اڑانے سے لوگوں کو کتنا دکھ ہوتا ہے۔ اس سے مستقبل میں ایسی حرکتیں روکیں گی۔

یاسر محمود سلیمانی، ایبٹ آباد:
یہ ایک انتہائی غلط اقدام ہے اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ کم از کم اپنے اخبارات کو ضابطہِ اخلاق ہی سیکھا دیں۔ ڈنمارک کی حکمت سے پوچھتا ہوں کیا کسی کی برطرفی سے اتنی بڑی توہین کا ازالہ ہو سکتا ہے؟

ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

ڈنمارک کارٹون، بحران
ڈنمارک: کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد