BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج
پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے بعدگزشتہ جمعہ سے پوری دنیا میں شدید احتجاج کا سسلسلہ جاری ہے۔لبنان میں ڈنمارک کے سفارتخانے کونذر آتش کردیاگیا ہے، جبکہ مسلمان ممالک کے علاوہ یورپ میں بھی مختلف سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب اور فلسطین میں مقیم ڈنمارک کے باشندوں کو موت کی دھمکیوں کے بعد ان کی حکومت نے یہ ممالک چھوڑنے کا کہا ہے جبکہ اس دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی تحمل کی اپیل کی ہے۔

کیا مغرب اور مسلمانوں کے سوچنے کے انداز میں واقعی فرق ہے؟ کارٹونوں کی اشاعت سے مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات پر دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں؟ احتجاج کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکیں گے یا اس کے اثرات منفی ہوں گے؟

آپ کی رائے: حصہ اول

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کے آراء نیچے درج ہیں۔

ریاض فاروقی، دوبئی:
جو کچھ ڈینمارک میں ہوا وہ غلط تھا اس سے بہت سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ لیکن جو کچھ مصر اور لبنان میں ہوا وہ بھی غلط ہے۔ ایسے موقعوں پر یہ لگتا ہے کہ امتِ مسملمہ کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں جو ہماری رہنمائی کر سکے اور امریکی اور یورپی لیڈرشپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔

محمد طاہر جمیل، قطر:
اس طرح کے کارٹون شائع کر کے اخبار نے کیا حاصل کر لیا سوائے انتشار کے۔ حضرت محمد کی توہیں تمام انسانیت کی توہین ہے۔ مسلمانوں کا غم و غصہ بالکل جائز ہے۔ ایسے حالات دوبارہ نہ ہوں اس کےلیے حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ توڑنا جلانااس کا حل نہیں۔ معیشت کے بائیکاٹ سے ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ اس موقع پر ہوش کی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ کسی کو بھی گالی دیں وہ کبھی برداشت نہیں کرے گا اور انہوں نے تو ہماری عظیم ہستی کے حوالے سے یہ کارٹون شائع کیا۔ یہ کیسے برداشت ہو سکتا ہے۔ اس احتجاج سے یہ ثابت کر دیا کہ ہم بھی زندہ ہیں۔

امداد علی، لاڑکانہ:
ہمارے احتجاج کا یورپ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ مسلمانوں سے کھلی نفرت اور کھلی جنگ کر رہے ہیں۔ کارٹون کا چھاپنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔

افتخار احمد کشمیری، لندن:
مشرق اور مغرب کا مذاج الگ ہے۔ مشرق میں مذہب کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے۔ پیغمبر کا کارٹوں بنانا مغرب کے لیے تو مذاق ہوسکتا ہے مگر مشرق کے مسلمانوں کےلیے گستاخی ہے۔ صحافت کو آزادی ہونی چاہیے مگر اس حد تک کہ کسی کے مذہبی حقوق پامال نہ ہوں۔

علی احمد، امریکہ:
جن لوگوں نے وہ کارٹون شائع کیے ان کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلانا تھا۔ مسلمان وہی کر رہے ہیں جو وہ ان سے کروانا چاہتے تھے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ مسلمان مدبرانہ مذاکرات نہیں کرتے۔ میں سفارتخانوں کے جلانے کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔ اس سے ان کارٹونوں کے چھاپنے کا مقصد حاصل ہوگیا ہے۔

عمران، ٹورانٹو:
یکجہتی میں طاقت ہے اور ہم مسلمان متحد نہیں۔ سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں وہاں پر امریکی فوجیں بیٹھی ہیں اور ان سے لاکھوں ڈالر لیتی ہیں۔


اللہ بخش، کراچی:
دنیا کو پتا لگنا چاہیے کہ مسلمانوں کا وقار ابھی تک برقرار ہے۔

فاروق احمد چوھدری، نوروے:
مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑانے کی سازش کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔

نسیم الدین، ٹورانٹو:
ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم خدا یا اس کے پیغمبر کے بارے میں جو دل میں آئے وہ کہہ دیں۔ ہم مغرب کو اچھی طرح جانتے ہیں، اب مغرب کو ہمارے اقدار اور ہماری سوچ کے بارے میں جاننا چاہیے۔

مغرب کو ہمیں جاننا چاہیے
ہم مغرب کو اچھی طرح جانتے ہیں، اب مغرب کو ہمارے اقدار اور ہماری سوچ کے بارے میں جاننا چاہیے۔
نسیم الدین، ٹورانٹو

علی خان، جنوبی کوریہ:
جس طرح یورپ کے اخبارات سے یکجہتی کے طور پر یہ حرکت کی ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان حق بجانب ہیں۔ اصل معاملہ تو ڈینمارک کی اشاعت کا تھا جس کو نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر مغرب نے مسلم امہ کے احتجاج کو اہمیت نہیں دی اور نہ ہی مجرم کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی بلکہ اس کو صحافت کی آزادی کا نام دیا گیا۔ اب اگر مغرب اپنی ہٹ درمی چھوڑ دے اور ایسی حرکت دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت دے تو یہ احتجاج ختم ہو سکتے ہیں۔

عامر محمود، فرانس:
کارٹون کی اشاعت انتہائی بیہودہ اقدام تھا۔ مغرب تو یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہی کر رہا ہے۔ احتجاج کے لیے تشدد کی راستہ انتہائی مناسب ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی حکومت کو مجبور کریں کہ ان ممالک سے تعلقات ختم کریں۔ ہمیں جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا ہوگا۔ پر امن احتجاج اور بائیکاٹ ہی وقت کا تقاضہ ہے۔

محمد دین، کینیڈا:
9/11 کے بعد سے مسلمانوں اور مغرب کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ہے جوکہ تہذیبوں کے درمیان جنگ ہے۔ یقیناً یہ اورشدت اختیار کرے گی اور مسلمانوں کے شک کو اور مضبوط کرے گی کہ مغربی مسلمانوں کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ امریکہ اور یو کے نے اس کی مذمت کی ہے لیکن مسلمانوں کی یقین دھانی کے لیے یہ کافی نہیں۔

خالد احمد، راولپنڈی:
یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس کو آزادیِ رائے کا رنگ دیا گیا۔ آج سے پہلے میں نہ کبھی یورپی اخباروں کو اس طرح جلتی پر تیل پھیکتے نہیں دیکھا۔ اس طرح کی آزادیِ رائے ریشنل سوچ کے برعکس ہے۔ سیمیول ہنٹگٹن کا ’کیلش آف سویلائیزیشن ‘ یعنی کہ تہذیبوں کا ٹکراؤ کا تھیسز صحیح ہوتا نظر آتا ہے۔

مہران افشاں ترمزی، سعودی عرب:
بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے۔ برسوں سے مغرب کے ہاتھوں پستے ہوئے مسلمانوں کا ٹھنڈا ہونا اب مشکل نظر آتا ہے۔ مغرب اور مسلمانوں کی سوچ کا فرق روبرٹ فسک کے کالم سے واضح ہو جاتاہے۔ ایک کے لیے یہ مذہب صرف اور صرف مذہب ہے او ر دوسرے کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ رہا سوال ایک دوسرے کو سمجھانے کا تو مغرب مسلمانوں کو ایک غلام سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور غلام کو سمجھانے کے لیے نہ ان کے پاس فرصت ہے اور نہ ہی انہیں اس کی ضرورت ہے۔ یہ سلسلہ اب روکے گا نہیں یہ بات اب نکل گئی ہے اور دور تک جائے گی۔

عاطف خان، مظفرگڑھ:
مسلمانوں کو اس کارٹون کی اشاعت پر احتجاج ضرور کرنا چاہیے اور اپنا احتجاج بھرپور تور پر ریکارڈ کروانا چاہیے۔ مگر یہ احتجاج پر امن ہونا چاہیے اور کسی بھی قسمم کی تور پھوڑ نہیں ہونی چاہیے۔ سفارت خانوں کو آگ لگانا کسی بھی طور پر صحیح نہیں۔ مسلمان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار قوم ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے کروا سکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کا احتجاج پر امن ہوگا تو اس سے یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مگر اگر اس میں تشدد کا عمل سامل ہوگا تو یہ مسلمانوں کےلیے نقصان دہ ہے۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
اس واقعے کے بعد مسلمان ممالک کے ان ممالک سے مکمل طور پر تعلقات ختم کر دینے چاہیں۔ جب تک ان ممالک کے سربراہان مملکت معافی نہیں مانگ لیتے۔ تعلقات ختم کر دینے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ان ممالک کو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ مسلمان ممالک ان سے تجارتی تعلقات کے بغیر بھی مستحکم رہ سکتے ہیں۔

علی عمران شاہین، لاہور:
توہین نبی کرنے والوں کو جتنا بھی سخت جواب ممکن ہو دیا جانا چاہیے اس سے وہ مستقبل میں ایسی حرکت کرنے سے ڈریں گے۔ اس سے مغرب کا منافقانہ چہرہ بےنقاب ہوا ہے اور امریکہ کی طرح ان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اب مسلمانوں کو فیصلہ کرنے اور متحد ہو نے میں بہت مدد ملے گی۔ ان سب کا فا ئدہ مسلمانوں کو ہی ہو گا۔

خالد محمود،اونٹاریو، کینیڈا:
جب مسلمان حکومتیں اور لیڈر بے حس ہو جائیں تو عوام کے پاس احتجاج ریکارڈ کروانے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں رہتا۔۔ اور ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح سے مسلمانوں کے جذبات سے نہیں کھیلنا۔

واجد خان، ٹورانٹو، کینیڈا:
اسلامی دنیا میں مسلمان جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ وہ اپنے پیغمبر سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ جہاں تک کسی کو مارنے کا تعلق ہے تو میرا خیال نہیں کہ یہ درست ہوگا لیکن جنہوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں سزا ملنی چاہیے۔


آپ کیا کہتے ہیں؟آپ کیا کہتے ہیں؟
پیغمبرِ اسلام کا کارٹون کیوں چھاپا گیا؟
اسلام اور جمہوریتاسلام اور جمہوریت
کیا جمہوری عمل دنیا کے مسائل کا حل ہے؟
فلسطینی انتخابات میں حماس کی برتری اب جنگ یا امن؟
فلسطینی انتخابات: حماس کی برتری پر آپکی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد