مظاہرین گرفتاریاں: پولیس پر دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مظاہروں کے نتیجے میں پولیس پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ انہوں نے دھمکی آمیز نعروں کے باوجود مظاہرین کو گرفتار کیوں نہیں کیا ہے؟ پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف جمعے کو لندن میں ہونے والے مظاہروں میں سات جولائی کے حملوں کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔ حزب اختلاف کے متبادل یعنی ’شیڈو‘ اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے استفسار کیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی گرفتاری کیوں عمل میں نہیں لائی گئی؟ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ کہنے سے گریز کیا ہے کہ کسی پر ان الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ سینچر کوحزب التحریر کی اپیل پر لندن میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے باہر مزید مظاہرین جمع ہوئے تاہم یہ مظاہرہ پر امن رہا۔ اس اشتعال کی وجہ پیغمبر اسلام کی ایک ایسی خیالی تصویر کی اشاعت ہے جس میں ان کے سر پر بم نما پگڑی دکھائی گئی ہے اور کارٹون شائع کرنے والے اخبار کی حمایت میں اس کارٹون کو سپین، اٹلی، فرانس اور جرمنی کے کچھ اخباروں نے بھی شائع کیا ہے۔ لندن پولیس کی ترجمان نے کہا کہ ’ہم نے کہا ہے کہ اگر گرفتاریوں کی ضرورت ہوئی تو یہ مناسب وقت پر عمل میں لائی جائیں گی۔ اسے پولیس کی جانب سے سستی نہیں سمجھا جانا چاہیے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’مظاہروں کے دوران کسی ممکنہ واقعے سے بچنے کے لیے خصوصی دستے تعینات کیے گئے تھے اور آئندہ بھی اس قسم کے واقعات کا خیال رکھا جائے گا‘۔ ڈومینک گریو نہ کہا کہ ’اگر کسی کو قانون کے سامنے پیش کرنے میں تاخیر کی جائے گی تو مجھے یقیناً تشویش ہو گی۔ جو بھی ہوا وہ اشتعال انگیز تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ فوجداری قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سڑکوں پر نکل کر دوسروں کو مارنے کی ترغیب دینا ناقابل برداشت ہے‘۔ پولیس کی کارکردگی کے بارے میں انہیں اعتراض ہے کہ ’ہو سکتا ہے پولیس نے حکمت عملی کے تحت موقع پر کسی کو گرفتار نہ کیا ہو ۔ لیکن یہ بہت تشویش کی بات ہو گی کہ اگر اب کہا جائے کہ اس مرحلے پر لوگوں کی شناخت اور تلاش مشکل ہے‘۔ کابینہ کے وزیر پیٹر ہین مظاہرین پر مقدمہ چلانے کے بارے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور سیاستدانوں کو اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے سکائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر لوگ سڑکوں پر دہشت گردی اور خود کش بم دھماکوں کی ترغیب دے رہے ہوں تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے لیکن یہ پولیس کی ذمہ داری ہے اور انہیں ہی یہ کام کرنا ہوگا‘۔ ممبر پارلیمنٹ شاہد ملک نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ سر ایئن بلیئر کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے مظاہرین کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اعتماد ہے کہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر مظاہرین کو اس وقت روکا جاتا تو حالات زیادہ خراب ہو جاتے۔ پولیس حکام ہجوم سے نمٹنے میں پیشہ ور ہیں اور اس قسم کے فیصلے انہیں پر چھوڑنے چاہّیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں ان لوگوں پر مقدمات چلنے چاہّیں چاہے کارٹون نے جتنا بھی اشتعال پیدا کیا ہو اس سے تشدد کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔ ’شیڈو‘ سیکریٹری خارجہ ولیم ہیگ نے بھی محتاط انداز اپنایا اور کہا کہ یہ معاملہ پولیس پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ انفرادی کیسوں کے ساتھ نمٹے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ چند لوگوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے جو قتل پر اکسانے کے مترادف ہے‘۔ جمعے کو لندن میں ہونے والے مظاہروں میں کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر یورپ کو خبردار کیا گیا تھا کہ گیارہ ستمبر اور سات جولائی جیسے واقعات کے دوبارہ رونما ہوں گے۔ | اسی بارے میں بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس ’شام کی حکومت نے کوتاہی برتی ہے‘05 February, 2006 | آس پاس تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل03 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||