BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 04:06 GMT 09:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین بڑے ادارے: امن کی مشترکہ اپیل
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کارٹونوں کو صیہونی سازش قرار دیا ہے
اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدیداروں نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر امن کی مشترکہ اپیل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر اداروں میں ان کے ہم منصب افراد نے کارٹونوں کو نفرت انگیز اور مسلمانوں کے لیے موجبِ آزار قرار دیا۔ تاہم انہوں نےان کارٹونوں سے پیدا ہونے والے پُر تشدد عالمی ردِ عمل پرخطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔

تین عالمی اداروں کی طرف سے امن کی اپیل ڈنمارک کے وزیرِ اعظم کی اس پریس کانفرنس کے بعد کئی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے ’عالمی بحران‘ پیدا ہوگیا ہے۔

مسلم ممالک میں پُرتشدد ردِ عمل پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس سے اسلام کے پُرامن تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے اخبارات کی آزادی میں احتیاط اور ذمہ داری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے واقعات نے بات چیت کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔

اس سے قبل ڈنمارک کے وزیرِ اعظم اینڈرز فو راسمسان نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں سے پیدا ہونے مسئلے کو ’عالمی بحران‘ قرار دیا اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ تشدد سے پرہیز کریں۔

ڈنمارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو ہوا دینے والے انتہا پسند صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈنمارک کے ایک اخبار میں اسلام کے پیغامبر کے بارے میں متنازعہ کارٹون شائع ہوئے تھے جس کے بعد سے مسلمان ممالک میں بھر پور احتجاج ہوا ہے جو منگل کو بھی جاری رہا۔ یہ احتجاج اب مغربی افریقہ تک بھی پھیل گیا ہے۔

افغانستان میں گزشتہ روز کے پرتشدد مظاہروں کے بعد منگل کو ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا گیا جس کے دوران تین مظاہرین ہلاک ہوگئے۔

ڈنمارک کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کارٹونوں کے معاملے پر ’ہمیں عالمی بحران کا سامنا ہے۔‘ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ تشدد سے پرہیز کریں کیونکہ انتہا پسند صورتِ حال کی نزاکت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔

ایرانی مظاہرین ڈنمارک کے سفارت خانے کے گیٹ پر چڑھے ہوئے ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں ڈنمارک کے سفارت خانوں کو پہنچنے والے نقصان کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کے لوگ اسلام کے دشمن نہیں۔ ’ہمیں لگتا ہے جیسے ہم وہ قوم ہیں جس میں برداشت نہیں یا جو اسلام کی دشمن ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ انتہا پسند اور وہ ریڈیکل جو تہذیبوں اور ثقافتوں کے تصادم کے خواہاں ہیں معاملے کو ہوا دے رہے ہیں۔ ہمارے لیئے یہ صورتِ حال انتہائی ناخوشگوار ہے اور ہم لوگ ایسی صورتِ حال کے عادی نہیں۔‘

ادھر فرانس کی ایک عدالت نے کئی مسلمان تنظیموں کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک فرانسیسی میگزین کو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں مزید کارٹون شائع کرنے سے روکا جائے۔

تنازعہ کی تاریخ
تیس ستمبر: ڈنمارک کے اخبار میں خاکے کی اشاعت
بیس اکتوبر:مسلمان سفیروں کی ڈنمارک کے وزیر اعظم کو شکایت
دس جنوری: ناروے کے اخبار میں خاکے کی دوبارہ اشاعت
چھبیس جنوری: سعودی سفیر کی واپسی
تیس جنوری: غزہ میں یورپی یونین کے دفتر پر حملہ
اکتیس جنوری: ڈنمارک کے اخبار کی معذرت
یکم فروری: فرانس، جرمنی، ہسپانیہ اور اٹلی کے اخبارات میں خاکوں کی اشاعت

عدالت نے درخواست اس بنا پر مسترد کر دی کہ متعلقہ حکام یا حکومت کے کسی بھی نمائندے نے اس سلسے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا۔

دریں اثناء ایران میں سینکڑوں مظاہرین نے ناروے کے سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور سفارت خان کی عمارت پر پتھراؤ بھی کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ تاہم یہ مظاہرہ دو روز قبل ڈنمارک کے سفارت خانے کے باہر کیئے جانے والے مظاہرے سے کم پُر تشدد تھا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں سے غیر ملکی سفارت خانوں کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ معاملہ اب مغرب کے ہاتھ میں ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کیسے سلجھاتا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مغربی ممالک پر پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے حوالے سے کڑی تنقید کی ہے۔ ایرانی فضائیہ کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہ کہا یہ کارٹون صیہونی سازش کے نتیجے میں شائع ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں تنازع پیدا ہو۔

اسی بارے میں
افغانستان:2 مظاہرین ہلاک
06 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد