کارٹون: افغانستان میں مزید ہنگامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے اخبار میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون کی اشاعت کے خلاف افغانستان میں پولیس، نیٹو دستوں اور مظاہرین کے مابین منگل کے روز مزید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کابل میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں ڈنمارک کے سفارتخانے تک نہ پہنچنے دیا۔ جلال آباد اور ہرات سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میمانہ کے قصبے میں ناروے کے امن دستوں کے ساتھ تصادم کے دوران ایک افغان شہری ہلاک ہو گیا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے افغان سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے میمانہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ بتائی ہے۔ پیر کے روز افغانستان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ توہیں آمیز کارٹون سب سے پہلے ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع ہوئے تھے اور بعد میں انہیں کئی یورپی اخبارات میں چھاپا گیا تھا۔ اسلامی روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ اور پیغمبرِ اسلام کی شبیہ کی کسی بھی صورت میں اشاعت ممنوع ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں ان کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور ان کارٹونوں کو چھاپنے والے اخبارات کی مذمت کی گئی ہے۔ کابل میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے اور پیر جیسے پر تشدد واقعات کو روکنے کے لیے سکیورٹی دستوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ منگل کے روز دو سو کے قریب افراد نے کابل میں ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ چند مظاہرین نے نیٹو امن فوج کے ہیڈ کوارٹر پر پتھراؤ کیا اور امریکی سفارتخانے کی طرف جانے کی کوشش کی۔ بی بی سی کے بلال سروری کے مطابق اتحادی افواج کے ہیڈکوارٹر کے باہر تعیبات سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں۔ مظاہرین کابل میں تعینات ڈنمارک کے سفارتکاروں کی ملک بدری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی صدر بش کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے فریاب کے دارالحکومت میمانہ میں مظاہرین نے نیٹو کی سربراہی میں قائم صوبائی تعمیرِنو ٹیم کی عمارت پر حملہ کیا۔ مقامی پولیس افسر محمد نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے گارڈ روم کو جلا دیا۔ مسٹر محمد نعیم کے مطابق ناروے کی سربراہی والے دستے نے مظاہرین پر جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس مظاہروں میں چھ افراد ہلاک06 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||