BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 February, 2006, 22:05 GMT 03:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم
ایران ان ممالک سے تجارتی تعلقات پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے جہاں کی اخباروں نے کارٹون شائع کیئے تھے
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کریں۔ اسی دوران ایران نے کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کرتے ہوئے ڈنمارک سے تمام تجارتی روابط توڑ دیئے ہیں۔

کوفی عنان کی مسلمانوں سے اپیل دبئی میں کی گئی جہاں انہوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں خاکوں کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے لیکن انہیں برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور خود خدا بھی یہی چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’میں مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصے کو سمجھتا ہوں اور ان کے ساتھ اس میں شامل ہوں لیکن یہ سب کچھ تشدد اور معصوم لوگوں پر حملوں کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کے وہ کارٹونوں کی اشاعت کرنے والوں کی جانب سے معافی کو قبول کر لیں۔‘

ادھر ایران نے ڈنمارک کے ساتھ اپنے تمام تجارتی روابط ختم کر دیئے ہیں۔ تہران میں ہزاروں مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔

ایران کے وزیرِ تجارت نے ڈنمارک کے ساتھ تجارتی رابطے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ڈنمارک سے کسی بھی قسم کی اشیاء ایران میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے جہاں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون چھاپے گئے۔

اس سے پہلے آنے والی خبروں کے مطابق یورپ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف افغانستان اور صومالیہ میں ہونے والے مظاہروں میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین بگرام میں واقع امریکی ائر بیس میں داخل ہوگئے جس پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل ایک پولیس سٹیشن پر مظاہرین کے حملے کے بعد پولیس کے فائر کھول دینے سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق لغمان کے مشرقی صوبے میں ایک مظاہرے میں دو افراد ہلاک ہلاک ہوئے تھے ۔صومالیہ میں پولیس پرمظاہرین کےحملے کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک چودہ سالہ لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغان واقعے پر پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا اور اسی لیے اسے گولی چلانی پڑی۔

تنازعہ کی تاریخ
تیس ستمبر: ڈنمارک کے اخبار میں خاکے کی اشاعت
بیس اکتوبر:مسلمان سفیروں کی ڈنمارک کے وزیر اعظم کو شکایت
دس جنوری: ناروے کے اخبار میں خاکے کی دوبارہ اشاعت
چھبیس جنوری: سعودی سفیر کی واپسی
تیس جنوری: غزہ میں یورپی یونین کے دفتر پر حملہ
اکتیس جنوری: ڈنمارک کے اخبار کی معذرت
یکم فروری: فرانس، جرمنی، ہسپانیہ اور اٹلی کے اخبارات میں خاکوں کی اشاعت

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہجوم میں موجود طالبان اور القاعدہ کے ارکان ان اموات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو اکسایا تھا۔

دارالحکومت کابل میں بھی تقریباً دو سو افراد نے ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قندھار اور مزار شریف میں بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے۔

ان کارٹون کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے۔

افغانستان اور صومالیہ کے علاوہ ایران کےدارالحکومت تہران، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ اور بھارت میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارت میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے گولے پھینکے۔

احتجاجدنیا کیا کہتی ہے
دنیا بھر میں کارٹونوں پر ہونے والا رد عمل
ڈنمارک کارٹون، بحران
ڈنمارک: کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر۔
احتجاج کی ویڈیوز
لندن اور بیروت میں احتجاج کی وئڈیوز
کارٹون پر مظاہرے
بدلتی صورتحال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
انڈیپینڈنٹ کا کالم
’رابرٹ فسک اور کارٹون‘ وسعت اللہ خان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد