ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کریں۔ اسی دوران ایران نے کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کرتے ہوئے ڈنمارک سے تمام تجارتی روابط توڑ دیئے ہیں۔ کوفی عنان کی مسلمانوں سے اپیل دبئی میں کی گئی جہاں انہوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں خاکوں کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے لیکن انہیں برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور خود خدا بھی یہی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصے کو سمجھتا ہوں اور ان کے ساتھ اس میں شامل ہوں لیکن یہ سب کچھ تشدد اور معصوم لوگوں پر حملوں کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کے وہ کارٹونوں کی اشاعت کرنے والوں کی جانب سے معافی کو قبول کر لیں۔‘ ادھر ایران نے ڈنمارک کے ساتھ اپنے تمام تجارتی روابط ختم کر دیئے ہیں۔ تہران میں ہزاروں مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ ایران کے وزیرِ تجارت نے ڈنمارک کے ساتھ تجارتی رابطے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ڈنمارک سے کسی بھی قسم کی اشیاء ایران میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے جہاں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون چھاپے گئے۔ اس سے پہلے آنے والی خبروں کے مطابق یورپ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف افغانستان اور صومالیہ میں ہونے والے مظاہروں میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین بگرام میں واقع امریکی ائر بیس میں داخل ہوگئے جس پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل ایک پولیس سٹیشن پر مظاہرین کے حملے کے بعد پولیس کے فائر کھول دینے سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق لغمان کے مشرقی صوبے میں ایک مظاہرے میں دو افراد ہلاک ہلاک ہوئے تھے ۔صومالیہ میں پولیس پرمظاہرین کےحملے کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک چودہ سالہ لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ افغان واقعے پر پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا اور اسی لیے اسے گولی چلانی پڑی۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہجوم میں موجود طالبان اور القاعدہ کے ارکان ان اموات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو اکسایا تھا۔ دارالحکومت کابل میں بھی تقریباً دو سو افراد نے ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قندھار اور مزار شریف میں بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے۔ ان کارٹون کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے۔ افغانستان اور صومالیہ کے علاوہ ایران کےدارالحکومت تہران، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ اور بھارت میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارت میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے گولے پھینکے۔ |
اسی بارے میں برطانیہ اور بیروت احتجاج کی ویڈیوز 05 February, 2006 | آس پاس اسلامی دنیا میں شدید ردِ عمل02 February, 2006 | آس پاس بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس مظاہرین گرفتاریاں: پولیس پر دباؤ05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||