اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت کے جواب میں ایران کے ایک اخبار نے ہالوکاسٹ پر مبنی کارٹونوں کے ایک مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اخبار ہمشاہری کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد آزادیِ اظہار کی حدود کی آزمائش ہے جسے مغربی اخبارات پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے کے جواز میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دوسری عالمگیر جنگ کے دوران جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے لیئے ہالوکاسٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ مسلم دنیا میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت کے بعد مسلسل احتجاج جاری ہے اور اسے توہینِ رسالت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ایران کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ہمشاہری نے سوال اٹھایا ہے کہ : ’کیا مغرب کی اظہارِ آزادی کی وسعت ہالو کاسٹ تک بھی ہے یا پھر آزادی کا یہ اظہار آسمانی مذاہب کی بے حرمتی تک محدود ہے۔‘ اخبار نے ایسے کارٹون شائع کرنے کی بات بھی کی ہے جن میں امریکہ اور اسرائیل کے ’جرائم اور لوٹ مار‘ کا نقش بھی ہو۔
ایران کے قدامت پسند حکمران ہالوکاسٹ کی ازسرِ نو تشریح کرنے والے مؤرخوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان مؤرخوں کا استدلال ہے کہ جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کی ہلاکتوں کے معاملے کو سیاسی مقاصد کی غرض سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ گرافکس ایڈیٹر فرید مرتضوی نے جنہوں نے کارٹونوں کے مقابلے کا اعلان کیا، مغربی اخباروں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران میں مستقبل میں شائع ہونے والے ہالو کاسٹ پر مبنی کارٹونوں کو بھی اسی طرح شائع کریں جیسے انہوں نے کچھ مغربی ممالک میں پیغمبرِ اسلام سے متعلق شائع ہونے والے کارٹوں کی دوبارہ اشاعت کی ہے۔ اخبار ہالو کاسٹ پر مبنی بارہ بہترین کارٹون بنانے والوں کو انعام کے طور پر سونے کے سکے دے گا۔ کارٹونوں کی تعداد بارہ رکھنے کا فیصلہ اس لیئے کیا گیا ہے کہ ڈنمارک کے اخبار میں بھی بارہ کارٹون شائع کیئے گئے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس کا طرزعمل انتقامی نہیں اور نہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ تیرہ فروری کو کارٹونوں کے مقابلے کی مکمل تفصیلات لوگوں کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔ یہودیوں کے حقوق کی ایک تنظیم نے ایرانی اخبار کے اعلان کردہ کارٹونوں کے مقابلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ ہٹلر کے اس فارمولے کی پیروی ہے جس کے مطابق اگر کہیں بھی کوئی گڑبڑ ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار یہودی ہیں۔‘ | اسی بارے میں ’مسلمان دنیا سے بات چیت چاہتا ہوں‘07 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس کشمیر: کارٹونوں کے خلاف احتجاج07 February, 2006 | آس پاس کارٹون: افغانستان میں مزید ہنگامے07 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||