کشمیر: کارٹونوں کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یورپ کے کچھ ممالک میں پیغمر اسلام کے بارے میں چھپنے والے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ ذمہ داروں کو سزا دی جائے ۔ مظاہرے پرامن طور پر ختم ہوئے ۔ پولیس کا کہنا ہے ان مظاہروں کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والے اقوام متحدہ اور دیگر بین الااقوامی اداروں کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں ۔ پیغمر اسلام کے بارے میں کارٹون کی اشاعت کے خلاف وکیلوں اور طلبہ نے مظفرآباد میں الگ الگ مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں چند سو افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کارٹون کی اشاعت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین نے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ ایک بینر جو وکیلوں نے اٹھارکھا تھا اس پر انگریزی میں درج تھا پیغمر اسلام حضرت محمد کی توہین انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ مظاہرین کہہ رہے تھے کہ ان کارٹونوں کی وجہ سے پوری دینا میں مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس کے ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان ان یورپی ممالک کے سفارتکاروں کو ملک سے نکال دے جن ممالک میں اخبارات نے یہ کارٹون چھاپے ہیں اور یہ کہ پاکستان بھی ان ممالک سے اپنے سفارت کار واپس بلائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان ممالک کے ساتھ تجارت اسوقت تک معطل کی جائے جب تک ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ کچھ مظاہرین پاکستانی حکومت پر اس لیے برہم تھے کہ وہ اس واقع پر خاموش ہے۔
ابتدا میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمر اسلام کے بارے میں کارٹون شائع کیے تھے جس کے خلاف احتجاج پر کچھ اور یورپی ممالک کے اخبارات نے بھی ان کارٹونوں شائع کر دیا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ زلزے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اقوام متحدہ اور دیگر بین الااقوامی اداروں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کشمیر کے اس علاقے کے انسپکڑ جنرل پولیس شاہد حسن نے کہا کشمیر کا یہ علاقہ پرامن علاقہ ہے اور میرے خیال میں ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انسپکڑ جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر ہم نے ان اداروں کی سکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔ مظفرآباد میں پیر کو بھی طلباء نے مظاہرہ کیا تھا جس میں ڈنمارک کے وزیراعظم کا پتلا جلایا گیا۔ اسلام میں اللہ اور پیغمر اسلام کی تصویر بنانے اور ان کو شائع کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس مظاہروں میں چھ افراد ہلاک06 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||