’نیت مسلمانوں کی دل آزاری نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے پر ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرز فو راسمسان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی نیت مسلمانوں کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلمان ممالک سے رابطہ کرکے باہمی احترام کی بنیاد پر اس مسئلے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ انہیں امریکی صدر بش نے فون کیا ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اینڈرز رسمسان نے کہا ہے کہ صدر بش کا بھی یہی خیال ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل بات چیت ہے، تشدد نہیں۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں گزشتہ ستمبر میں پہلی بار توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت سے مسلم دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ بعد میں چند یورپی ممالک نے یہ کارٹون دوبارہ شائع کیے ہیں جس کے باعث یہ تنازعہ سنگین سے سنگین تر ہوگیا۔ ان کارٹون کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے۔ لبنان اور شام میں مشتعل عوام نے ڈنمارک کے سفارتخانے گزشتہ ہفتے نذر آتش کردیے تھے۔ | اسی بارے میں تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل03 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس افغانستان:2 مظاہرین ہلاک06 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||