افغان احتجاج، برطانوی دستے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نےافغانستان کےصوبہ فریاب میں کارٹونوں پراحتجاج کو فرو کرنے کے لیے برطانوی فوجی دستے بھیجے ہیں۔ برطانوی فوجی دستے افغانستان کے شمال مشرقی صوبے فریاب کے دارالحکومت میمانہ میں بھیجے گئے ہیں تاہم فوجیوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے علاقے میں اپنے عملے کو کم کیا ہے۔ ڈنمارک کے اخبار میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون کی اشاعت کے خلاف منگل کو ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس، نیٹو دستوں اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ منگل کومظاہرین میمانہ کے علاقے میں قائم ناوریجن امن فوج کے اڈے میں گھس گئے جس پر پولیس کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پیر کوملک بھر میں کارٹونوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ صوبہ فریاب کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تیس افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن مرنے والوں کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ نیٹو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نارورے کی سربراہی میں قائم صوبائی تعمیرِنو ٹیم کی عمارت میں گھس گئے تھے۔ صوبائی تعمیرِنو کی یہ ٹیم ناروے اور فن لینڈ کے فوجیوں پر مشتمل ہےاور اس علاقے میں تعمیر نو کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نیٹو فوج کے دستوں نےمظاہرین کومتنبہ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے گئے تاہم فوجیوں نے مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائیں۔ ان کے مطابق مظاہرین نے فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور ہوائی فائرنگ کے جواب میں کم از کم ایک گرینیڈ فائر کیا۔ صوبے کے نائب گورنر سید احمد سید نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان پولیس نے ہجوم کی جانب سے فائرنگ کے جواب میں گولی چلائی تاہم پولیس کے ایک سینئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین پر پولیس نے گولیاں نہیں چلائیں۔ اس سے قبل پولیس کے مطابق میمانہ کے قصبے میں ناروے کے امن دستوں کے ساتھ تصادم کے دوران ایک افغان شہری ہلاک ہوا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے افغان سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے میمانہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ بتائی تھی۔ مقامی پولیس افسر محمد نعیم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مظاہرین نے گارڈ روم کو جلا دیا۔ محمد نعیم کے مطابق ناروے کی سربراہی والے دستے نے مظاہرین پر جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ |
اسی بارے میں کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس مظاہروں میں چھ افراد ہلاک06 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||