پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پیر کے روز ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج کے علاوہ اشک آور گیس بھی استعمال کی ہے۔ اس کے علاوہ سولہ طلبہ کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ پیر کی صبح پشاور کے مختلف کالجوں اور سکولوں کے طلبہ نے سڑکوں پر نکل کر پیغمبر اسلام کے چند یورپی اخبارات میں کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق تین سے چار ہزار تک کی تعداد میں مظاہرین نے جمع ہوکر صدر کے علاقے کا رخ کیا اور راستے میں مختلف مقامات پر ٹریفک لائٹس اور سائن بورڈز کو توڑا۔ ’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگاتے ان طلبہ نے خصوصاً ناروے کی موبائل کمپنی ٹیلی نور کو نشانہ بنایا۔ ڈنمارک کے بعد ناروے کے اخبارات نے یہ متنازعہ کارٹون شائع کیئے تھے۔ مظاہرین نے پشاور پریس کلب پر بھی پتھراؤ کیا اور عمارت کے شیشے توڑ دیے۔ تھانہ غربی پولیس کے مطابق سولہ افراد کو نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں حراست میں لےلیا ہے۔ تاہم آخری اطلاعات تک کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔ پشاور میں کارٹونوں کے تنازعے کے سامنے آنے کے بعد سے روزانہ مختلف عوامی حلقے احتجاجی مظاہرے منعقد کر رہے ہیں تاہم یہ اب تک ہونے والا سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرہ تھا۔ | اسی بارے میں کارٹون کے خلاف احتجاج جاری10 February, 2006 | پاکستان ڈنمارک کے سفیر کی شام سے واپسی11 February, 2006 | آس پاس کارٹون اور اظہارِ رائے کی آزادی11 February, 2006 | قلم اور کالم کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان شہری انڈونیشیا چھوڑ دیں: ڈنمارک11 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||