BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 February, 2006, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ

مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور پتھراؤ بھی کیا۔
مظاہرین آنسو گیس سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پیر کے روز ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج کے علاوہ اشک آور گیس بھی استعمال کی ہے۔ اس کے علاوہ سولہ طلبہ کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

پیر کی صبح پشاور کے مختلف کالجوں اور سکولوں کے طلبہ نے سڑکوں پر نکل کر پیغمبر اسلام کے چند یورپی اخبارات میں کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا۔

پولیس کے مطابق تین سے چار ہزار تک کی تعداد میں مظاہرین نے جمع ہوکر صدر کے علاقے کا رخ کیا اور راستے میں مختلف مقامات پر ٹریفک لائٹس اور سائن بورڈز کو توڑا۔

’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگاتے ان طلبہ نے خصوصاً ناروے کی موبائل کمپنی ٹیلی نور کو نشانہ بنایا۔ ڈنمارک کے بعد ناروے کے اخبارات نے یہ متنازعہ کارٹون شائع کیئے تھے۔

مظاہرین نے پشاور پریس کلب پر بھی پتھراؤ کیا اور عمارت کے شیشے توڑ دیے۔

تھانہ غربی پولیس کے مطابق سولہ افراد کو نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں حراست میں لےلیا ہے۔ تاہم آخری اطلاعات تک کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

پشاور میں کارٹونوں کے تنازعے کے سامنے آنے کے بعد سے روزانہ مختلف عوامی حلقے احتجاجی مظاہرے منعقد کر رہے ہیں تاہم یہ اب تک ہونے والا سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرہ تھا۔

اسی بارے میں
کارٹون کے خلاف احتجاج جاری
10 February, 2006 | پاکستان
کارٹون اور اظہارِ رائے کی آزادی
11 February, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد