کارٹون کے خلاف احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں پیغمبر اسلام حضرت محمد کے بارے میں یورپی ممالک کے اخبارات میں شائع ہونے والے کیری کیچرز کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور مظاہرین نے اس موقع پر ڈنمارک کا پرچم اور امریکی صدر بش کے پتلے نذر آتش کیے۔ مظاہرین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلائے جن کے اخبارات میں یہ کیری کیچرز شائع ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں آب پارہ چوک پر متحدہ مجلس عمل کے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے یورپی یونین اور امریکہ مخالف نعرے لگائے اور پیغمبر اسلام کی بے حرمتی پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان افراد نے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مقررین نے پاکستانی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس کو رسمی احتجاج کے بجائے دیگر اسلامی ممالک کی طرح یورپی ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لینے چاہیئیں۔ اس موقع پر مقررین نے امریکی صدر بش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اسلام کے خلاف یورپی یونین اور امریکہ متحد ہو کر مسلمانوں کی تضحیک کر رہا ہے۔ اس موقع پر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی بختیار مانی نے کہا کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دینی چاہیے۔ کراچی میں بھی مختلف مذہبی اور دیگر تنظیموں نے آٹھ مظاہرے کئے جبکہ کوئٹہ،پشاور اور لاہور میں بھی مظاہرے کئے گئے۔ ان مظاہروں میں دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے مرکزی رہنما شریک نہیں تھے مگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ | اسی بارے میں ’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘10 February, 2006 | آس پاس ’کارٹون چھاپنے والے کی دوائیاں نہیں‘10 February, 2006 | پاکستان مظاہروں میں چھ افراد ہلاک06 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||