’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کی رکنِ پارلیمان ایان ہرسی علی نے ڈنمارک کے اس اخبار کی حمایت کی ہے جس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں کارٹون شائع کیے تھے۔ سومالی نژاد ایان ہرسی علی نے جرمنی کے شہر برلن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج اسلام کے اندر ایک بنیاد پرست تحریک ہے جو تمام جمہوری حقوق اور آزادیوں کی خلاف ورزی کرتی ہے اور انہیں ختم کرنا چاہتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کارٹون چھاپنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا اور ان کارٹون کو دوبارہ چھاپنے کا فیصلہ بھی صحیح تھا۔ ڈچ رکن پارلیمان نے یورپی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈنمارک کی حمایت کرنی چاہیے تھی جس کے بجائے وہ انتہا پسندوں کو خوش کرنے میں لگ گئے۔ ’میڈیا خوفزدہ ہے‘ انہوں نے مزید کہا کہ کارٹون پر اس سارے ہنگامے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورپ میں صحافی اور آرٹسٹ اب اسلام کے غیر روادارانہ پہلووں پر اظہار رائے یا تحقیق کرنے سے کترائیں گے اور خوف زدہ ہو کر اس کا جائزہ بھی نہیں لیں گے۔ ایان ہرسی علی نے ’سبمِشن‘ نامی اس متنازع فلم کا سکرپٹ لکھا تھا جس کے ہدایت کار تھیو وان گوغ کو سنہ دو ہزار چار میں ایک ڈچ مسلمان نے قتل کیا تھا۔ |
اسی بارے میں وان گؤ کے قاتل کو عمر قید26 July, 2005 | آس پاس پیغمبرِ اسلام کے کارٹون کا تنازع08 February, 2006 | منظر نامہ شیراک: کارٹون شائع کرنیکی مذمت 08 February, 2006 | آس پاس تین بڑے ادارے: امن کی مشترکہ اپیل08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||