شیراک: کارٹون شائع کرنیکی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں اشاعتِ نو کو شدید اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ دریں اثناء کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک اس تنازعے میں بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدر شیراک کا بیان اس وقت آیا ہے جب فرانس میں ایک جریدے نے بھی ان کارٹونوں کو شائع کیا جن کے خلاف مسلمان احتجاج کر رہے ہیں۔ اب یہ کارٹوں فرانس میں ایک اور جریدے چارلی ہیبدو نے شائع کیے ہیں۔ صدر شیراک نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ایسے کسی بھی مواد سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے لوگوں کے اعتقادات کو ٹھیس پہنچتی ہو‘۔ ادھر افغانستان میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں مزید چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد قلات میں اس وقت پولیس کی گولی کا نشانہ بنے جب پولیس نے ہجوم کو امریکی فوجی اڈے کی طرف بڑھنے سے روکنا چاہا۔ اس واقعے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ تیس افراد کو گاڑیوں کر آگ لگانے اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کابل سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ادھر کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور او آئی سی نے مسلمانوں سے امن کی مشترکہ اپیل کی تھی۔ اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدیداروں نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر امن کی مشترکہ اپیل کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر اداروں میں ان کے ہم منصب افراد نے کارٹونوں کو نفرت انگیز اور مسلمانوں کے لیے موجبِ آزار قرار دیا۔ تاہم انہوں نےان کارٹونوں سے پیدا ہونے والے پُر تشدد عالمی ردِ عمل پرخطرے سے بھی خبردار کیا۔ تین عالمی اداروں کی طرف سے امن کی اپیل ڈنمارک کے وزیرِ اعظم کی اس پریس کانفرنس کے بعد کئی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے ’عالمی بحران‘ پیدا ہوگیا ہے۔ مسلم ممالک میں پُرتشدد ردِ عمل پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس سے اسلام کے پُرامن تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے اخبارات کی آزادی میں احتیاط اور ذمہ داری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے واقعات نے بات چیت کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں افغان احتجاج، برطانوی دستے07 February, 2006 | آس پاس تین بڑے ادارے: امن کی مشترکہ اپیل08 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس ’نیت مسلمانوں کی دل آزاری نہیں‘07 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||