ڈنمارک کے سفیر کی شام سے واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کی وزارت خارجہ کے مطابق شام سے ڈنمارک کے سفیر اور ان کا عملہ عارضی طور پر واپس چلا گیا ہے کیونکہ شام کی حکومت ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک کے سفیر اور ان کے عملے کی عدم موجودگی کے دوران سفارتی امور جرمنی کے سفارتخانے اور ڈنمارک کے عمان میں موجود سفارتخانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے شام میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اس حملے میں ہجوم نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ ہجوم میں شامل مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور نعرے بازی کی۔ اس کے بعد مظاہرین ناروے کے سفارتخانے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈنمارک کے سفارت کاروں نے عارضی طور پر یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ شام کے حکام نے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کو نا قابل قبول حد تک کم کر دیا تھا‘۔ ڈنمارک اور ناروے نے شام کی حکومت پر ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کے باعث تنقید کی ہے اور ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو شام سے واپسی کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے بھی شام پر تنقید کی ہے اور سفارت خانوں پر حملوں کو نا قابل برداشت قرار دیا ہے۔ ان حملوں کے اگلے روز شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان حملوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ شام نے ڈنمارک کے سفارت کاروں کی واپسی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسی دوران ڈنمارک میں کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ ان کارٹونوں کو بہت سے مسلمان اپنے مذہب کی توہین سمجھ رہے ہیں اور ان سے دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں ایک ایرانی اخبار نے ’ہولوکاسٹ‘ کی تصاویر کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی رہنما رفسنجانی کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کی حدود دیکھنا چاہتے ہے جسے ڈنمارک اور بعض یورپی ممالک کے اخبارات کارٹون شائع کرنے کی دلیل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’اسلام، مغرب میں خلیج بڑھی ہے‘10 February, 2006 | آس پاس فرانسیسی اخباروں پر عدالتی کارروائی11 February, 2006 | آس پاس عاشور: کارٹونوں پر شدید احتجاج10 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس تین بڑے ادارے: امن کی مشترکہ اپیل08 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||