BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈنمارک کے سفیر کی شام سے واپسی
شام میں ڈنمارک کے سفارت خانے پر حملے کا منظر
گزشتہ ہفتے شام میں ڈنمارک کے سفارت خانے کو آگ لگا دی گئی
ڈنمارک کی وزارت خارجہ کے مطابق شام سے ڈنمارک کے سفیر اور ان کا عملہ عارضی طور پر واپس چلا گیا ہے کیونکہ شام کی حکومت ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک کے سفیر اور ان کے عملے کی عدم موجودگی کے دوران سفارتی امور جرمنی کے سفارتخانے اور ڈنمارک کے عمان میں موجود سفارتخانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

گزشتہ ہفتے شام میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اس حملے میں ہجوم نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔

ہجوم میں شامل مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور نعرے بازی کی۔ اس کے بعد مظاہرین ناروے کے سفارتخانے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔

ڈنمارک کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈنمارک کے سفارت کاروں نے عارضی طور پر یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ شام کے حکام نے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کو نا قابل قبول حد تک کم کر دیا تھا‘۔

ڈنمارک اور ناروے نے شام کی حکومت پر ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کے باعث تنقید کی ہے اور ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو شام سے واپسی کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے بھی شام پر تنقید کی ہے اور سفارت خانوں پر حملوں کو نا قابل برداشت قرار دیا ہے۔

ان حملوں کے اگلے روز شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان حملوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ شام نے ڈنمارک کے سفارت کاروں کی واپسی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسی دوران ڈنمارک میں کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ ان کارٹونوں کو بہت سے مسلمان اپنے مذہب کی توہین سمجھ رہے ہیں اور ان سے دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں ایک ایرانی اخبار نے ’ہولوکاسٹ‘ کی تصاویر کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی رہنما رفسنجانی کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کی حدود دیکھنا چاہتے ہے جسے ڈنمارک اور بعض یورپی ممالک کے اخبارات کارٹون شائع کرنے کی دلیل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
افغانستان تا صومالیہ
افغانستان اور صومالیہ میں 6 افراد ہلاک
احتجاج کی ویڈیوز
لندن اور بیروت میں احتجاج کی وئڈیوز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد