’اسلام، مغرب میں خلیج بڑھی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا کے وزیر اعظم عبداللہ بداوی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں مغربی پالیسیوں کے باعث اسلام اور مغرب میں خلیج مزید گہری ہوئی ہے۔ ملائشیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا میں کئی لوگ اپنے تئیں لفظ اسلام کو تشدد اور مسلمان کو پیدائشی دہشت گرد کا ہم معنی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات کوالالمپور میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس سے پہلے مسٹر بداوی نے پیغمبرِ اسلام کی توہین پر مبنی کارٹون چھاپنے پر ملائشیا کے ایک اخبار کی بندش کا حکم دیا ہے۔ ایک ڈینش اخبار میں ان کارٹونوں کی اشاعت کے بعد پوری مسلم دنیا میں زبردست احتجاج ہوا ہے۔ افغانستان میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں درجن بھر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اپنے خطاب میں مسٹر عبداللہ بداوی نے کہا کہ اسلام اور مغربی دنیا ایک دوسرے کی کردار کشی ترک کر انتہا پسندی کی روک تھام اور اعتدال پسندی کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔ ’وہ (مغربی دنیا) سمجھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اسلام اور اس کے پیروکاروں کا ترجمان ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید امر ہے کہ مغربی معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر زہر افشانی کی جاتی ہے۔ ’لیکن مسلمانوں کو اپنے تئیں عیسائیوں، یہودیوں اور مغربی دنیا کے بارے میں مذمت سے گریز کرنا چاہیے۔‘ ملائشیا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا موجودہ سربراہ ہے۔ | اسی بارے میں شیراک: کارٹون شائع کرنیکی مذمت 08 February, 2006 | آس پاس ’ایران و شام نے جذبات بھڑکائے ہیں‘08 February, 2006 | آس پاس تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس ایران، ڈنمارک تجارتی تعلقات ختم06 February, 2006 | آس پاس تین بڑے ادارے: امن کی مشترکہ اپیل08 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس عاشور: کارٹونوں پر شدید احتجاج10 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||