’ایران و شام نے جذبات بھڑکائے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے الزام لگایا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں شائع ہونے والے کارٹونوں کے معاملے پر ایران اور شام نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو مشتعل کیا ہے۔ ادھر ڈنمارک نے ملک کی مساجد کے اماموں سے تعلقات ختم کر دیئے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ ان اماموں نے مشرقِ وسطیٰ کے دورے میں مسلمانوں کو احتجاج پر اکسایا تھا۔ ڈاکٹر رائس نے کہا کہ ایران اور شام اس تنازعے کو مغرب مخالف جذبات بڑھکانے اور تشدد میں اضافے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کی طرف سے ایران اور شام کے خلاف یہ الزامات اس وقت لگائے گئے ہیں جب ایران میں برطانیہ کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا۔ شام اور لبنان میں اختتام ہفتہ پر مغربی سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ دریں اثناء پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں غم و غصہ کا اظہار جاری ہے اور کئی جگہ احتجاج ہوا ہے۔ افغانستان میں احتجاج کے دروان مزید چار مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ قلات میں ہونے والے اس پرتشد مظاہرے سے جس میں تقریباً چار سو افراد شریک تھے، افغانستان میں مرنے والوں کی کل تعداد بارہ تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن کچھ ممالک نے اس تنازعے کو جذبات بڑھکانے کے لیئے استعمال کیا ہے۔ ’مجھے ذرا بھی شک و شبہ نہیں کہ ایران اور شام نے اپنے مقاصد کی خاطر لوگوں کو مشتعل کیا ہے۔‘بدھ کو تقریباً دو سو کے قریب ایرانی مظاہرین نے تہران میں برطانوی سفارت خانے پر ہلہ بول دیا تاہم پولیس نے انہیں زبردستی اندر گھسنے سے روک دیا۔ ایران میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارت خانوں پر بھی حملے کیئے گئے ہیں جبکہ دمشق اور بیروت میں ان ممالک کے سفارت خانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ادھر امریکی صدر جارج بش نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ سفارت خانوں پر ہونے والے حملے روکیں۔ انہوں نے کہا ’میں دنیا بھر میں حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کو روکیں اور معصوم سفارت کاروں کی جان و مال کا تحفظ کریں جو بیرونی ممالک میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔‘ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے یورپی میڈیا پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کارٹونوں کی ازسرِ نو اشاعت کوکھلم کھلا اشتعال قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسی بات جو کسی کے عقیدے کو زک پہنچائے، خاص طور سے اگر عقیدے کا تعلق مذہب سے ہو تو اس سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ آزادیِ اظہار ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔‘ | اسی بارے میں شیراک: کارٹون شائع کرنیکی مذمت 08 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس ’نیت مسلمانوں کی دل آزاری نہیں‘07 February, 2006 | آس پاس ’شام: حکومت نے کوتاہی برتی ہے‘05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||