BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 February, 2006, 01:13 GMT 06:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشور: کارٹونوں پر شدید احتجاج
لبنان میں ہزاروں کی تعداد میں اہلِ تشیع نے یومِ عاشور کے جلوسوں میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

شدت پسند حزب اللہ گروپ کے رہنما نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یورپ میں پیغمبرِ اسلام کی توہین روکنے کا قانون نہیں بنتا مظاہرے جاری رہنے چاہئیں۔

ادھر بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی ہزاروں افراد نے کارٹونوں کی اشاعت پر سڑکوں پر احتجاج کیا۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے ان مدیروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے مسلم دنیا کے احتجاج کے باوجود پیغمبرِ اسلام کے بارے میں شائع ہونے والے کارٹونوں کو از سرِ نو اپنی اخباروں میں جگہ دی۔

انہوں نے کہاء ’یہ بے حسی ہے، دل آزاری ہے اور اشتعال انگیز ہے۔ جنہوں نے کارٹون دوبارہ شائع کیئے ہیں انہیں دیکھنا چاہیئے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔‘

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ وہ اظہار کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے لئیے ضروری ہے کہ ساتھ ذمہ داری اور زیرکی استعمال کی جائے۔

کارٹون کے تنازع سے متعلق مختصر خبریں

ڈنمارک کے وزیرِ اعظم نے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ایک عرب اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے ملک میں کارٹون شائع ہوئے ضرور تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں لیا جانا چاہیئے کہ یہ مسلمانوں پر حملے کے مترادف ہے۔

نیدرلینڈ کی رکنِ پارلیمان ہرسی علی نے کہا ہے کہ اخبارنویسوں نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹون شائع کرکے کوئی غلط کام نہیں کیا ۔ ہرسی علی نے اسلام کے بارے میں اس متنازعہ فلم کی کہانی لکھی تھی جس کے ہدایت کار وان گو کو بعد میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ایران کے نائب صدر اسفندئیار رحیم نے امریکی وزیرِ خارنہ کونڈولیز رائس کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے کارٹونوں کے مسئلے پر مسلمان کے جذبات کو ہوا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام سو فیصد جھوٹ ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر تھابو مبیکی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کریں۔ ان کی اپیل سے پہلے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نے ایک ریلی نکالی۔

ملیشیاء کی حکومت نے اس اخبار کو تاحکمِ ثانی بند کر دیا ہے جس میں ہفتے کے روز کارٹون کی اشاعتِ مکرر ہوئی تھی۔

نیٹو کے وزرائے دفاع کی برسلز میں ملاقات ہو رہی ہے جس میں اس تنازع کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد