فرانسیسی اخباروں پر عدالتی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم نے ان فرانسیسی اخباروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے پیغراسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون شائع کیے۔ سی ایف سی ایم یعنی فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ نامی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے ان اخباروں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ وکیلوں سے مشورہ کرنے کے بعد کیا ہے۔ تنظیم کے وکیل میتخ حفیظ نے بتایا کہ اس معاملے سے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جارہی ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن قانونی نکات پر عدالتی چارہ جوئی کی جائی گی۔ پانچ فرانسیسی اخباروں نے یہ کارٹون شائع کیے ہیں جن کی وجہ سے مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہونا شروع ہوئے تھے۔ فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے کارٹونوں کو پھر سے شائع کرنے کے فیصلے کو ’واضح طور پربھڑکانے‘ کی ایک کوشش بتایا ہے۔ اس طرح کے بارہ کاروٹن سب سے پہلے ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع ہوئے تھے۔ سی ایف سی ایم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فرانسیسی اخباروں کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ اپنے اراکین اور وکیلوں کی ایک میٹنگ کے بعد کیا ہے۔ یہ تنظیم فرانس کے لگ بھگ پانچ ملین مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے لیکن چونکہ یہ صرف تین سال ہی وجود میں رہی ہے اس لیے خود ہی عدالتی کارروائی شروع نہیں کرسکتی۔ امید کی جارہی ہے کہ اس کے ماتحت کوئی رکن تنظیم جو فرانس میں پانچ سال سے زائد وجود میں رہی ہے یہ قانونی کارروائی شروع کرے گی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس عدالتی کارروائی کا کتنے اخباروں کو سامنا رہے گا لیکن شارلی ہیبدو نامی ایک ہفتہ وار کا نام سامنے آیا ہے۔ دیگر اخباروں میں جنہوں نے یہ کارٹون شائع کیے تھے فرانس سواغ، لِبریشیوں، لفیگارو اور لپیریسین شامل ہیں۔ دریں اثناء ڈنمارک کے جس اخبار نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کی تھی اس کے مدیر کو اخبارکی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے اخبارا یالند پوستن کے کلچرایڈیٹر فلیمنگ روز کو ان کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایران کی طرف سے یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کے کارٹون بھی چھاپ دیں گے اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر جانے کا حکم ملا۔ |
اسی بارے میں ’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘10 February, 2006 | آس پاس ڈنمارک کے اخبار کا مدیر چھٹی پر10 February, 2006 | آس پاس ’اسلام، مغرب میں خلیج بڑھی ہے‘10 February, 2006 | آس پاس عاشور: کارٹونوں پر شدید احتجاج10 February, 2006 | آس پاس شیراک: کارٹون شائع کرنیکی مذمت 08 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||