BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون اور اظہارِ رائے کی آزادی

ایک شخص اخبار کا مطالعہ کر رہا ہے
اظہار رائے کی حدود کی مختلف تشریحیں کی جا رہی ہیں
کارٹونوں کی اشاعت کا تنازعہ برطانوی اخبارات اور جرائد کا اہم موضو ع ہے۔ اس بحث کا مرکز اداراتی صفحات ہیں۔ یہ بحث زیادہ تر اظہاِر را ئے کی آزادی پر مرکوز ہے۔

قدامت پرست اخبار ’دی ٹائمز‘ کے سائمن جنکنز لکھتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی قطعی نہیں ہے۔ تہذیبوں کی کہانی دراصل اکٹھا رہنے کی خاطر اظہارِ رائے پر سمجھوتے کی کہانی ہے۔

ہمیں اس کی مطلق ضرورت نہیں کہ فلسفر ہوبس کو آ کر بتانا پڑے کہ مکمل آزادی رائے صرف وحشیوں کو حاصل ہے باقیوں کے لیے مصلحت کوشی اور سمجھوتہ گری ہے۔ ڈنمارک کے اخبار کو کارٹونوں سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔

یہ کہنا کہ اظہا ر رائے کی آ زادی کا مسئلہ ہی ایک فضول بات ہے۔ یہ کارٹون اشتعال انگیز تھے۔ اگر اخبار شرو ع میں ہی معذرت کر لیتا تو یہ تنا زعہ نہ ابھرتا۔ اخبارات کو روزانہ ایسے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں غیر ذمہ داری اور توازن کے درمیان فیصلہ کرنا پڑنا ہے۔ غیر متشدد آدمی کو آپ مکہ مارے بغیر بھی تشدد کے نقصانات واضح کر سکتے ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھنے کا طر یقہ یہ ہے کہ اس کی زیادتی سے باخبر رہا جائے اور فریقین کے نقطۂ نظر کو عزت کی نظر سے د یکھا جائے۔

بھارت میں کارٹون کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ
کارٹون کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے

اسی اخبار کے ایک دوسرے اہم کالم نویس میتھیو پیرس کی راۓ بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق مسلمان ذرا زیادہ جذباتی ہیں۔ یہ مسئلہ آزادی اظہار کے لیے اہم ہے کیونکہ مظاہرین کا مقصد یہ ہے کہ وہ نہ خود بلکہ دوسروں کو بھی یہ کارٹون دیکھنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ اس سطح پر یہ اظہار رائے کا مسئلہ ہے۔

گا ر ڈین کے کالم نگار گیری ینگ کے مطابق کارٹونوں کی اشاعت آزادی رائے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ چند برس قبل برطانوی جریدے نیو سٹیٹسمین نے جب اسرائیلی حکومت پر ایک کارٹون شائع کیا تو ایسا کہرام برپا ہوا کہ مدیر کو معذرت کرنی پڑی۔

مغربی دنیا میں اظہار رائے مذہبی بنیادوں پر محدود کی گئی ہے۔ آئرلینڈ میں ایک اخبار پر پابندی لگا دی گئی۔ میڈونا کی کتا ب ’سیکس‘ پر بھی 2004 تک پابندی رہی۔

ڈنمارک میں مقیم ادیب تابش خیرگارڈین میں لکھتے ہیں کہ ان جیسا معتدل مسلمان دو طرفہ انتہاپسندی کے درمیان پسا ہوا ہے۔ امام ابولابن اور سیاستدان ناصر خدر دو متضاد نظریات رکھتے ہیں۔ ابولابن مظاہرین کے رہنما ہیں جبکہ ناصر کا خیال ہے کہ یہ کارٹون شائع کرنا اخبار کا حق ہے۔ یہ دونوں انتہا پسند معتدل مسلمانوں کے نقطۂ نظر کی شنوائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

مشہور مفکر طارق رمضان گارڈین میں لکھتے ہیں کہ یہ تہذییوں کے ٹکراؤ نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ پاگل خانے کی سی صورت ہے۔ اس نازک صورتحال کو غیر نمائندہ مسلمان حکمرانوں نے اپنی مذہبی سا کھ کو بحال کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذہبی تقسیم کو ختم کر کے لوگوں کو ملانے کی کوشش ہونی چاہیے۔

یاسمین علی نے دی انڈیپنڈنٹ میں لکھا ہے کہ صرف مسلمانوں پر آزادی رائے کی خلاف ورزی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ انتہاپسندی ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

اوپن ڈیموکریسی میں نیل آچرسن لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ایک خطرناک مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے خیال میں ڈنمارک اور ہالینڈ کی غیر سفید فام لوگوں کے بارے میں سخت گیر پالیسیاں موجودہ بحران سے منسلک ہیں۔ وہ اس سارے بحران کو جشن حماقت سے تشبیہ دیتے ہیں۔

ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
افغانستان تا صومالیہ
افغانستان اور صومالیہ میں 6 افراد ہلاک
احتجاج کی ویڈیوز
لندن اور بیروت میں احتجاج کی وئڈیوز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد