کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون شائع کیے جانے کے خلاف انیس فروری سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ سنیچر کی شام مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور گروپوں کے ایک مشترکہ اجلاس کے بعد کیا قاضی حسین احمد نے دعویٰ کیا کہ ان کی اپیل پر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی احتجاج ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ انیس فروری کو اسلام آباد میں ’شان مصطفیٰ جلوس‘ نکالا جائے گا اور چھبیس فروری کو ایسا ہی جلوس لاہور میں نکلے گا۔ قاضی حسین احمد کے مطابق تین مارچ کو دنیا بھر میں یومِ حرمتِ رسول کے سلسلے میں جلسے جلوس منعقد ہوں گے جبکہ پاکستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ انہوں نے دانستہ طور پر پہیہ جام ہڑتال کی اپیل نہیں کی اور بتایا کہ پانچ مارچ کو کراچی میں اجتماعی تحفظ ناموس مصطفیٰ مارچ منعقد ہوگا۔ قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ جن ممالک کے اخبارات نے کارٹون اور خاکے شائع کیے ہیں ان ممالک سے پاکستان حکومت اپنے سفیروں کو واپس بلائے اور ان ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفیروں کو واپس بھیج دے۔ مشاورتی مجلس کے اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کا اجلاس بلایا جائے اور متعلقہ مغربی ممالک سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا جائے اور عوام سے اپیل کی جائے کہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا لیکن قاضی حسین احمد نے بتایا کہ مخدوم امین فہیم سے ان کی بات ہوئی ہے اور انہوں نے احتجاجی تحریک کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ مشاورتی مجلس میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین بھی شریک ہوئے۔ قاضی حیسن نے بتایا کہ حکمران جماعت کے رہنما تقریریں کرنے کے بعد چلے گئے۔حکمران جماعت نے توہین آمیز خاکوں کی مذمت کی لیکن تحریک کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے اس موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ روشن خیال اور اعتدال پسندی کے نام پر ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج مغرب توہین رسالت کے مرتکب ہو رہا ہے۔ اجلاس میں کالعدم جماعت لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے بھی شرکت کی اور اعلان کردہ احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ قاضی حسین احمد کے مطابق چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے ان کی اور حافظ سعید کی تقریریں سنیں اور بعد میں چلے گئے۔ | اسی بارے میں کارٹون پر پاکستان کا احتجاج02 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازعہ، سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان کارٹون: نو سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کامعاملہ کشمیرپرچھایارہا 05 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||