شہری انڈونیشیا چھوڑ دیں: ڈنمارک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کی حکومت نے انڈونیشیا میں موجود اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ انڈونیشیا چھوڑ کر چلے جائیں کیوں کہ کارٹون تنازعے کی وجہ سے ان پر حملوں کے امکانات ہیں۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹوں سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایک شدت پسند تنظیم انڈونیشیا میں ڈنمارک کے شہریوں اور ٹھکانوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے شہری ’جتنا جلد ہوسکے انڈونیشیا چھوڑ دیں‘ کیوں کہ وہاں فوری طور پر حملے کے واضح امکانات ہیں۔ افغانستان میں کام کرنے والے ڈنمارک کے امدادی ادارے اے ایس ایف نے اپنے عملے کے دس افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے کیوں کہ طالبان کے ایک رہنما نے اس کے شہریوں کو مارنے کے لیے سو کلو سونہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ جمعہ کے روز ڈنمارک نے شام سے اپنے سفیر اور سفارت خانے کے عملے کو واپس بلالیا کیوں کہ ’شام کی حکومت ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔‘ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک کے سفیر اور ان کے عملے کی عدم موجودگی کے دوران سفارتی امور جرمنی کے سفارتخانے اور ڈنمارک کے عمان میں موجود سفارتخانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈنمارک کے سفارت کاروں نے عارضی طور پر یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ شام کے حکام نے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کو نا قابل قبول حد تک کم کر دیا تھا۔‘ ڈنمارک اور ناروے نے شام کی حکومت پر ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کے باعث تنقید کی ہے اور ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو شام سے واپسی کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے بھی شام پر تنقید کی ہے اور سفارت خانوں پر حملوں کو نا قابل برداشت قرار دیا ہے۔ دریں اثناء ڈنمارک کے جس اخبار نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کی تھی اس کے مدیر کو اخبارکی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے اخبارا یالند پوستن کے کلچرایڈیٹر فلیمنگ روز کو ان کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایران کی طرف سے یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کے کارٹون بھی چھاپ دیں گے اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر جانے کا حکم ملا۔ |
اسی بارے میں فرانسیسی اخباروں پر عدالتی کارروائی11 February, 2006 | آس پاس ڈنمارک کے اخبار کا مدیر چھٹی پر10 February, 2006 | آس پاس ’اسلام، مغرب میں خلیج بڑھی ہے‘10 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||