BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 February, 2006, 10:29 GMT 15:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظاہرے جاری رہیں گے:مجلسِ عمل

اسلام آباد مظاہرین
پولیس مظاہرین پر آنسو گیس پھینکتی رہی اور رینجرز کو بھی طلب کیا گیا
مجلس عمل کے رہنماؤں نے اتوار کو اسلام آباد میں ریلی کے دوران پولیس کی طرف سے مظاہرین پر شیلنگ اور تشدد کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر حکومت نے مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کی نظر بندی ختم کر دی ہے مگر دیگر رہنما اور سینکڑوں کارکن ابھی تک حراست میں ہیں۔

اسلام آباد میں اپنی نظر بندی ختم ہونے کے بعد مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومتی پابندیوں کے باوجود پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مجلس عمل کے مظاہرے جاری رہیں گے اور تین مارچ کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال برقرار رہے گی۔

قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں نکالی گئی ریلی کے مظاہرین پر پولیس کے ایکشن کی مذمت کی اور دعوٰی کیا کہ حکومت چند دن کی مہمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سڑکوں پر آ چکے ہیں اور حکومت اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے۔

قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحٰمن نے اس موقع پر کہا کہ مجلس عمل کے گرفتار شدہ رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا ’توہین رسالت پر پوری عالم اسلام میں احتجاج جاری ہے مگر حکومت اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اس تحریک کو ختم کرنا چاہ رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا ’حرمت رسول کی یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یورپی ممالک کی حکومتیں ان خاکوں کی اشاعت پر معافی نہیں مانگتیں اور یہ یقین دہانی نہیں کراتیں کہ ایسا واقعہ مستقبل میں نہیں ہو گا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس جمعے کو احتجاج کے بعد لاہور میں اتوار کو ریلی منعقد کی جائے گی۔

مجلس عمل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن جنہیں کل راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا ان کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک مجلس عمل کے تین ہزار سے زائد کارکن گرفتار کیئے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

آج اسلام آباد میں دو مدارس نے ناروے کی موبائل فون کمپنی کے نزدیک احتجاجی مظاہرہ کیا اور مظاہرے کے دوران اس کمپنی کی ’سم‘ نذرِ آتش کی گئی۔

ادھر مذکورہ موبائل فون کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان خاکوں کی اشاعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور کمپنی ان خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتی ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیلی نار پاکستان کے لئے یہ انتہائی صدمے کی بات ہے کہ انہیں حال ہی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں مختلف شہروں میں اس موبائل کمپنی کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد