متنازعہ خاکوں کی اشاعت اوراس پراحتجاج کے بارے میں گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے ان صفحات پر قارئین کی آراء شائع کی جا رہی ہیں۔ اس بارے میں کراچی سے شازیہ خان کا کہنا ہے کہ بی بی سی کو چاہیے کہ اب اس فورم کو بند کر دے کیونکہ اب خاکوں کے مسئلے کو سیاست کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا اب اس فورم کو بند کر دینا چاہیے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آرا درج ذیل ہیں۔
سمیع اللہ میاں خان، یو اے ای: فورم بند نہیں ہونا چاہیے۔ نجف علی شاہ، بکھر: فورم کی بجائے یہ مظاہرے بند ہونے چاہیں۔ اس سے قومی املاک کا نقصان ہو رہا ہے۔ کاشف، پاکستان: اس فورم کو چلتے رہنا چاہیے لیکن ساتھ ہی ساتھ میری حکومت سے بھی گذارش ہے کہ احتجاج کو ختم کروانے کے لیے یہ سعودی عرب کی طرح ڈنمارک اور دوسرے یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتی۔ آخر کب تک اپنی املاک تو تباہ کرے گی ہماری حکومت۔ لائیک، راولپنڈی: جی نہیں ابھی یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے کیونکہ ہم دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ ویسے تو حکومت اجازت نہیں دیتی۔ محمد عرفاد، کلر سیداں: اس فورم کو چلنا چاہیے کیونکہ یہ لوگوں تک پہنچنے کا اچھا راستہ ہے۔ خالد مسعود ملک، کینیڈا: میڈیا کے اس دور میں جب کہ پراپیگنڈہ مہم بہت تیزی سے جاری ہے۔ تو اپنی بات آگے مخیر حضرات تک پہنچانے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ جس میں بی بی سی کا بھی اپنا کردار ہے۔ ڈاکٹر عبدالرحمان قریشی، فرانس: اس فورم کو جاری رہنا چاہیے۔ یہ رائے کا استعمال کرنے اور لوگوں کے بارے میں جاننے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ میں اس فورم کاخیر مقدم کرتا ہوں اور اس کو جاری رکھیں۔ خدابخش بابو، پاکستان: اس مسئلے کو جس طرح بی بی سی نے اٹھایا ہے دوسروں نے نہیں اٹھایا۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ سعد ملک، لاہور: میری رائے میں اس فورم کو چلنا چاہیے تا کہ انگریزوں کو ہمارا نقطہ نظر پتا چلتا رہے۔ نامعلوم: ہم کون ہوتے ہیں آپ کو بتانے والے کہ کوئی فورم بند کیا جائے یا نہیں۔ جب تک کاروبار چل رہا ہے دوکان بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ثنا خان، پاکستان: ا س فورم ک اب بند کر دینا چاہیے سب نے اپنی رائے دے دی ہے۔ اس فورم کو بند کرنےپر ہم لوگ کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ سے خیر کی دعا کرنی چاہیے اور چینی کے مسئلے پر سی این جی پر اب بات ہونی چاہیے۔ اشفاق ناظر، یو کے: دیکھ لیں امریکہ سے کیا انسٹرکشن آتی ہے۔ بہر حال بی بی سی نے بھی امریکہ کا ایجنڈہ لے کر چلنا ہے۔ اگر امریکہ کہتا ہے تو بند کر دیں ورنہ چلنے دیں۔ اکرام، پاکستان: فورم کو جاری رہنا چاہیے لیکن اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ امبرین شاہ، پاکستان: اس فورم کو بالکل بند نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو جاری رہنا چاہیے۔ یہ اچھا ذریعہ ہے اپنی رائے دینے کا۔ شاہ خان، یو اے ای: ایک مسلمان کی حیثیت ہمیں یہ فورم جاری رکھنا چاہیے۔ عامر بھٹی، اسلام آباد: فورم بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر تو کوئی پرتشدد احتجاج نہیں ہو رہا ہے۔ یہاں پر وہی لوگ زیادہ اظہارِ خیال کرتے ہیں جو تشدد کے خلاف ہیں اور کسی حد تک عام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی رائے جانا بہت اہم اور ضروری ہے اور یہ فورم انہیں اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔  | اس پر کوئی پرتشدد احتجاج نہیں ہوا  فورم بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر تو کوئی تشدد احتجاج نہیں ہو رہا ہے۔ یہاں پر وہی لوگ زیادہ اظہارِ خیال کرتے ہیں جو تشدد کے خلاف ہیں اور کسی حد تک عام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔  عامر بھٹی، اسلام آباد |
نادیہ انیس، راولپنڈی: کوئی فیصلہ ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ اس سے عوام کی سوچ سامنے آتی ہے۔ رومیل، یو کے: اس کو چلتے رہنے دینا چاہیے۔ ہمارے لوگ اپنی رائے دے لیتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار احمد چغتائی، پاکستان: آپ اس فورم کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے؟ اظہر جدون، کراچی: برائے مہربانی اس فورم کو بند نہ کریں۔ یہ مسلمانوں کےلیے بہت اہم ہے۔ عبید سید، نئی دہلی: یہ چلتے رہنا چاہیے جب تک اس مسئلے کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ عمران خان، پاکستان: اس کو بند نہ کریں۔ کیونکہ ہم یہاں پر دیکھ سکتے ہیں اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ خالد سعید، لاہور: جب تک یہ ایشو اپنے انجام تک نہ پہنچ جائے تب تک یہ فورم بھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ اعجاز بیگ، کریم آباد: بند کر دیں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ محمد خالد، یو اے ای: یہ فورم مستقبل میں جاری رہنا چاہیے۔ خلیل خان، پشاور: بہن شازیہ خان کے لیے ضروری ہے وہ اس کو اس طرح دیکھیں کہ کم از کم ہم اپنے جذبات کا اظہار تو کر سکتے ہیں۔ عبداالقیوم عمر، پاکستان: اس فورم کو بند نہ کریں۔ ذیشان ذیب، سیالکوٹ: اس فورم کو بند نہیں کرنا چاہیے بلکہ ڈنمارک کی مصنوعات کو بند کر دینا چاہیے۔ فریدادین امین، پاکستان: یہ فورم فی الحال جاری رکھنا چاہیے۔ جمال اختر، فیصل آباد: فورم کو ضرور چلنا چاہیے مگر اس کا کوئی فائدہ بھی ہونا چاہیے انٹرنیشنل میڈیا پر۔ ممد منیر، لیہ: یہ اچھا فورم ہے اس کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اس طرح ہم بی بی سی کے توسط سے پوری دنیا تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں۔ خاکوں کی وجہ سے ایک عرب سے زائد مسلمانوں کے دل آزاری ہوئی ہے۔ اہراہیم میر، کینیڈا: یہ فورم عوام کو بیوقوف بنا رہا ہے۔ اس کو جلد از جلد بند ہو جانا چاہیے۔ اظہر، ایبٹ آباد: یہ فورم جاری رہنا چاہیے۔ کیونکہ لوگ اپنی رائے اظہار کرتے ہیں۔ اس فورم کے ذریعے لوگوں کی رائے جاننے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ مریم حفیظ، لاہور: یہ فورم بند نہیں ہونا چاہیے یہ اظہارِ رائے کا ایک طریقہ ہے اس فورم میں مسلمان اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ شعیب مغل، کراچی: فورم بلکل بند نہیں ہونا چاہیے اگر اس کا کوئی سیاسی ایشو بنتا ہے تو وہ غلط ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج ضرور ہونا چاہیے۔ یہ بہت اچھا پلیٹ فارم ہے۔ ذیشان ملک شانی، چنیوٹ: اس فورم کے چلنے کا کوئی مقصد ہونا چاہیے جس سے مسلم بھائیوں کو کوئی فائدہ ہو یعنی کہ اس مسئلے کاکوئی حل نکلے۔  | یہ پر امن لوگوں کی نمائندگی ہے  فورم بند نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آج کی اس دنیا میں اس طرح کے فورم ہی تعلیم یافتہ اور پر امن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔  اسد، لاہور |
مختار احمد چوھدری، اٹلی: یہ فورم بند نہیں ہونا چاہیے اس فورم کے ذریعے ہم اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ منصور احمد، راولپنڈی: یہ فورم عام لوگوں کےلیے اپنی رائے دینے اور دوسروے لوگوں کی رائے پڑھنے کے لیے بہت مفید ہے۔ عمران خان، کراچی: اس فورم کو بند نہ کریں اور ڈنمارک اور ناروے کی مصنوعات کی فہرستیں پرنٹ کریں تا کہ صحیح طریقے سے بائیکاٹ کر سکیں۔ اسد، لاہور: فورم بند نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آج کی اس دنیا میں اس طرح کے فورم ہی تعلیم یافتہ اور پر امن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر فورم بند کر دیا گیا تو کوئی اپنی رائے کااظہار کیسے کرے گا۔ وسیم حسین، دبئی: یہ فورم بند نہیں ہونا چاہیے، یہ ہماری اظہارِ رائے کا ایک طریقہ ہے۔ ناصر، کینیڈا: اس سلسلے کو ضرور جاری رکھنا چاہیے۔ احسان اللہ خلیل، پشاور: ہم غریب مسلمان اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ کم از کم اپنے جذبات تو ادھر بیان کر ہی سکتے ہیں۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فورم بند کر دیں وہ کافی ڈرپوک لوگ ہیں۔ برائے مہربانی یہ فورم بند نہ کریں۔ ثاقب فاروقی، پاکستان: اس فورم کو جاری رہنا چاہیے۔ ہم اس کے ذریعے اپنا احتجاج دنیا تک پہنچا رہے ہیں پر امن طور پر۔ یہ کوئی معمولی ایشو نہیں ہے۔ سلمان مدثر، راولپنڈی: اس فورم کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ اس کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ خاص طور پر ڈنمارک کے وزیراعظم تو اپنی جگہ سے ہل نہیں رہے۔ ذین خٹک، پاکستان: اس فورم کو نہ بند کریں۔ افسر علی بابو، انڈیا: بند کر دینا چاہیے کیونکہ میری سمجھ میں اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ شاہدہ اکرام، یو اے ای: صحیح بات ہے فی الحال اس مسئلے کا حل بحث مباحثے سے نکلتا نہیں نظر آتا۔ رحمت خٹک، دبئی: بات یہ ہے کہ اس موضوع پر روز کچھ نے کچھ سامنے آتا رہتا ہے۔ یورپ میں کسی نہ کسی جگہ پر ان کارٹون کی دوبارہ پرنٹنگ ہوتی ہے یا پھر کوئی وزیر صاحب ٹی شرٹ بنا کرتقسیم کرتے ہیں۔ مسلمان ممالک میں احتجاج روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ کارٹون بنانے والے نے آج ہی یہ بیان دیا ہے کہ مجھے یہ کارٹون بنانے پر افسوس نہیں ہے۔ لہذا ایسے حالات میں آپ اس فورم کو کھلا چھوڑ دیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے تم تیر آزماؤ ہم جگر آزمائیں گے۔ محمد شمیم، پاکستان: اس موضوع پر بحث کی اجازت نہیں ہونی چاہیے یہ خود بے حرمتی ہے۔  | اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں  اس کو جاری رہنا چاہیے۔ کم از کم کچھ لوگ اس کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔  امین مغل، ریاض |
جاوید اقبال ملک، پاکستان: بی بی سی پر جو یکطرفہ ہونے کی چھاپ لگی ہوئی تھی اس فورم کی وجہ سے اس کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امہ کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اب بی بی سی یہ فورم بند کرے یا نہ کرے یہ آگ روکنے والی نہں ہے۔ یہ بہت کچھ جلا کر ختم ہو گی مگر بی بی سی نے اچھا کردار ادا کیا۔ طارق چوہدری، شاہ کوٹ: میری رائے یہ ہے کہ اس فورم کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ اگر یہ مسئلہ سیاست کی طرف جا رہا ہے تو کم از کم یہ فورم تو نہیں جا رہا۔ ادھر تو ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ اجمل خان، ابو ظہبی: جاری رکھا جائے۔ مونا صمد، کراچی: اس فورم کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ در حقیقت اس فورم پر صحیح معنوں میں آزادیِ اظہارِ کا استعمال ہو رہا ہے۔ دنیا کو اپنے جذبات اور احساسات بتانے کا یہ ایک اچھا ذریعہ ہے۔ اس فورم کے ذریعے اگر سیاست چمکانے کا تعلق ہے تو میرے خیال میں 80 فیصد پاکستانی اس قابل ہو گئے ہیں کہ اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ کون کیا کس مقصد کے لیےکر رہا ہے۔ شاہد، لاہور: رائے دینا جاری رکھنا چاہیے اور ووٹنگ بھی کروائی جائے کہ ایسا کام کرنے والوں کو کیا سزا دینی چاہیے جو دنیا کا امن برباد کرتے ہیں۔ فاروق مصطفیٰ، جاپان: فورم کو جاری رکھنا چاہیے۔ اس فورم سے کم از کم پاکستانی مسلمانوں کو اپنی رائے دینے کا موقع ملتا ہے۔ جب لوگوں کے پاس اظہارِ خیال کے لیے اس طرح کے فورم موجود ہوں گے تو یہ پر تشدد مظاہرے مثبت سمت میں جا سکتے ہیں۔ ہمیں یہ موقع فراہم کرنے کا بہت شکریہ۔ امین مغل، ریاض: اس کو جاری رہنا چاہیے۔ کم از کم کچھ لوگ اس کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ سعادت حسین، تھائی لینڈ: بہتر ہے بند کر دیں۔ نوید ریاض، امریکہ: اپوزیشن اور دینی جماعتیں اس تنازعے کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ اللہ ان سب کو عقل اور اپنے ملک سے صحیح محبت اور سمجھانے کی توفیق دے۔ میرے خیال میں اس فورم کوبند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں کے صحیح خیالات کا پتا چلتا ہے۔ خالد خان، دبئی: میں اس موضوع کو بند کرنا چاہتا ہوں۔ ناصر علی، کویت: اس کو بند کر دیں۔  | لوگوں کے خیالات کا پتا چلتا ہے  میرے خیال میں اس فورم کوبند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں کے صحیح خیالات کا پتا چلتا ہے۔  نوید ریاض، امریکہ |
معراج الدین انصاری، بغداد، عراق: بی بی سی کو یہ فورم جاری رکھنا چاہیے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہو سکیں اور اپنے غم وغصے کا اظہار کر سکیں۔ سعید خان، یو اے ای: اس کو جاری رکھیں۔ سید، سعودی عرب: جاری رہنا چاہیے۔ اس سے معلومات ملتی رہتی ہے۔ اظہر بشیر چوہدری، شارجہ: فورم کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تو اظہارِ رائے ہے جیسا کہ یورپ چاہتا ہے کہ اظہارِ رائے ہونا چاہیے۔ محمد بلال، دبئی: اس کو جاری رکھنا چاہیے۔ عثمان تارا، راولپنڈی: اس صفحہ کو کھلا رکھیں اللہ نہ کرے کوئی گستخانہ رائے دے تو آپ اس کو ویب پر پرنٹ نہ کریں۔ اس سے بہت سے لوگوں کو اپنی رائے دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسد محمد خان، نامعلوم: اس فورم کو بند نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مفید فورم ہے کیونکہ مکالمے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اسلام نے بھی مکالمے پر ذور دیا ہے۔ رہی بات اختلافِ رائے کی تو وہ بھی اسلام میں حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے ’میری امت کے علمہ کے اختلافات رحمت کا باعث ہیں‘ یعنی یہ ایک رحمت ہے۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اس کو کس طرف لے جائیں۔ اس فورم سے ہمیں آپس میں کچھ سیکھنا اور سیکھانا چاہیے تا کہ ہم کوئی حل نکال پائیں۔ اکرم چوہدری، نامعلوم: معاملہ ابھی سیاست کا کھیل بن چکا ہے۔ یہ بہت اچھا ہو گا کہ بی بی سی اس فورم کو بند کر دے تا کہ جو لوگ اس فورم کو استعمال کر کے نفرتیں پھیلا رہے ہیں ان کو موقع نہ دیا جائے۔ شہید فیض، امریکہ: فورم جاری رکھنا چاہیے تا کہ مغربی ملکوں کو یہ علم ہو کہ ہم اس طرح کے واقعات کا خیال کرتے ہیں۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: جی ہاں بی بی سی برائے کرم اس فورم کو بند کرے۔ ساجد منظور احمد، لاہور: فورم کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ اس سے ہمیں موقع مل رہا ہے کہ اپنا غصہ نکال سکیں۔ ناظر آفریدی، دبئی: اس موضوع کو ا س وقت تک بند نہیں کرنا چاہیے جب تک ان کو مسلمان دنیا کے جذبات کا احساس نہیں ہو جاتا۔ عثمان خان، سعودی عرب: ہر گز بند نہیں کرنا چاہیے۔ عشرت علی، سویڈن: آپ کو اس فورم کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ یہ احتجاج کارٹون کےلیے نہیں اور مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔ اب تو ان احتجاجی مظاہروں سے بوریت ہونے لگی ہے۔ میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ خدارا آپ احتجاج کو بند کریں۔ ہم پوری دنیا میں بہت مذاق بن چکے ہیں۔ ریاض، حیدر آباد: بند کر دینا چاہیے کیونکہ اگر آپ قیامت تک اس کو قائم رکھیں گےتو بھی لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں گے۔ عدنان خلیل، پشاور: مہربانی کر کے اس فورم کو بند نہ کیا جائے۔ ہم اس سے بہت معلومات حاصل کرتے ہیں۔  | یہ احتجاج اور مقصد کے لیے ہیں  آپ کو اس فورم کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ یہ احتجاج کارٹون کےلیے نہیں اور مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔  عشرت علی، سویڈن |
مقبول بلوچ، بلوچستان: بی بی سی چونکہ ہمیشہ تازہ موضوع چن کر اور اس کی اہمیت کو سمجھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ میں بی بی سی کے فیصلوں سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ فالحال یہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ ابھی تک کارٹون دنیا کو سب سے بڑا موضوع ہے۔ لیکن مسلم امہ کو سمجھ سے کام لینا چاہیے کہ مغرب کا غصہ اپنوں پر نہ نکالیں۔ خالد عزیز، سودی عرب: فوراً بند کر دینا چاہیے کیونکہ ہم اگر مغرب کے زیادہ خلاف جائیں گے تو وہ پھر بیہودگی پر اتر آئیں گے کیونکہ ان کا تو کوئی مذہب نہیں ہے۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ سب بند کرو اور حضور پر درود بھیجو تا کہ اللہ ہم پر اپنا کرم کرے۔ سہیل راوت، یو اے ای: اس کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ جو لوگ بیرونِ ملک بیٹھ کر احتجاجی مظاہرہ نہیں کر سکتے وہ اپنے غم و غصے کا اظہار تو کر سکتے ہیں یہ مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کر رہا ہے۔ محمد خان، پشاور: میں ان خاتون سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اس کپمین کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے تاکہ مسلمانوں کا غصہ کم ہو۔ صلاح الدین، کراچی: بند کر دینا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ عطاء الرحمٰن قریشی، ٹورانٹو: پاکستان میں احتجاج کی اصل وجہ حکمران ٹولے کی مغرب کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اگر حکمران پہلے ہی اس بات کا زور سے جواب دیتے تو لوگ احتجاج پر مجبور نہ ہوتے۔ یقیناً اب حکمران ٹولے کو احساس ہو گیا ہے۔ عابد عزیز، اوکاڑہ: فورم کو جاری رکھنا چاہیے۔ عمران ارشد، لاہور: جی ہاں، بند کر دینا چاہیے۔ صائمہ خان: میرا نہیں خیال کہ کہ سیاست کوئی بری چیز ہے۔ ایسے مسائل پر سیاستدانوں کو ضرور بولنا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کی نمائندگی کر تے ہیں اور اگر کسی مسئلے پر کھل کر بات ہو رہی ہے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ مہذبانہ بحث ہی صحیح طریقہ ہے اپنے خیالات ایک دوسرے تک پہنچانے کا۔ عمر نواز، لیٹویا: میں بتانا چاہتا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت فرانس اور دوسرے ملکوں سے ہر قسم کا تعلق ختم کر لے، اگر فری ویزا ملے تو یہی لوگ فوراً یورپ چلے جائیں گے۔ اصل کام یہ ہے کہ ہم محنت کریں اور یورپی یونین سے زیادہ مضبوط بنیں۔ راحیل چوہدری، مشیگن، امریکہ: جہاں تک مجھے پتا ہے امریکہ کے کسی بھی اخبار نے متنازعہ خاکے نہیں شائع کیے لیکن پھر بھی لوگ امریکہ اور اپنی حکومت کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ جو لوگ سفیروں کو پاکستان سے نکالنے کی بات کر رہے ہیں وہ حقیقت سے واقف نہیں۔ سفیر اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ہم صرف بائیکاٹ کر سکتے ہیں ڈنمارک کی مصنوعات کا۔ باقی رہی بات اس فورم کی تو میرے خیال میں اسے بند کر دینا چاہیے کیونکہ اب اس مسئلے کو سیاست بازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پاکستان میں احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ لاہور میں احتجاج کے دوران فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئِے ہیں جبکہ مشتعل ہجوم نے کئی عمارتوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے اور متعدد جگہوں پر آگ لگا دی ہے۔مذکورہ کارٹونوں کی اشاعت کے بعد باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ دس دن سے احتجاج ہوتا رہا ہے لیکن منگل سے پہلے تک یہ مظاہرے پرامن رہے۔ احتجاجی مظاہروں میں شدت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا پرامن احتجاج ناکافی تھا؟ مظاہروں میں شدت آنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ آپ کے خیال میں نئے مظاہرے درست ہیں؟ ان سے کیا مقاصد حاصل ہو سکتے تھے یا ہو رہے ہیں؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200
فیصل رشید، لاہور: یہ احتجاج با لکل صحیح ہے کیونکہ پندرہ دن سے پاکستان کے عوام انتظار کر رہے تھے کہ حکومت مغربی ملکوں کے سفیروں کو ملک سے نکالے لیکن حکومت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ امریکہ کے لیے سب کچھ قربان کر سکتی ہے۔  | ایسی آگ  مسلمانوں کو ایسی آگ نہیں لگانی چاہیے جو تھوڑی دیر میں بجھ جائے اور اس سے صرف نفرت کی آگ پھیلے  کامران چیمہ، جرمنی |
کامران چیمہ، جرمنی: مسلمانوں کو ایسی آگ نہیں لگانی چاہیے جو تھوڑی دیر میں بجھ جائے اور اس سے صرف نفرت کی آگ پھیلے بلکہ انہیں ایسی آگ جلانی چاہیے جو دل میں جلے اور وہ پیغمبرِ اسلام پر زیادہ سے زیادہ درور بھیجیں۔ عادل اقبال، بلیک برن، برطانیہ: سب سے اچھا احتجاج اشیاء کا بائیکاٹ کرنا ہے، اپنا ہی شہر اور ملک تباہ کرنے والے کیسے خود کو مسلمان کہلا سکتے ہیں۔ محمود احمد قادری، پنجاب، پاکستان: یورپی ممالک کی اسلام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ عیسایت ایک عظیم مذہب ہے، پتا نہیں اس پیارے دین کے دعویدار کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کر کے کیوں خوش ہو رہے ہیں۔ عبدالوحید، میری لینڈ، امریکہ: ہمیں بحیثیت مسلمان سوچنا چاہیے کہ ہم میں سے کچھ لوگ ہمارے پیارے نبی کے نام پر جو کر رہے ہیں وہ ان کا بتایا ہوا طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی بھی شدت پسندی کا طریقہ نہیں اپنایا، کیا انہیں اس بات کا دکھ کم تھا کہ اللہ کی طرف سے امن کا پیغام دے رہے تھے اور مکہ کے غیر مسلم اس پیغام کی تذلیل میں لگے ہوئے تھے۔ اگر ہم پر امن نہیں رہتے تو ہم ایک مرتبہ پھر اپنے دین کی بہترین تعلیمات دکھانے میں ناکام رہیں گے۔ پیا محمد رفیع، بہاولپور، پاکستان: احتجاج اس لیے بڑھ گیا ہے کہ اب پاکستان کے مسلمان سمجھ گئے ہیں کہ یورپ میں کارٹونوں کی اشاعت ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ سلمان اعوان، بریڈفورڈ، برطانیہ: اس احتجاج میں تشدد کی وجہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ عام لوگ مشرف کو امریکہ اور یورپ کا اتحادی سمجھتے ہیں۔ سعید احمد شاہ آفریدی، پشاور: میری تجویز ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔ سیدہ، پاکستان: احتجاجی مظاہرے اس وقت تک جاری رہنے چاہئیں جب تک مغرب ممالک معذرت نہیں کر لیتے لیکن پرتشدد احتجاج سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس سے اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ احتجاج میں صرف ان لوگوں پر تنقید کرنی چاہیے جنہوں نے شان رسالت میں گستاخی کی ہے۔ سمیرا، لاہور: احتجاج کریں لیکن طریقے سے۔ جوطریقہ ہم نے اپنایا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس سے ہم اپنے کمزور ہونے کا پورا پورا ثبوت دے رہے ہیں۔ اور یہی بات ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ آصف، گوجرانوالہ: حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لے، اسی طرح لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے۔ عبداالعزیز، کراچی: اسلام کا مطلب ہے امن اور ہمیں ہمیشہ پر امن رہنا چاہیے اس قسم کے مشکل حالت میں۔ ہمارے پیارے پیغمبر کی یہی تعلیمات ہیں کہ جب بھی کسی شیطان سے پالا پڑے تو ہمیں خود پر قابو رکھنا چاہیے۔ احتجاج ہر مسلمان کا حق ہے لیکن ہمیں نقص امن کے بغیر احتجاج کرنا چاہیے۔ شبیر حکیمی، قم، ایران: مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ پاک وطن میں بعض لوگ توہین رسالت کی آڑ میں وطن کو خراب کر رہے ہیں۔ یہ بات ہر باشعور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ لوگ رسول اور اسلام کے عاشق نہیں بلکہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ ممکن ہے یہ لوگ مغرب کے ایجنٹ ہوں جو مملکت اسلامیہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ابراراحمد چغتائی، پاکستان: میرا سوال یہ ہے کہ حکومت نے لاہور اور پشاور میں ہنگاموں کو کیوں نہیں روکا؟ مجھے خدشہ ہے کہ مشرف حکومت نے جان بوجھ کر لوگوں کو نہیں روکا کیونکہ وہ مغرب کو دکھانا چاہتے تھے کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو اس قسم کے پرتشدد لوگ سامنے آئیں گے۔ محمد یوسف خان، جرمنی: ہمیں یورپ کے جریدوں میں حضور کی سیرت پر مضامین لکھنے چاہئیں اور اپنے آپ کو فسادی لوگوں سے بچانا ہوگا۔ عاقب احمد، کراچی: ہم جس دن رسول اللہ کی سنت پر عمل کرنا شروع کر دیں گیں ہمیں انشاءاللہ ان مسائل سے نجات مل جائے گی، پرتشدد احتجاج بالکل غلط ہے۔ سعید دربندی، پاکستان: حکومت کو چاہیے کہ عوام جو کچھ کہہ رہی ہے اس کی بات کو مان جائے اور وہ ڈنمارک سے اپنے تعلقات ختم کر دے۔ محمد مظفر اقبال خواجہ، پاکستان: ڈینیش ایڈیٹر نے حضرت محمد کی ذات کے بارے میں جانے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھایا، انہیں اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ امبرین بنگش، ٹورانٹو: کارٹون چھاپنے والے ممالک وہ ہیں جن کی کوئی اقدار نہیں۔ وہ اپنے مذہب سے بے خبر ہیں وہ کسی اور کے مذہب کی اقدار کو کیا جانیں۔ ان کو بتانا ہمارا فرض ہے۔ اشعر محمد، کراچی: یہ احتجاج کرنے کا کون سا طریقہ ہے، بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہیں تو مزا آ رہا ہو گا جنہوں نے یہ حرکت کی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نام نہاد مذہبی جماعتیں اس احتجاج کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ہماری جاہل عوام اس معاملے میں ان کا پورا پورا ساتھ دے رہی ہے۔ فخر الاسلام بیگ، کینیڈا: مغربی ممالک نے جو کیا وہ ایک شرمناک بات تھی۔ ہم سب کو بہت افسوس ہے مگر جو پاکستانی عوام کر رہی ہے یہ بھی بہت دکھ کی بات ہے۔ یہ تو ایک قوم لگتی ہی نہیں۔ بلال خان صفی، پشاور: احتجاج کرنا چاہیے لیکن فساد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اپنا ہی نقصان ہے۔  | ہم اپنا امیج خراب کر رہے ہیں  توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کرنا ہرمسلمان کا فرض ہے لیکن جس انداز میں احتجاج کیا جارہا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح ہم اپنا امیج دوسرے ممالک میں خراب کر رہے ہیں۔  شاہد بشیر، پاکستان |
مونا صمد، کراچی: اتنے بڑے سانحے پر احتجاج ضروری ہے ورنہ ہم ایک ایسی قوم بن جائیں گے جس کے نہ کوئی جذبات ہیں اور نہ ہی کوئی مذہبی اور اخلاقی اقدار۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔تنزیل الرحمان، پاکستان: ہمارا اس قسم کا جنونی ردِ عمل مغرب کو اور حوصلہ دیتا ہے کہ مسلمانوں کو ختم کرنا تو بہت آسان ہو گیا ہے۔ اس لیے اس نازک موقعے پر ہمیں ایک دانش مندانہ رویہ اپنا کر اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلانا ہو گا۔ اعظم خان، لاہور: مذہبی وقار کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا حق ہے لیکن اپنے ملک اور معیشت کو تباہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ علی اکبر تھہیم، ٹھٹھہ: او آئی سی اس مسئلے کو حل کرنے کیلیے قدم اٹھائے نہیں تو دنیا میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھے گی۔ عارف سلطان، ناروال: عوام کی اکثریت گستاخ ممالک کا بائیکاٹ چاہتی ہے لیکن حکومتیں ابھی تک کوئی ایسا قدم نہیں لے سکیں۔ اس لیے عوام مشتعل ہیں۔ فرخ شہزاد عالم، پاکستان: احتجاج میں اشتعال کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں حکمران عوام کے ترجمان نہیں ہیں۔ لہذا عوام نے احتجاج میں مغرب سے نفرت کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کے خلاف جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ خضرعارف، یو اے ای: ہر انسان اپنے مذہب کے بارے میں حساس ہوتا ہے اور دینِ حق کو نشانہ بنانا بہت تکلیف دہ بات ہے۔ اس سے مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے۔ جو مظاہرے کئے جا رہے ہیں وہ بر حق ہیں لیکن جو لوگ ان مظاہروں سے اپنی ہی قوم کا نقصان کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ سائرہ یاسمین خان، جرمنی: احتجاج ضرور کریں لیکن پر امن طریقے سے کریں۔ اپنے ہی ملک کو آگ لگانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ آصف خان، کوہاٹ: یہ ہمارے پیغمبر کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان کا جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔ مقصود احمد شاہ، لاہور: مغرب کو مشرق کا احترام کرنا چاہیے اور مسلمانوں کا مذہبی احساسات سے کھیلنا نہیں چاہیے۔ ایسا کرنا اخلاقی جرم ہے اور قوم کے درمیان نفرت پھیلاتا ہے۔ اشرت علی، سویڈن: میری تو سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ ہم لوگ یہ سب کس کے لیے کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں بہت سے لوگ تو اسلام کا مطلب بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ ہادی ظہیر، کوئٹہ: تعجب اس بات پر ہے کہ کارٹون چھپے اتنی دیر گزر گئی۔ پہلے دو ہفتوں میں کسی کو توڑ پھوڑ اور احتجاج کی نہیں سوجی۔ سادہ لوگ پتا نہیں کس کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ عامر نوید ملک، لاہور: 14 فروری کے ہونے والے واقعے کا میں عینی شاہد ہوں۔ یہ سب بربادی اور تباہی کے منصوبے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ہمارے پیغمبر نے تو 63 سال کی زندگی میں صبر کے وہ نمونے پیش کئے کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ شاہد بشیر، پاکستان: توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کرنا ہرمسلمان کا فرض ہے لیکن جس انداز میں احتجاج کیا جارہا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح ہم اپنا امیج دوسرے ممالک میں خراب کر رہے ہیں۔ خود کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چاہیے تو یہ کہ ڈنمارک کا بائیکاٹ کریں۔ اس کی مصنوعات کو نہ خریدیں۔ شاہد مرزا، پاکستان: حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا بھی تو رسول کی شان میں گستاخی ہے۔ ظل ہما حسین، کراچی: یہ درست ہے کہ میڈیا آزاد ہے۔ مگر کسی کے مذہب کا اس طرح مذاق نہیں کرنا چاہیے۔ حسن عالم، امریکہ: اپنے ملک کانقصان کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔ یہ بلکل غلط ہے کہ احتجاج کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی چیزوں اور دوکانوں کو جلا دیں۔ ہم لوگوں کا طریقہ احتجاج دیکھ کر شاید سارا یورپ ہم پر ہنستا ہی ہو گا کیونکہ ان کا کچھ نہیں جاتا۔ ہمیں چاہیے ان ملکوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں اور وہاں سے تجارت بھی ختم کر دیں تاکہ ان ملکوں کو کچھ تو احساس ہو کہ انہوں نے کارٹون چھاپ کر غلط کیا۔ حسن فیاض، کینیڈا: یہ جو بھی لوگ احتجاج کر رہے ہیں کیا یہ جانتے بھی ہیں کہ یہ کس بات پر احتجاج کر رہے ہیں اور کس طرح احتجاج کرنا ہے؟ یا یہ کسی کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مسلمان دنیا میں صرف فساد کرنا جانتے ہیں۔ عبدالباسط، نامعلوم: اپنا نقصان کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اس احتجاج میں عوام کا حکومت پر غصہ بھی شامل ہے۔  | حکومت نے صحیح ترجمانی نہیں کی  جب حکومت عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کرتی تو پھر معاملات عوام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور لاہور میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔  شکیل ملک، لاہور |
عثمان اسماعیل، کوٹ مومن: پر امن مظاہرہ تو قوم کا حق تھا لیکن جو کچھ مظاہروں کے دوران ہوا یہ بہت غلط بات ہے۔ اس توڑپھوڑ سے ہم اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس سے ان ممالک کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مظاہروں میں چند شر پسند لوگوں کی وجہ سے ایسا ہوا۔ نامعلوم: ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اوپوزیشن اور حکومت کے لیڈر حضرات سب مل کر احتجاج کرتے کیونکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے لیکن پاکستانی حکومت اپنی حکومت بچانے کے چکروں میں ہے اور اپوزیشن حکومت بنانے کے چکروں میں۔ اپوزیشن کےلیڈر بجائے اس کے کہ ڈینمارک کی حکومت سے معافی کا مطالبہ کریں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ احتجاج مشرف حکومت کے جانے تک جاری رہیں گے۔ احتجاج کی آرڑ میں اپنی سیاست چمکائی جا رہی ہے اور کچھ نہیں۔ محمد خان، یو کے: یہ جہالت اور مذہبی جنونیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ عام لوگوں کے گھر جلا کر اور تبا ہ کر کے کون سے ناموسِ رسالت کو بچایا جا سکتا ہے۔ اگر میں آپ کا گھر اجاڑ دوں اور کہوں کہ یہ اسلام کی خدمت ہے تو اسلام میں ایسے جنونی جذبات کی کوئئ جگہ نہیں۔ عامر سلیم، راولپنڈی: توہیں آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے مگر ہمیں اپنے املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ہم اس کے بائیکاٹ ان ممالک کی مصنوعات نا استعمال کر کے بھی سکتے ہیں۔ خالد محمود، کوٹلی: یہ بہت غلط بات ہے اگر ہم کارٹونوں پر احتجاج کریں تو عوام اور سرکاری پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ یہ حقیقت میں عوام کا حکومت کے خلاف غصہ ہے جس کا وہ موقع ملنے پر اظہار کر رہے ہیں۔ عمران خٹک، پاکستان: آج کل جو پاکستان میں ہنگامے چل رہے ہیں ان سے ایک بات تو ظاہر ہو جاتی ہے کہ پاکستانی عوام میں کتنا جوش ہے۔ ابھی بھی اسلام لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: یہ پر تشدد ریلیاں صرف توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ مشرف کے خلاف بھی ہیں۔ یہ لوگوں کا غصہ ہے جو لاوا بن کر اب ابل رہا ہے۔ کیونکہ مشرف کی حکومت مغرب کی اتحادی ہے۔ ان کو اب سوچنا ہو گا کہ پاکستان سے اسلام کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ احتشام حنیف قریشی، لاہور کینٹ: اسلام میں حقوق العباد کی کیا اہمیت ہے اسلامی جماعتوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے۔ نبی کی شان میں گستاخی بہت غلط اور نا قابلِ برداشت چیز ہے لیکن لاہور اور پشاور میں جو کچھ ہوا گنتی کے چند لوگوں کی وجہ سے مقصد ہی بدل گیا۔ علی خان، پاکستان: جو کچھ ہو رہا ہے صحیح نہیں ہے یہ حکومت کے خلاف سازش ہے۔ شکیل ملک، لاہور: جب حکومت عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کرتی تو پھر معاملات عوام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور لاہور میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ اگر حکومت دانش مندی کا مظاہرہ کرتی اور ڈنمارک کے سفیر سے گزارش کرتی کہ وہ کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر چلے جائیں تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔ حکومت کو اب عقلمندی سے کام لینا چاہیے۔ جبران حسین، کراچی: جب ہماری امریکہ نواز حکومت کچھ نہیں کرے گی تو ظاہری سی بات ہے پھر عوام کو ہی کرنا پڑے گا۔ یہ احتجاج یورپی ممالک کے خلاف نہیں تھا بلکہ ہماری حکومت کے خلاف تھا کہ وہ ان ممالک سے سفارتی بائیکاٹ کریں۔ لاہور کے مشہور صحافی کہہ چکے ہیں کہ ہنگامہ کرنے والے لوگ وہ نہیں تھے تو احتجاج کر رہے تھے۔ گل وہاب، پشاور: ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں ہم نے اب تک احتجاج کا صحیح راستہ نہیں پہچانا۔ تمام ریلیاں شرپسندوں نے ہائی جیک کر لیں۔ افتخار احمد کشمیری، لندن: دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے نامعلوم: ہر مسلمان نبی کریم سے محبت کرتا ہے۔ یہ فطری تقاضہ ہے کہ وہ احتجاج کرے لیکن پاکستان میں اس کا طریقہ درست نہیں اور نہ ہی دوسرے مسلمان ملکوں میں ہے۔ نعمان، پاکستان: ان مظاہروں کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت سنجیدگی سے اس کارٹونوں پر احتجاج نہیں کر رہی تھی۔ عوام کو حکومت پر سخت غصہ ہے اگر حکومت اس کا سختی کے ساتھ احتجاج کرتی تو یہ مظاہرے کبھی شروع نہ ہوتے۔ نامعلوم: بائیکاٹ جاری رہنا چاہیے لیکن ہر چیز حد میں ہی اچھی لگتی ہے۔ اپنے ملک کی توڑ پھوڑ کی کوئی ذی عقل حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا۔ لیکن حکومت کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور ان ممالک سے بلا تاخیر اپنے سفیر واپس بلانے چاہئیں کیونکہ مذہب کی تعظیم اظہار رائے سے زیادہ اہم ہے۔ اظہار رائے کی حدود کا بھی تعین کیا جانا چاہیے اور ان ممالک کو بھی معذرت کرنی چاہیے۔ سلمان علی، کینیڈا: کسی بھی ایسی چیز کی اشاعت جس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ لیکن اس قدر احتجاج اور اپنی املاک کو نقصان پہنچانے سے لوگوں کے شعور کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس اشاعت کی مذمت ہونی چاہیے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کوئی وجہ نہیں۔ محمد بشیر خان، شارجہ: پر امن احتجاج جاری رہنا چاہیے جب تک اس میں ملوث ملک معافی نہیں مانگتے مگر وہ بہت ڈھیٹ ہیں۔ مسلمان ممالک کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور او آئی سی کے پلیٹ فارم سے یک جہتی کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔  | حکومت اس کی ذمہ دار ہے  اگر ہماری روشن خیال حکومت اس مسئلے پر عقل سے کام لیتی اور ڈنمارک اور دوسرے نام نہاد جمہوریت کے علمبردار ملکوں کو ان کی بد زبانی کا احساس دلاتی تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہمارے حکمران ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایسے واقعات ہی ہونے تھے۔  تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان |
عثمان شاہ، کشمیر: ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اسلام کی بے حرمتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنا گھر جلا ڈالیں۔ پاکستان نے تو کچھ نہیں کیا تو پھر پاکستان کے خلاف کیوں مظاہرے ہو رہے ہیں؟ اسد حسین، کشمیر: پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی ایک شرمناک فعل ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس پر احتجاج مسلمانوں کا حق ہے۔ لیکن پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی یہ کوئی اسلام کی خدمت ہے اور اس طرح کے خونی مظاہروں سے احتجاج کا اثر زائل ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں مغربی ممالک کو معافی مانگ لینی چاہیے اور مستقبل میں ایسی جسارت کے نہ دہرانے کی ذمہ داری لینی چاہیے تاکہ انسانیت کو تہذیبوں کے تصادم کی جانب جانے سے بچایا جا سکے۔ بصورت دیگر سب کا نقصان ہو گا۔ یہ معاملہ انا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ زیادہ مدبرانہ سوچ کا متقاضی ہے۔ عمیر ڈار، سپین: مظاہرے ہونے چاہیئں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہونے چاہئیں مگر پر امن ہونے چاہئیں۔ تشدد والے مظاہرے کر کے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ یورپی ذرائع ابلاغ تو پہلے ہی مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کے واقعات ڈھونڈتے ہیں۔ اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان: پرتشدد مظاہرے ٹھیک نہیں، اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں۔ اگر اس مسئلے کو جلدی حل کر لیا جاتا تو احتجاج میں تشدد شامل نہ ہونے پاتا۔ مگر یورپی ملکوں کے حکمرانوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور ہٹ دھرمی سے تشدد نے خود ہی اپنی جگہ بنا لی ہے۔ مگر میں اپنے مسلمان بھائیوں سے ایک بات ہی کہوں گا کہ یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں نہ کہ اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر جگ ہنسائی کا سبب بنیں۔ ظفر خان، کینیڈا: اللہ اسلام کو ان نام نہاد مسلمانوں سے بچائے۔ آج کل اسلام تو صرف نام کو رہ گیا ہے، قرآن صرف لکھے جانے کے لیے اور مساجدصرف لڑنے کے لیے رہ گئی ہیں۔ تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان: اگر ہماری روشن خیال حکومت اس مسئلے پر عقل سے کام لیتی اور ڈنمارک اور دوسرے نام نہاد جمہوریت کے علمبردار ملکوں کو ان کی بد زبانی کا احساس دلاتی تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہمارے حکمران ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایسے واقعات ہی ہونے تھے۔ ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اب تو غفلت سے جاگ جائیں اور اپنے مسلمان ہونے کا کچھ تو ثبوت دیں۔ دنیا کی یہ حکمرانی اور زندگی چند دن کی ہے، پھر وہی اللہ کا دربار ہو گا اور تمہاری یہ گردنیں، سوچو کس کس کے ہاتھ میں تمہارا گریبان ہو گا؟ محمد مجتبٰی، نیو یارک، امریکہ: میرے خیال میں یہ احتجاج کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ ہم اپنی املاک تباہ کر کے کیا فائدہ حاصل کر رہ ہیں؟ ہم صرف ایک دوسرے کا نقصان کر رہ ہیں۔ جو تین لوگ مرے ہیں ان کا کون ذمہ دار ہے؟ ان کے بچوں کا کون خیال رکھے گا؟ فاروق خان، کویت: پاکستان میں کیا ہوا ہے؟ یہ تو لوگوں کے مشرف کمپنی اور مغرب کے بارے میں جذبات کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ مغرب کو پتہ ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح تنگ کرنا ہے اور یہ تشدد کی ایک نئی قسم ہے۔ پاکستان کے عام لوگ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں اسمبلی، یا حکومت کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ، بینک یا اسمبلی کو آگ لگ گئی ہے تو اس سے عام آدمی کو کیا فرق پڑتا ہے؟ انہیں ان سب کی ضرورت نہیں ہے۔ اظہر میر، امریکہ: اس احتجاج کے نام پر لوگ اپنی ہر طرح کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ ہلال باری، لندن: جناب! جب عوام نے یہ محسوس کیا کہ پرامن احتجاج کو مشرف اور کے حواری کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو انہوں نے احتجاج کا وہ رخ اختیار کیا ہے جس کو عام الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے، ’یہ حکومت لاتوں کی بھوت ہے، باتوں سے نہیں مانے گی‘۔  | پاکستان کے خلاف مظاہرے کیوں؟  ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اسلام کی بے حرمتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنا گھر جلا ڈالیں۔ پاکستان نے تو کچھ نہیں کیا تو پھر پاکستان کے خلاف کیوں مظاہرے ہو رہے ہیں؟  عثمان شاہ، کشمیر |
ناصر، دوحہ، قطر: نبی کریم پر غیرت کرنا ہم سب پر فرض ہے لیکن احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرنا غلط بات ہے۔ ہمیں ہوش سے کام لینا چاہیے، اس طرح کی حرکت اسلام کے دور میں کبھی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، کراچی، پاکستان: لوگ عاشورہ گزارنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ امریکہ کے غلام مشرف کسی طرح بھی ڈنمارک اور ناروے کے سفیروں کو ملک بدر نہیں کر رہے تو انہوں نے وہی طریقہ اختیار کیا جو پاکستان میں مقبول ہے اور جس کے بعد اپنی جائز بات منوائی جا سکتی ہے۔ احسان اللہ، پشاور، پاکستان: یہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس کی ذمہ دار حکومت پاکستان ہے۔ حکومت نے ایسے کوئی اقدام نہیں کیے جس سے عوام ذرا خوش ہوتے۔ ایران، سعودیہ اور بہت سے اسلامی ممالک نے ایسے عملی اقدامات کیے ہیں جس سے وہاں اب حالات معمول پر ہیں۔ حکومت پاکستان ایسا کیوں نہیں کرتی؟ ہارون خان، امریکہ احتجاج ہونا چاہیے لیکن اس طرح نہیں۔ نبی اسلام کے وقت میں لوگ ان کو پتھر بھی مارتے رہے لیکن انہوں نے کوئی ردعمل نہ دیا۔ اگر ہم ان کے ساتھ برا سلوک کریں تو ہم میں اور ان میں فرق کیا رہ جائے گا؟ افسوس کا اظہار کرنے کے اور بھی کئی طریقے ہیں۔ ضمیر احمد، ریاض: پاکستان کے مخالف عناصر اس جہالت سے اور ان غیر مہذب تحریکوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اللہ ہمارے پاکستان کی مدد کرے اور لوگوں کو شعور دے۔ دلدار اسلم، دبئی: یہ کیسا احتجاج ہے، اپنا ہی ملک تباہ کر ہے ہیں۔ خورشید انور، دبئی: کیا یہ صحیح ہو گا کہ یہ سب احتجاجی لوگ چپ کر کے بیٹھے رہیں اور اس طرح کی حرکتیں کرنے والے اسی طرح کے فعل انجام دیتے رہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی اقدار اور ان کے رہنماؤں کا مذاق اڑائے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ سب حرکتیں اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے کر رہے ہیں۔ محمد فیض علی، یو اے ای: اصل میں ہمارے ملک میں ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو جو کچھ کرنا چاہیے وہ ہم نہیں کر رہے۔ عوام جس طرح جذباتی ہیں وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اپنے ملک کو نقصان پہنچانے سے ان کا کیا نقصان ہوگا جن کی وجہ سے یہ مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ بہت غلط کیا ہے اور اس کی سزا اللہ انہیں دنیا میں بھی دے گا اور آخرت میں بھی۔ محمد سلیمان، لاہور: میں حضرت محمد کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہوں اور اگر کسی نے ان کی بےحرمتی کی تو وہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گی۔ حیدر شاہ، پاکستان: کسی کو جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے۔ کارٹونوں سے مغربی انتہا پسند واضع ہوگئے۔ تاظن پاشا، بحرین: مغربی ممالک نے جو گستاخی کی ہے اس پر ان کو سزا ملنی چاہیے۔ مگر یہ کیسی سزا ہے کہ پاکستان کے لوگ اپنے ہی لوگوں کو دے رہے ہیں اور ان کا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ احتجاج ان کا حق سہی مگر غریب لوگوں کی گاڑیاں اور موٹرسائیکل جلا کر راکھ کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ میرے خیال میں یہ تعلیم کی کمی ہے اور خود سے اسلام کو بدنام کرنا ہے۔  | پاکستان کو اس کا نقصان ہے  پاکستان کے مخالف عناصر اس جہالت سے اور ان غیر مہذب تحریکوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اللہ ہمارے پاکستان کی مدد کرے اور لوگوں کو شعور دے۔  ضمیر احمد، ریاض |
کاشف رشید، لاہور: جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں ان کی مناسب رہنمائی نہیں کی گئی کہ ان کو کس طرح سے احتجاج کرنا چاہیے۔ عبداللہ، حیدر آباد: جب حکمران عوام کے جذبات کے مطابق قدم نہیں اٹھائیں گے تو عوام قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ویسے ان مظاہروں سے حکمرانوں کی روشن خیالی کی ایسی تیسی ہو گئی ہے۔ عامر عالم ، پاکستان: میرے خیال میں ہمیں احتجاج کرنا چاہیے لیکن اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہمیں دہشت گردی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ نامعلوم: جب یہ واقع پیش آیا تو مسلمانوں کو شدید سدمہ اور افسوس ہوا۔ شروع میں پاکستان اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ یورپ شاید اس واقع پر معافی مانگے گا۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ یورپ کو اس حرکت پر ذرہ بھر بھی پشیمانی نہیں ہوئی۔ فیصل اظہر، امریکہ: اگر ہم مسلمان اتنے مضبوط ہوتے تو یہ دن آج دیکھنا ہی نہ پڑتا۔ اسماعیل، دبئی: کیا ان کے اس احتجاج سے ڈنمارک کی حکومت مذہبی دل آزاری کے خلاف قانون بنا دے گی؟ نصراللہ کھوسہ، نواب شاہ، پاکستان پاکستان کو ان مظاہروں سے سبق سیکھنا چاہیے کہ اب وہ مغرب کی نمائندگی کرنے کی بجائے اپنے لوگوں کی نمائندگی کرے تو بہتر ہے۔ یہ غصہ صرف مغرب کے لیے نہیں بلکہ پاکستان میں جو حکومت ہے اس کا بھی نتیجہ ہے۔ ہمیشہ پاکستانی حکومت نے پاکستانی عوام کے جذبات اور احساسات سے کھیلا ہے۔ لیکن یہ مظاہرے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ فیصل بھٹی، راولپنڈی، پاکستان جس قدر فساد مذہب کے نام پر ہو رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انسان مذہب کے لیے نہیں بنا بلکہ مذہب انسان کے لیے بنا ہے۔ اس لیے سب کو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔ سعید حسین اکبری، کینیڈا ہمارے مولوی حضرات لوگوں کی کم علمی سے پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ سب خود تو آرام سے گھر بیٹھے ہیں اور عام لوگ مر رہے ہیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ مغربی دنیا نے شرمناک حرکت کی ہے۔ اس کے خلاف جتنا احتجاج کیا جائے کم ہے۔ لیکن توڑ پھوڑ تو مغرب کے لیے خوش کن ثابت ہو گی کہ اسلامی دنیا میں تباہی آسانی سے پھیلا لی گئی۔ ایران، سعودی عرب اور انڈونیشیا کا اقدام مثبت ہے کہ تمام یورپی ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ اگر وہ متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف جو چاہے حرکت کر سکتے ہیں تو ہم بھی ایسے اقدام کریں جس سے انہیں مسلم ممالک کے اتحاد کا اندازہ ہو سکے۔ توڑ پھوڑ سے تو ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔  | لوگ معاشی حالات سے پریشان ہیں  پاکستان میں جاری احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے لوگ اپنی حکومت اور ملک میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات سے کس قدر پریشان ہیں۔  امداد حسین، سویڈن |
انعام، لاہور، پاکستان احتجاج پر امن ہی کافی ہے لیکن پرتشدد احتجاج سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عوام حکومت سے کافی تنگ ہیں۔ اس توڑ پھوڑ میں علماء نہیں بلکہ عام لوگ تھے۔ ایسے احتجاج میں ہمارا اپنا ہی نقصان ہے، ڈنمارک یا کسی مغربی ملک کا نہیں۔ احسن وحید، جہلم، پاکستان مجھے اپنے نبی سے محبت ہے اور ہم لوگ ان کے لیے جان بھی قربان کر سکتے ہیں۔ خرم سید، گجرات، پاکستان احتجاج جاری رہنا چاہیے لیکن پرامن۔ جن لوگوں نے تشدد کروایا ہے ان کا یہ عمل کارٹون شائع کرنے سے کم نہیں۔ کیونکہ کارٹون شائع کرنے والے تو غیر مسلم ہیں لیکن یہ تو خود ہی مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے۔ احتجاج تب تک جاری رہنا چاہیے جب تک ڈنمارک اور دوسرے یورپی ممالک حکومتی سطح پر معافی نہیں مانگ لیتے۔ نامعلوم میرے خیال میں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق تو ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی ہی چیزیں تباہ کرنا شروع کر دیں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں غیر مسلموں سے لڑنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ نامعلوم: جس طریقے سے پاکستانی احتجاج کر رہے ہیں وہ بیوقوفی ہے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ لوگ اپنے بھائیوں اور اپنے ملک کی املاک کو کیوں نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اقبال، اسلام آباد، پاکستان جو کچھ ہو رہا ہے بہت بڑا المیہ ہے، پہلے کارٹون اور پھر مظاہرے۔ پر امن احتجاج ہر ایک کا حق ہے لیکن سفارتخانوں اور عمارتوں کو جلانے اور خاص طور پر کسی معصوم کا خون بہانے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ نجانے لوگ نبی کریم کی طائف والی تعلیمات کیوں بھول گئے ہیں؟ لگتا ہے کہ ہم اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی بہترین ہے۔ عدنان اقبال، نبراسکا، امریکہ: یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ مسلمان احتجاج میں اپنے ہی گھر کو جلا رہے ہیں۔ ڈنمارک اور دوسرے یورپی ملک اب ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بات کو ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اتنے سال گزر جانے کے باوجود ہمارے لوگوں کی توڑ پھوڑ کی عادت نہیں بدلی۔ لاہور میں عمارتوں اور املاک کو جلتا دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ اس قسم کے لوگ تمام مسلمانوں کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔ محمد فیصل، بریمن، جرمنی: اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کارٹونوں سے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لیکن ان پر تشدد مظاہرے جن میں معصوم لوگوں کا خون بہا ہے اور بے قصور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اس قسم کی حرکت بھی اللہ اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی سراسر توہین ہے۔ شاہینہ اعوان، کینیڈا: پاکستان کے لوگوں کو احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں۔ کیا اس قسم کا احتجاج ثواب کا کام ہے؟ اسد محمد خان، اسلام آباد: شریعت میں پرتشدد احتجاج کی کوئی جگہ نہیں۔ کارٹون نے مسلمانوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اس قسم کے احتجاج نے پہنچایا ہے۔ مسلمان خود ہی اسلام کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں۔ ہمارے یہ اعمال دیکھ کر کون اسلام قبول کرے گا؟ امداد حسین، سویڈن: پاکستان میں جاری احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے لوگ اپنی حکومت اور ملک میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات سے کس قدر پریشان ہیں۔ مہران تنولی، مانسہرہ: پاکستان یورپی اخباروں کو ٹھیک جواب دے رہا ہے لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان میں دو مخالف گروپ ہیں، ایک ہیں حکمران اور دوسرے عوام۔ ایک عام آدمی ہونے کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ جو آج ہوا وہ غلط تھا لیکن پاکستان کے مذہبی امور کے وزیر نے ٹی وی پر کہا کہ ’یہ سو فیصد غلط بات تھی، اس سے یورپی لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے‘۔ کتنی غلامانہ بات ہے کہ انہیں یورپ کے لوگوں کی فکر ہے۔ میں نہیں کہتا کہ جو لاہور میں ہوا ٹھیک ہوا لیکن مجھے وزیر صاحب کے خیالات سے بھی اتنا ہی اختلاف ہے کیونکہ ان کا نقطہ نظر ہی غلط ہے۔ سہیل سعید، مانچسٹر، برطانیہ: معلوم نہیں ہم لوگوں کو کب عقل آئے گی۔  | حکومت نے کچھ نہیں کیا  پاکستانی عوام پہلے ہی حکومت سے ناراض تھی اور جب حکومت نے اس واقعے پر رسمی احتجاج سے زیادہ کچھ نہیں کیا تو لوگ مشتعل ہو گئے  سید شفیق پرویز شاہ، اٹک |
بلو شہزادہ، سمن آباد، پاکستان: یہ جو ہوا سب پاگل پن تھا۔ ملا حضرات کو اور کوئی کام نہیں، اسلام کو بدنام کر دیا ہے اس قسم کی باتوں سے۔ نصیر ظفر، اسلام آباد: یہ احتجاج کا کوئی طریقہ نہیں ۔ آخر ہم کس کے لیے کام کر رہے ہیں؟ ہم اپنی املاک کو آگ لگا رہے ہیں اور اپنی ہی سٹریٹ لائٹس کو توڑ رہے ہیں۔ مغرب کو اپنے احتجاج سے آگاہ کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لیے اس موقعے کو استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ آج کی توڑ پھوڑ سے کتنے ہی لوگوں کو بےروزگار کر دیا گیا۔ سید شفیق پرویز شاہ، اٹک: پاکستانی عوام پہلے ہی حکومت سے ناراض تھی اور جب حکومت نے اس واقعے پر رسمی احتجاج سے زیادہ کچھ نہیں کیا تو لوگ مشتعل ہو گئے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی املاک کے نقصان سے ڈنمارک کو کیا تکلیف ہو گی؟ |