’کارٹون بنانے پر افسوس نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ نے کہا ہے کہ انہیں یہ کارٹون بنانے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ کرٹ ویسٹگارڈ نے اسکاٹ لینڈ کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ کارٹون دنیا میں ہونے والی دہشت گردی سے متاثرہ ہو کر بنائے تھے کیونکہ ’دہشت گردی کو ایندھن اسلام سے ملا ہے۔‘ گلاسگو ٹربیون سے انٹرویو میں ویسٹگارڈ نے کہا کہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا اہم جز ہوتے ہیں۔ تاہم ویسٹگارڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس قسم کے ردعمل کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ کارٹونسٹ نے کہا کہ وہ ڈنمارک اور یورپ میں پائے جانے والے دہرے معیار کو بھی آشکار کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان میں ان کو قتل کرنے والے لیے انعام کے اعلان کے بعد ویسٹگارڈ چھپ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں نائجیریا میں احتجاج، 16 ہلاک18 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی18 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازعہ: ایک مذاکرہ18 February, 2006 | Poll | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||