کارٹون تنازعہ: مسئلہ کم علمی ہے یا انسانی حقوق کا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ کاٹونوں کی اشاعت اور اس پر مسلمان ممالک میں شدید احتجاج پر کئی آراء منظر عام پر آ رہی ہیں۔ جہاں مغرب میں اس پر مختلف مؤقف سامنے آرہے ہیں اور مسلمان ممالک میں مختلف، وہیں مغربی مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے مسلمانوں میں بھی ہر قسم کی آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے برطانیہ کی مسلم پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی اور پاکستانی صحافی اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریتیجک سٹڈیز کی ڈاکٹر شیریں مزاری سے ان کی رائے پوچھی۔ آپ ان کی آراء پر اپنے ردًِ عمل کا اظہار بائیں ہاتھ دیے گئے ای میل فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں۔
کارٹون تنازعے میں ایک بات جو کھل کر سامنے آئی ہے وہ مغرب اور مسلمان معاشروں میں فرق ہے اور یہ فرق ہے علم کی کمی کا۔ گزشتہ دو ڈھائی سو سال سے مسلمان معاشرے علم کی کمی یا (deficit of knowledge) کا شکار ہیں۔ مسلمانوں نے اس عرصے میں انسانیت کی بھلائی کے مشترکہ کاموں میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب دنیا مسلمانوں کے بغیر آگے جا رہی ہے۔ مغرب کا کہنا ہے جب مسلمانوں کا گزشتہ کئی دھائیوں میں ہونی والی ترقی میں کوئی کردار ہی نہیں تو انہیں ہم پر اعتراض کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مغرب میں شدت پسند لوگ بھی موجود ہیں جو کہ غیر یورپی قوموں کے خلاف ہیں لیکن ان معاشروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جانتے ہیں کہ اب انہیں ایک کثیرا لتہذیبی (muti-cultural) دنیا میں رہنا ہے جہاں انہیں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگوں کے ساتھ پر امن طور پر رہنا ہے۔ اب یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں اور مغرب کے ساتھ مکالمہ میں مذہب کی بجائے سیکولرازم کی زبان استعمال کریں۔ مغرب کے ساتھ ڈائیلاگ کا یہی بہترین انداز ہو سکتا ہے۔ مسلمان معاشروں میں سیاسی زوال کی اصل وجہ علمی زوال ہے۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان غیروں کی تعلیم کو زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ اسلام کے اندر بھی بحث و مباحثہ کی روایت ختم ہو گئی ہے جس کا نتیجہ فرقہ واریت کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔
پیغمبر کے کارٹونوں کی اشاعت کو مغرب نے آزادیِ رائے کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن بد قسمتی سے مسلمان ملکوں میں ہونے والے مظاہروں کی شدت نے یہ بحث اپنے اصل موضوع سے ہٹ گئی ہے اور اس کا مرکز مسلمانوں کی اشتعال پسندی اور تشدد بن گیا ہے۔ یہ بے انصافی ہے کہ جرم کرنے والے مسلمانوں کو اشتعال پسند اور پر تشدد قرار دے کر اپنے جرم کو چھپا رہے ہیں۔ میرے خیال میں علم کی کمی مغربی معاشروں میں زیادہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ مغرب میں لوگوں کو نہیں معلوم کہ دوسرے مذاہب اور لوگوں کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔ اگر مغرب کا علم زیادہ ہے تو پھر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معیار پر پورے اتریں کیونکہ آزادی اظہار کی حدود کو مسلمان ممالک نے نہیں بلکہ یورپی ممالک نے توڑا ہے۔ کارٹونوں کی اشاعت سے مغربی ذرائع ابلاغ نے خود اپنے بنائے ہوئے اصولوں سے روگردانی کی ہے کیونکہ یورپ میں آزادی اظہار کی حدود آئینی طور پر طے ہیں۔ ان حدود کے تحت حکومت کسی بھی ایسی چیز پر پابندی لگا سکتی ہے جس سے امن عامہ یا دوسرے شہریوں کے جذبات مجروح ہونے کا خطرہ ہو۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ خاکے شائع کرنے والے اخبار کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے، درست نہیں ہے کیونکہ یورپی ہیومن رائٹس کنونشن کے تحت ڈنمارک کی حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ اخبار کے خلاف کارروائی کر سکے۔ غیاث الدین صدیقی برطانیہ میں رہتے ہیں اور مسلم پارلیمینٹ آف بریٹن کے ممبر ہیں۔ وہ اسلامی بنیاد پرستی، سیاست اور یورپی اسلام کے ماہر جانے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر شیریں مزاری اسلام آباد میں مقیم ہیں اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کی ڈایڑیکٹر ہیں اور ایک انگریزی روزنامے میں مستقل کالم لکھتی ہیں۔ اس مذاکرے میں شائع ہونے والی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
ڈاکٹر صدیقی کی کچھ باتیں صحیح ہیں لیکن کچھ پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلمان علمی لحاظ سے کافی پیچھے ہیں لیکن مسلمان کسی کو ترقی سے نہیں روکتے بلکہ خود بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ترقی میں خود مغرب اور مغرب نواز شخصیات رکاوٹ ہیں۔ مغرب مسلم ممالک میں نصاب تبدیل کرنے پر تو زور دیتے ہیں لیکن یہ بات صرف اسلامیات، اردو اور تاریخ کے مضامین تک محدود رکھتے ہیں۔ مغرب نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اپنی فزکس، کیمسٹری یا ریاضی کو بھی نئے دور سے ہم آہنگ کرو۔ یہ دھرا معیار ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مغرب کو مسلمانوں سے نظریاتی خطرہ ہے۔ رہی بات ترقی کی تو مغرب کی ترقی کی بنیاد بھی مسلمانوں کی آّٹھ سو سالہ سائنس سے اخذ شدہ ہے۔ آج بھی مائیکروسوفٹ کا سیکورٹی کا شعبہ جابر بن حیان کی تھیوری استعمال کر رہا ہے۔ ترقی میں وہ سب لوگ عظیم ہیں جنہوں نے چاہے بنیادی کام ہی کیا ہو۔ پہیہ جو ہزاروں سال پہلے ایجاد ہوا تھا اس کا بھی آج کی ترقی میں حصہ ہے۔ میرے خیال میں ترقی ایک تسلسل کا نام ہے صرف تین سو سال کی ترقی کا نہیں۔
میری نظر میں دونوں ماہرین غلط ہیں، غیاث صاحب یورپ میں ہیں اس لیے یورپ کا نقطہ نظر رکھتے ہیں جبکہ شیریں مزاری پاکستان میں ہیں اس لیے وہ پاکستانی معاشرے کو بہتر جانتی ہیں۔ یہ بات کہنا غلط ہوگا کہ اس قضیے کا باعث علم کی کمی ہے کیونکہ انسانیت کے لیے مسلمان بھی سرگرم عمل رہے ہیں۔ اصل مسئلہ مسلمانوں کا امیر اور حکمران طبقہ ہے جو عوام کو جینے کا حق نہیں دیتا۔ اگر یورپ اتنا ہی ترقی یافتہ ہوتا تو اسے ایشیا کی ضرورت نہ ہوتی اور نہ ہی مشرق کو مغرب کی۔ تعلیم انسان کو جیواور جینے دو کا درس دیتی ہے مگرمغرب کو تعلیم نےصرف طاقت کا غرور دیا ہے۔ انہوں نے علم کو تباہی کے لیے استعمال کیا ہے، پہلی اور دوسری جنگ عظیم اس کی مثالیں ہیں۔ اب وہ مسلمانوں سے بلاوجہ جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا، شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں۔ دوسری طرف مسلمان خود کو اتنا کمزور سمجھتنے ہیں جتنےوہ شاید ہیں نہیں، اور یہی ہے مسلمانوں کی کم علمی۔
یہ بات حقیقت ہے کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں، لیکن علم سے میری مراد دنیاوی نہیں دینی علم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان اپنے دین میں آگے تھے اس وقت تک وہ دنیا میں بھی آگے تھے اور تب مغربی دنیا تاریکی کے دور سےگزر رہی تھی۔ نبی کی گستاخی کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کو خطرہ ہے کہ اب مسلمان واپس اپنے دین کے قریب ہو رہے ہیں اور یہ کہ کہیں پھر مسلمان غالب نہ آجائیں۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ دین تو دہشتگردی کا دوسرا نام ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||