BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 February, 2006, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی

خواتین ریلی
ریلی میں شریک خواتین چوڑیاں لہرا کر حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کرتی رہیں۔
پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف ہفتے کی شام کراچی میں ہزاروں خو اتین نے احتجاج کیا ہے۔

قائد اعظم مزار کے سامنے سے یہ ریلی نکالی گئی جس کا انعقاد جماعت اسلامی کی خواتین ونگ کی طرف سے کیا گیا تھا۔


ریلی میں حجاب اور برقعہ پہنی ہوئی خواتین سمیت بڑی تعداد میں عام خواتین نے بھی شرکت کی۔ ریلی میں کئی خواتین کے ہاتھوں میں شیر خوار بچے بھی تھے۔ جبکہ بزرگ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

احتجاجی ریلی کی سربراہی ممبر قومی اسمبلی عائشہ منور، سمیعہ قاضی، سینیٹر کوثر فردوس، ممبر صوبائی اسمبلی کلثوم نظامانی کر رہی تھیں۔

خواتین کی سر پر اللہ اکبر اور کلمے کی تحریری پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جبکہ ہاتھوں میں قرآن ، پوسٹر اور بینر تھامے ہوئے تھے۔

ایم اے جناح روڈ پر قائد اعظم کے مزار کے داخلی راستے کے سامنے امریکہ، ڈنمارک اور اسرائیل کے جھنڈوں کو پیروں تلے روندنے کے بعد نذر آتش کیا گیا۔

خواتین چوڑیاں لہرا کر حکمرانوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتی رہیں۔ریلی سے ممبر قومی اسمبلی عائشہ منور،سمیعہ قاضی، سینیٹر کوثر فردوس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے باپ ،بیٹوں، بھائیوں، شوہرں سے زیادہ پیغمبر اسلام کی ذات عزیز ہے جس کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ کارٹون شائع کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اگر عورت نہیں چاہیےگی تو مرد کبھی ان ممالک کی چیزیں نہیں لائیں گے۔

خواتین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ کارٹون غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر شائع کیے گئے تا کہ مسلم امت کے جذبات مجروح کیے جائیں اور انہیں اذیت میں مبتلا کیا جائے، اگر یہ غلطی ہوتی تو اس کی دوبارہ اشاعت ہرگز نہ ہوتی۔

مقررین نے کہا کہ ریلی میں صرف برقعہ پوش خواتین ہی موجود نہیں ہیں ہم سب ایک نقطے پر متفق ہیں کہ شانِ رسول میں کوئی گستاخی قبول نہیں کی جائیگی۔

انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ بھی خواتین کے جذبات کو دیکھیں اور ان ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر مکتبِ فکر کے احتجاج کے بعد اب پولیس اور پاک فوج کو بھی پرامن ریلیاں نکالنی چاہیں اور ان کی رہنمائی سربراہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کارٹوں شائع کئے ہیں وہ دنیا کے سب سے بڑے دہشتگرد ہیں جن کو دنیا کا کوئی مسلمان برداشت نہیں کرے گا۔

سرحد کے سینئیر وزیر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ناموسِ رسالت پر ہم اپنی ایک لاکھ حکومتیں قربان کرنے کو تیار ہیں ہمیں حکومت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا جس طرح پاکستان سے ایمل کانسی اور دیگر لوگوں کو پکڑ کر دوسرے ممالک کے حوالے کیا گیا اسی طرح کارٹوں بنانے والوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے تاکہ انہیں شریعت کے مطابق سزا دی جاسکے۔

احتجاجکارٹون تنازعہ، ایک نظر
اسلامی دنیا اور مغرب کے تعلقات میں کتنی نزاکت ہے۔
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
افغانستان تا صومالیہ
افغانستان اور صومالیہ میں 6 افراد ہلاک
اسی بارے میں
تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی
15 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد