BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں

پشاور میں ہنگامے کے دوران شیلنگ
پشاور میں ہنگامے کے دوران شیلنگ
ملک میں جاری احتجاج کی لہر یوں تو یورپی اخباروں میں چھپنے والے پیغمبر اسلام کے خلاف مبینہ توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف ہے لیکن اس احتجاج کی شدت اور اس میں شریک لوگوں کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ لوگ حکومت کے بارے میں اپنے دبے ہوئےغصہ کا اظہار بھی کررہے ہیں۔


ڈنمارک کے اخبار میں مبینہ توہین آمیز کارٹون چھ مہینے پہلے چھپے تھے جس کی خبریں بھی پاکستانی اخباروں میں تقریباً اسی وقت شائع ہوگئی تھیں لیکن اس کے خلاف احتجاج اب شروع ہوا ہے اور ایسا کہ روز دو تین لوگ مررہے ہیں اور زبردست توڑ پھوڑ ہورہی ہے۔

مبینہ توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف احتجاج میں دو تین روز سے جو شدت آئی ہے اس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ اس سے پہلے بھی مختلف معاملات پر مذہبی جماعتیں احتجاج کی کال دیتی رہی ہیں جس پر بڑے بڑے جلوس نکالے گئے، جزوی ہڑتالیں بھی ہوئیں لیکن ان میں ایسی شدت نہیں تھی اور تشدد نہیں ہوا۔

ایک تو یہ پہلا احتجاج ہے جس میں سابقہ لشکر طیبہ کے سربرارہ کی قیادت میں قائم مبینہ شدت پسند مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ بھی سرگرم ہے۔ اس تنظیم کے پاس نظریاتی، منظم اور نوجوان کارکنوں کی بڑی کھیپ ہے جو پہلی بار کسی احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ یوں اس تحریک سے یہ تنظیم پہلی بار ملکی سیاست یا کم سے کم پنجاب میں میں ایک موثر گروپ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایک نوجوان لاٹھی کی زد پر

لاہور میں منگل کے روز جو مظاہرے ہوئے ان میں نوجوان لڑکوں کی ٹولیاں آگے آگے تھیں جو توڑ پھوڑ کرتی رہیں اور آگ لگاتی رہیں۔ پینٹ شرٹ پہنے بغیر داڑھی کے ان نوجوانوں کے حلیوں سے لگتا تھا کہ وہ کسی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں۔

عام خیال ہے کہ گلی محلے کے نوجوان بیس پچیس برس کے لڑکے خود بخود اس احتجاج میں شریک ہوگئے۔ کسی جماعت سے وابستگی کے بغیر احتجاج میں شریک ہونے والی یہ نئی نسل تھی۔ سوال یہ ہے کہ کم آمدن والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان لڑکوں کا محرک کیا صرف یہ تھا کہ کارٹونوں کے معاملہ پر ان کاروباری اداروں پر اپنا غصہ نکالا جائے جنہوں نے ہڑتال کے روز کام بند نہیں کیا تھا جیسے بنک، ملٹی نیشنل ٹیلی فون کمپنیاں اور کے ایف سی اور میکڈونلڈ یا بات اس کے علاوہ بھی کچھ ہوسکتی ہے۔

جس طرح لاہور میں نوجوان مظاہرین نے صدر بش اور جنرل مشرف کے خلاف ایک ہی سانس میں نعرے لگائے اس سے یہ نتیجہ تو نکالا جاسکتا ہے کہ مظاہرین صدر بش کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تصور کرتے ہیں اور شائد صدر مشرف کو صدر بش کا ساتھی اور اتحادی سمجھتے ہوئے انہیں بھی اسی زمرے میں شمار کرتے ہیں۔

دینی جماعتوں کی طرف حکومتی رویہ
اگرمنگل کے روز کے حفاظتی اقدامات کا موازنہ کچھ عرصہ پہلے شہباز شریف کی آمد اور آصف زرداری کی آمد پر کیے گئے حفاظتی اقدامات سے کیا جائے تو فرق صاف ظاہر ہے کہ حکومت مذہبی گروہوں کے ساتھ نرمی سے جبکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہت سختی سے نپٹتی ہے۔

پاکستان میں غیر ملکی ریستورانوں کو یہودی کمپنیوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور اس لیئے انہیں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہونے کی علامت کے طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کم آمدن کے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یہ ناراضگی نہیں ہے کہ یہ ریستوران یہودیوں کی ملکیت ہیں یا فون کمپنیاں مغربی ممالک کی ہیں بلکہ انہیں یہ بھی غصہ ہے کہ وہ ان مہنگے ریستورانوں میں خود کھانا نہیں کھا سکتے اور انہیں اتنا محروم رکھا گیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کی مصنوعات کو استعمال نہیں کرسکتے۔

احتجاج صرف کارٹونوں پر ہوتا تو پاکستان کے لوگوں کی موٹرسائکلیں اور کاریں کیوں جلائی جاتیں اور لاہور میں ایک پاکستانی بنک پر کیوں حملہ کیا جاتا؟ شائد کارٹونوں کے معاملہ پر احتجاج میں عام لوگوں کا اپنی مشکلات اور حکومتی پالسیوں پر پکنے والا لاوا بھی باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔

طویل عرصہ سے پاکستان میں کوئی سیاسی تحریک نہیں چل سکی۔ سیاسی معاملات پر اے آر ڈی اور مجلس عمل کی احتجاج کی اپیلوں پر لوگوں نے کان نہیں دھرا۔ ملک میں ایسی سیاسی قیادت نہیں جو کوئی تحریک چلاسکے۔ ایسے میں کہاجاسکتا ہے کہ ڈنمارک کےکارٹونوں کے معاملہ پر جو احتجاج شروع ہوا عام لوگوں نے اس میں شامل ہوکر اس میں اپنا ایجنڈا بھی شامل کرلیا۔

ریاست سے عام لوگوں کی ناراضگی کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں۔ ملک میں چینی بیالیس روپے کلو تک جاپہنچی ہے۔ خود حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں ایک سال میں بیس پچیس فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ملک میں کاروں اور اشیائے آسائش کی ریل پیل ہورہی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر اور چھ جماعتی مذہبی اتحاد مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اس احتجاج کی قیادت میں پیش پیش ہیں۔ ان کے بڑے اتحادی مولانا فضل الرحمن خاموش ہیں۔ قاضی حسین احمد اس احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں کا یہ پرتشدد غصہ کتنے دن چلتا ہے اور قاضی حسین احمد اور مذہبی جماعتیں اس سے کیا سیاسی فائدہ اٹھاسکیں گی۔ ماضی میں تو ہر فیصلہ کن مرحلہ پر ۔ ایل ایف او ہو یا قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی۔ متحدہ مجلس عل کی قیادت نے جنرل مشرف کے لیے مشکلات پیدا نہیں ہونے دیں۔

جنرل مشرف کی حکومت نے اب تک جو بھی گنجائش پیدا کی ہے وہ مذہبی جماعتوں کےلیے کی ہے۔ اس احتجاج سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اس احتجاج کی کال پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ(ن) نے دی ہوتی تو شائد پولیس زیادہ حفاظتی اقدامات کرتی اور انتظامیہ مظاہرین کو اتنا کھل کر کھیلنے کی اجازت نہ دیتی جیسا کہ منگل کے روز لاہور میں کیا گیا۔

اگرمنگل کے روز کے حفاظتی اقدامات کا موازنہ کچھ عرصہ پہلے شہباز شریف کی آمد اور آصف زرداری کی آمد پر کیے گئے حفاظتی اقدامات سے کیا جائے تو فرق صاف ظاہر ہے کہ حکومت مذہبی گروہوں کے ساتھ نرمی سے جبکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہت سختی سے نپٹتی ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کےلیے تو اپنے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ وہ ابھی ایک بار پھر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ انہیں سیاست میں حصہ لینے کے اجازت نہیں دیں گے۔ بلوچستان کی صورتحال اور کالاباغ ڈیم کے معاملات کی وجہ سے وہ علاقائی جماعتوں سے بھی نبرد آزما ہیں۔اس لیے جنرل مشرف کے پاس بات کرنے کے لیے مدہبی جماعتوں کے سوا کوئی اور باقی نہیں بچا۔

ایسےمیں حالیہ پر تشدد احتجاج کی لہر سے مذہبی جماعتوں کی پوزیشن اور مضبوط ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے جنرل مشرف متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کچھ معاملہ کرتے ہیں جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں یا اسے انتظامی سختی سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فی الحال تو جنرل صاحب کی روشن خیال اور اعتدال پسندی ہوا میں اڑتی نظر آتی ہیں۔

احتجاج اب تک
کارٹونوں پر تنازع اب تک: خصوصی ضمیمہ
کارٹونوں کی اشاعتکارٹون تنازعہ: نئی لہر
پاکستان میں احتجاج میں شدت پر آپ کی رائے؟
پاکستان میں احتجاج
اسی بارے میں
تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی
15 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد