BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور:ایک اور ہلاک، مظاہرے جاری

پولیس اور مظاہرین
منگل کے پر تشدد احتجاج کے بعد جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی
بدھ کے روز لاہور میں اسلامی جمعیت طلباء کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں پنجاب یونیورسٹی کا ایک ملازم گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔


ادھر جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے آج فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے کہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔

منگل کے روز بھی یورپی اخباروں میں مبینہ توہین رسالت کے خلاف احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران میں دو افراد ایک بنک کے سیکیورٹی گارڈز کی گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

 بدھ کی صبح گیارہ بجے کے قریب اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں نے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس پر احتجاجی جلوس نکالا اور پُل کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس نے پہلے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ بعد میں طلباء آگے بڑھتے رہے تو پولیس نے گولی چلائی۔

بدھ کی صبح گیارہ بجے کے قریب اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں نے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس پر احتجاجی جلوس نکالا اور پُل کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس نے پہلے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ بعد میں طلباء آگے بڑھتے رہے تو پولیس نے گولی چلائی۔

اس مظاہرہ میں گولیاں اور لاٹھیاں لگنے سے چار افراد زخمی اور ایک رضوان نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ مظارہین نے متعدد گاڑیوں کو پتھراؤ کرکے نقصان پہنچایا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔

اسلامی جمعیت طلباء کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیاہے۔ ان کا دعویُ تھا کہ طلباء پُر امن تھے اور تشدد کی کارروائیاں ان میں شامل ہونے والے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کارندوں نے کیں۔

اسلامی جمعیت طلباء کے صدر نصراللہ گورایا نے کہا کہ اگر پولیس نے اسلام آباد اور لاہور میں گرفتار کیے جانے والے ڈیڑھ سو سے زیادہ طالب علموں کو رہا نہ کیا تو جمعرات سے ان کی تنظیم ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کردے گی۔

لاہور میں سینکڑوں وکلاء نے بدھ صبح احتجاج کے طور پر ایوان عدل سے ریگل چوک تک جلوس نکالا جو پُر امن طور پر منتشر ہوگیا۔ وکلاء امریکہ اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

دوسری طرف پنجاب کے مختلف چھوٹے شہروں میں بھیبدھ کے روز مبینہ توہین رسالت کے خلاف احتجاج جاری رہا۔ سرگودھا، قصور، پتوکی، کھڈیاں، جڑانوالہ اور قلعہ دیدار سنگھ میں کاروبار بند رہا اور پنجاب حکومت کی طرف سے عائد پابندی کے باوجود احتجاجی جلسے جلوس نکالے گئے۔

سرگودھا میں مظاہرین نے ایک سینما کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔

قصور میں مظاہرین نے ایک اسکول میں توڑ پھوڑ کی، اساتذہ اور طلباء کی پٹائی کی اور اسکول کو بند کروادیا۔ مظاہرین نے دکانوں کی توڑ پھوڑ بھی کی۔

جڑانوالہ میں ایک نجی ہسپتال کو نقصان پہنچایا گیا اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے جلسے جلوسوں پر لگائی گئی پابندی کی پرواہ نہیں کریں گے اور پروگرام ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلسے مخصوص جگہوں کے بجائے ان کی مرضی کی جگہوں پر ہوں گے۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے جلسے جلوسوں پر لگائی گئی پابندی کی پرواہ نہیں کریں گے اور پروگرام کے مطابق احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلسے مخصوص جگہوں کے بجائے ان کی مرضی کی جگہوں پر ہوں گے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ مظاہروں میں تشدد مذہبی جماعتوں نے نہیں کیا بلکہ حکومتی کارندوں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضمانت دیتے ہیں کہ ان کے پروگراموں میں پر تشدد کارروائی نہیں ہوگی۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ فوج پرویز مشرف سے کہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔

کارٹونوں کی اشاعتکارٹون تنازعہ: نئی لہر
پاکستان میں احتجاج میں شدت پر آپ کی رائے؟
پاکستان میں احتجاج
اسی بارے میں
پنجاب میں جلوسوں پر پابندی
15 February, 2006 | پاکستان
پاکستان بھر میں شدید احتجاج
14 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد