پاکستان بھر میں شدید احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ یورپی ممالک کی اخباروں میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف منگل کے روز پاکستان کے کئی شہروں میں ہڑتال کے ساتھ ساتھ احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مختلف شہروں خصوصاً پشاور، فیصل آباد، گجرانوالہ اور اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں مظاہرین نے صدر پرویز مشرف اور امریکی صدر جارج بش کے خلاف نعرے بازی کی اور کئی جگہوں پر سرکاری اور نجی املاک پر پتھراؤ کر کے انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے کئی جگہ آنسو گیس پھینک کر ہجوم منتشر کرنے کی کوشش کی۔ حساس علاقوں میں جہاں امریکی عمارات کو پتھراؤ یا آتش زنی کا خطرہ تھا، وہاں پولیس کی بھاری نفری حفاظت کے لئے موجود تھی۔ اسلام آباد سے اعجاز مہر کی رپورٹ: پیغمبر اسلام کے متعلق کارٹون اور خاکوں کی اشاعت کے خلاف منگل کے روز اسلام آباد میں جزوی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیئےگئے جبکہ مشتعل طلبا زبردستی سفارتی احاطے میں گھس گئے اور تین گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے پولیس نے ایک سو طلبا کو گرفتار کرلیا ہے۔
مختلف سکول اور کالجز کے پندرہ سو سے زیادہ طلبا نے آبپارہ سے ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ تک جلوس نکالا اور بیسیؤں مشتعل طلبا نے سفارتی احاطے میں جانے کے لیے توڑ پھوڑ شروع کردی۔ کئی ڈنڈا بردار مشتعل طلبا دروازہ پھلانگ کر سفارتی احاطے میں گھس گئے اور بھارتی ہائی کمیشن سے ہوتے ہوئے ڈنمارک کا سفارتخانہ ڈھونڈتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن تک پہنچ گئے۔ سفارتی علاقے میں سیکورٹی کے انچارج پولیس افسر طارق متین نے بی بی سی کو بتایا کہ سفارتی احاطے میں تین گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے۔ان کے مطابق مشتعل طلبا نے ایک ہوٹل کے قریب بھارتی ہائی کمیشن کی گاڑی پر پتھر پھینکے اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے لیکن گاڑی میں سوار اہلکار محفوظ رہے۔ ایسی صورتحال کے بعد پولیس نے مشتعل جلوس پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جبکہ طلبا نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ آدھے گھنٹے تک فریقین کی آنکھ مچولی کے بعد سفارتی علاقے میں تعینات پولیس فورس کی مدد کے لیے مزید نفری پہنچی اور پولیس نے طلبا کو منتشر کردیا۔ پولیس کے مطابق ایک درجن کے قریب طلبا کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ پہلے سے طئے شدہ پروگرام کے تحت حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین قومی اسمبلی نے اجلاس ختم ہونے کے بعد متعلقہ کارٹونوں اور خاکوں کی اشاعت کے خلاف پارلیمینٹ ہاؤس سے پولیس کے پروٹوکول میں ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ تک احتجاجی جلوس نکالا۔
تین سو بیالیس اراکین اسمبلی میں سے جلوس میں شریک ہونے والوں کی تعداد نصف کے قریب تھی۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب تو جلوس میں شریک ہوئے لیکن کوئی وزیر جلوس میں شامل نہیں ہوا۔ مخدوم امین فہیم، چودھری نثار علی خان اور حافظ حسین احمد کی سربراہی میں نکالے گئے اس خاموش جلوس کی صرف ابتدا میں نعرے لگے۔ ادھر اسلام آباد کے مختلف بازار جس میں کراچی کمپنی، پشاور موڑ، ایف ٹین مرکز، ستارہ مارکیٹ اور دیگر مارکیٹ مقامی تاجروں کی اپیل پر بند ہوگئے۔ پشاور سے ہارون رشید کی رپورٹ کئی مقامات پر پولیس کو دوسرے روز بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے ہلکا پھلکا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ ہشتنگری کے علاقے میں طلبہ پر جبکہ گلبہار سے اساتذہ کے ایک جلوس کو بھی گورنر ہاوس جانے سے روک دیا گیا۔ ایس ایس پی پشاور سعید وزیر نے بی بی سی کوبتایا کہ منگل کو مزید سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ شہر میں ایک روز قبل کے احتجاج میں پولیس کے مطابق اڑسٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم انہیں آج ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا۔
پریس مارکیٹ محلہ جنگی میں منگلو کو علامتی ہڑتال ہوئی اور مظاہرین نے ڈنمارک کے پرچم کو نذر آتش کر دیا۔ پشاور میں امریکی سفارت خانے پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بڑی تعداد میں پولیس وہاں تعنیات کی گئی ہے۔ اسی مسئلہ پر صوبہ بھر میں بدھ کے روز بھی تاجر برادری کی کال پر ہڑتال بھی کی جائے گئی۔ کراچی سے ریاض سہیل کی رپورٹ یورپ کے اخبارات میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف کراچی اور اندرون سندھ میں بھی احتجاجی مظاہرے اور شٹر بند ہڑتال کی گئیں۔ یہ مظاہرے اہلسنت و جماعت، سنی تحریک اور عوامی تحریک کی جانب سے کئے گئے۔ مظاہرے کے دوران ڈنمارک کے پرچم کو بھی نذر آتش کیا گیا جبکہ فرانس، ناروے اور ڈنمارک سمیت امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس سے قبل اہلسنت و جماعت کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت کے مسئلے پر حکومت کا رد مسلمانان کے رد عمل کی عکاسی نہیں تا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسجد نبوی میں اسلامی کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے جس میں تمام سربراہان عہد کریں کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد اور اداروں کی پشت پناہی کرنے والی حکومتوں کا تجارتی اور سفارتی بائکاٹ کیا جائیگا۔ اہلسنت و جماعت کی جانب سے جمعرات کے روز قائد اعظم کی مزار سے ایک ریلی نکالی جائیگی۔ علما نے لوگوں سے اپیل کی کہ ریلی میں شریک ہوکر بھرپور احتجاج رکارڈ کروایا جائے۔ دوسری جانب سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد، کوٹڑی،کوٹ غلام محمد،گولاڑچی،جھڈو،بھریا میں کاروبار بند رہا اور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ | اسی بارے میں پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان ’کارٹون چھاپنے والے کی دوائیاں نہیں‘10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||