لاہور میں شدید احتجاج، فائرنگ سے دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں مال روڈ پر توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف شدید احتجاج کے دوران اجرٹن روڈ پر سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہو گئِے ہیں جبکہ مشتعل ہجوم نے کئی عمارتوں پر پتھراؤ کیا ہے اور متعدد جگہوں پر آگ لگا دی ہے۔ اجرٹن روڈ پر دو افراد کے ہلاک ہونے کے علاور شہر میں مختلف جگہوں پر ہنگامہ آرائی میں تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں جس میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔ ہنگاموں میں کم سے کم اکتالیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت کر لی گئی ہے جس کا نام امتیاز ہے اور وہ باغبان پورہ کا رہنے والا ہے۔ ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔
اس شدید ہنگامہ آرائی کے باعث شہر میں رینجرز کے دستے طلب کر لیے گئے ہیں اور پولیس نے متعدد لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ پورے لاہور میں دوپہر کو سڑکوں پر نوجوان لڑکوں کے ہجوم جمع ہوگئے۔ انہوں نے جگہ جگہ ٹائر جلاکر سڑکیں بند کردیں۔ شہر میں کئی جگہوں پر ہجوم نے دکانوں اور ٹریفک کے اشاروں پر پتھراؤ بھی کیا اور نجی گاڑیوں کو آگ لگادی۔ سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی مال روڈ پر ہوئی جہاں سے مذہبی جماعتوں کے احتجاجی جلوس نے گزرنا تھا۔ داتا دربار سے اسمبلی ہال تک جانے والے جلوس کو ریگل کے آس پاس روک کر اس پر لاٹھی چارج کیا گیا اور اسے منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی گئی۔ ہجوم نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کے ایک حصہ میں بھی آگ لگائی اور عمارت پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ مال روڈ پر ہجوم نے کے ایف سی، میکڈونلڈ کو آگ لگائی اور نیشنل بنک اور عسکری بنک کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ملتان روڈ پر ایک پٹرول پمپ جلادیا گیا۔ ہجوم نے کشمیر روڈ پر بھی ایک بڑی کمرشل عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ پولیس نے جگہ جگہ آنسو گیس پھینک کر ہجوم منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے شملہ پہاڑی کے پاس امریکی مرکز کے گرد بڑا گھیرا ڈال کر ہجوم کو وہاں جانے سے روکا۔ ہجوم وہاں خاصی دیر تک پولیس کی بھاری نفری کے سامنے کھڑا امریکہ کے خلاف نعرے بازی کرتا رہا۔ ہجوم نے وہاں بینک آف پنجاب کی مرکزی شاخ کے دفتر پر بھی پرپتھراؤ کیا۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں میں مکمل ہڑتال رہی۔ گوجرانوالہ میں چند کھلی ہوئی دکانوں پر ہجوم نے پتھراؤ کیا اور فصیل آباد میں غیرملکی کمپنی ٹیلی نور کے اشتہاری بورڈز کو توڑا پھوڑا گیا۔ پنجاب کے وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ گزشتہ روز ہڑتال کی کال دینے والے گروپوں نے حکومت کو پر امن رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سول انتظامیہ کے قابو میں ہے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جائیں گے۔ لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ رینجرز شہر میں پہنچ گئی ہے اور صورتحال جلد نارمل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سختی نہیں کرنا چاہتی تھی جس کا لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ، 2 عورتیں ہلاک13 February, 2006 | پاکستان پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان یہ کارٹون جعلی ہے: کارٹونِسٹ14 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||