BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 February, 2006, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان بھر میں شدید احتجاج

اسلام آباد میں لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال
اسلام آباد میں لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی
توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف پاکستان میں جاری احتجاج کے دوران لاہور میں مشتعل نوجوان نے شہر میں متعدد جگہوں پر آگ لگا دی ہے اور پورے لاہور پولیس اور نوجوانوں کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے۔

مال روڈ پر مشتعل نوجوانوں نے اسمبلی ہال پر ہلہ بول دیا اور ایک کمرے کو آگ لگا دی جس پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔

پورے شہر میں نوجوانوں کی ٹولیاں صدر مشرف اور امریکی صدر بش کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور انہوں نے کئی جگہوں پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

لاہور میں دوپہر کو اکثر بڑی سڑکوں پر نوجوان لڑکوں کے ہجوم جمع ہوگئے۔ انہوں نے جگہ جگہ ٹائر جلاکر سڑکیں بند کردی ہیں۔ شہر میں کئی جگہوں پر ہجوم نے دکانوں اور ٹریفک کے اشاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔

مال روڈ پر ہجوم نے کے ایف سی، میکڈونلڈ کو آگ لگائی اور نیشنل بنک اور عسکری بنک کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ملتان روڈ پر ایک پٹرول پمپ جلادیا گیا

پولیس نے جگہ جگہ آنسو گیس پھینک کر ہجوم منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے امریکی مرکز کے گرد بڑا گھیرا ڈال کر ہجوم کو وہاں جانے سے روکا۔ داتا دربار سے اسمبلی ہال تک جانے والے جلوس کو ریگل کے آس پاس روک کر اس پر لاٹھی چارج کیا گیا اور اسے منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی گئی۔

آج کی ہڑتال میں اب تک کوئی ایسا واقعہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا جس میں دکانداروں کو ان کی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔

لاہور کے بازاروں سے دوسرے شہروں میں سامان لے جانے والی گڈز ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

شہر میں جگہ جگہ بینرز لگے ہوئے ہیں جن پر ڈنمارک حکومت کے خلاف نعرے لکھے ہیں اور توہین رسالت کےمجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبے کیا گیا ہے۔

پنجاب میں گجرانوالا اور فیصل آباد میں بھی ہڑتال اور احتجاج ہوا ہے۔

اسلام آباد سے اعجاز مہر کی رپورٹ:
منگل کی صبح سکول اور کالجز کے پندرہ سو سے زائد طلبا نے آبپارہ سے ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ یعنی سفارتی احاطے تک جلوس نکالا اور بیسیوں مشتعل طلبا نے سفارتی احاطے میں جانے کے لیئے توڑ پھوڑ شروع کردی۔

پولیس نے مشتعل جلوس پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جبکہ طلبا نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ آدھے گھنٹے تک فریقین کی آنکھ مچولی کے بعد سفارتی علاقے میں تعینات پولیس فورس کی مدد کے لیے مزید نفری پہنچی اور پولیس نے طلبا کو منتشر کردیا۔

پولیس کے مطابق ایک درجن کے قریب طلبا کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کئی طلبا کو پولیس نے سیرینا ہوٹل کے قریب ہی روک دیا۔ جبکہ ہاکیاں اور لاٹھیاں اٹھائے ہوئے بیسیوں طلبا ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ مظاہرین نے اس موقع پر امریکہ کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

مظاہرین
پولیس کے مطابق ایک درجن کے قریب طلبا کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بعد میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین قومی اسمبلی نے اجلاس ختم ہونے کے بعد متعلقہ کارٹونوں اور خاکوں کی اشاعت کے خلاف پارلیمینٹ ہاؤس سے پولیس کے پروٹوکول میں ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ تک احتجاجی جلوس نکالا۔

تین سو بیالیس اراکین اسمبلی میں سے جلوس میں شریک ہونے والوں کی تعداد نصف کے قریب تھی۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب تو جلوس میں شریک ہوئے لیکن کوئی وزیر جلوس میں شامل نہیں ہوا۔

مخدوم امین فہیم، چودھری نثار علی خان اور حافظ حسین احمد کی سربراہی میں نکالے گئے اس خاموش جلوس کی ابتدا میں تو نعرے لگے لیکن بعد میں آخر تک خاموش رہے۔ جلوس کے شرکاء دفتر خارجہ کے سامنے’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ سے اندر جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے آہنی دروازہ بند کردیا۔ بعد میں تمام اراکین اسمبلی پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

پشاور سے ہارون رشید کی رپورٹ
پشاور میس بھی شہر کے مختلف مقامات پر جن میں اسلامیہ کالج اور قصہ خوانی شامل ہیں طلبہ اور تاجر خاکوں کی مذمت کے لیئے سڑکوں پر نکل آئے۔

کئی مقامات پر پولیس کو دوسرے روز بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے ہلکا پھلکا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔

ہشتنگری کے علاقے میں طلبہ پر جبکہ گلبہار سے اساتذہ کے ایک جلوس کو بھی گورنر ہاوس جانے سے روک دیا گیا۔

ایس ایس پی پشاور سعید وزیر نے بی بی سی کوبتایا کہ آج مزید سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

شہر میں ایک روز قبل کے احتجاج میں پولیس کے مطابق اڑسٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم انہیں آج ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا۔

پریس مارکیٹ محلہ جنگی میں منگلو کو علامتی ہڑتال ہوئی اور مظاہرین نے ڈنمارک کے پرچم کو نذر آتش کر دیا۔

پشاور میں امریکی سفارت خانے پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بڑی تعداد میں پولیس وہاں تعنیات کی گئی ہے۔

اسی مسلہ پر صوبہ بھر میں بدھ کے روز بھی تاجر برادری کی کال پر ہڑتال بھی کی جائے گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد