مظاہروں کا تیسرا روز، پشاور میں دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی اخبارت میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر پاکستان میں احتجاج کے مسلسل تیسرے روز بدھ کو پشاور میں ہڑتال کے دوران ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ مظاہروں کے دوران ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹ ’کے ایف سی‘ اور ایک موبائل فون کمپنی کے دفتر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ لاہور میں منگل کو ہڑتال اور پرتشدد احتجاج کے بعد بدھ کو پشاور میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ اس دوران سرحد کے دارالحکومت میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔گزشتہ روزہ لاہور کے علاوہ جہاں پر تشدد احتجاج میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے ملک کے کئی شہروں بشمول دارالحکومت اسلام آباد میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اسلام آباد میں ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایک احتجاجی جلوس نکالا تھا جو پارلیمنٹ ہاوس سے شروع ہو کر ڈپولمیٹک اینکلیو(سفارتی احاطے) پر ختم ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں سکول اور کالجوں کے طلباء نے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں شامل لڑکوں نے سفارتی احاطے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ اس احتجاج کے دوران پولیس نے بہت سے طلباء کو حراست میں لے لیا۔ | اسی بارے میں لاہور میں شدید احتجاج، فائرنگ سے دو ہلاک14 February, 2006 | پاکستان پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||