پرتشدد واقعات:’ذمہ دار حکومت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے مغربی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے خلاف چھپنے والے کارٹونوں کی مذمت کی ہے اور ملک میں جاری پرتشدد واقعات کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’ہم سمجھتے ہیں یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ملک،مذہب یا فرد کی توہین کرے۔ ہم توہین کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اپنے لوگوں اور املاک کو نقصان پہنچانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ سفارتکاروں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر پر حملوں سے اسلام کی نہیں بلکہ اسلام مخالفوں کی خدمت کی جارہی ہے اس صورت میں جنہوں نے کارٹون شائع کیے تھے وہ خوشی کا اظہار کر رہے ہوں گے کہ ہم نے انہیں بے نقاب کیا ہے‘۔ اقبال حیدر نے کہا کہ لاہور کی صورت حال دیکھ کر حیرت ہوئی کہ حکومت نے غنڈوں کو کس طرح فری ہینڈ دیا ہوا تھا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں کیروسلین آئل تھا اور وہ آگ لگا رہے تھے،انتظامیہ کی ناکامی واضح نظر آرہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ صورتحال ہے،جس کا پاکستان اور عوام کو خمیزہ بھگتنا پڑیگا۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حکومت کے لیے باعث شرم ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے رہنما کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر کسی کا حق ہے جس کا درست استعمال ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کے جن اخبارات میں یہ کارٹون شایع ہوئے ہیں ان کے خلاف مقدمہ کیوں دائر نہیں کیا جاتا۔ پریس کانفرنس میں اقبال حیدر نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ | اسی بارے میں کارٹونوں کامعاملہ کشمیرپرچھایارہا 05 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازعہ، سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان کارٹون پر پاکستان کا احتجاج02 February, 2006 | پاکستان ’کارٹون چھاپنے والے کی دوائیاں نہیں‘10 February, 2006 | پاکستان کارٹون کے خلاف احتجاج جاری10 February, 2006 | پاکستان کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||