تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی اخبارت میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت پر پاکستان میں احتجاج کے مسلسل تیسرے روز بدھ کو پشاور اور لاہور میں پرتشدد مظاہروں میں ایک آٹھ سالہ بچے سمیت تین افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک مرنے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ بدھ کو ہونے والے مظاہروں میں دو افراد پشاور میں جبکہ لاہور میں جمعیت طلباء اسلام کی طرف سے نکالے جانے والے جلوس کے پولیس سے تصادم میں پنجاب یونیورسٹی کا ایک ملازم ہلاک ہو گیا ہے۔
پشاور میں ہپستال کے ذرائع کے مطابق آٹھ سالہ محمد کو ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں سر میں گولی لگی جبکہ فیروز علی نامی ایک شخص مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ کی وجہ سے سڑک پر گری بجلی کی تار لگنے سے ہلاک ہوا۔ پشاور میں بدھ کو مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین نے شہر میں دو سیمنا گھروں، امریکی ریسٹورنٹ کے ایف سی اور ناروے کی موبائل کمپنی کے دفاتر کو نشانہ بنایا اور پتھراؤ کیا۔ شہر کے گلبہار علاقے میں فائرنگ بھی ہوئی تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس جانب سے کی گئی۔ ادھر جنوبی شہر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی پرتشدد احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقعے ٹانک شہر میں مظاہرین نے دکانوں کو آگ لگا دی، ٹائر جلائےاور پولیس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ کیا۔ اس لڑائی میں ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بدھ کے روز لاہور میں اسلامی جمعیت طلباء کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں پنجاب یونیورسٹی کا ایک ملازم گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔
بدھ کی صبح گیارہ بجے کے قریب اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں نے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس پر احتجاجی جلوس نکالا اور پُل کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس نے پہلے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی بعد میں طلباء آگے بڑھتے رہے تو پولیس نے گولی چلائی۔ اس مظاہرے میں گولیاں اور لاٹھیاں لگنے سے چار افراد زخمی اور ایک رضوان نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ مظارہین نے متعدد گاڑیوں کو پتھراؤ کرکے نقصان پہنچایا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔ ملک کے کئی شہروں بشمول دارالحکومت اسلام آباد میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اسلام آباد میں ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایک احتجاجی جلوس نکالا تھا جو پارلیمنٹ ہاوس سے شروع ہو کر ڈپولمیٹک اینکلیو(سفارتی احاطے) پر ختم ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں سکول اور کالجوں کے طلباء نے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں شامل لڑکوں نے سفارتی احاطے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ اس احتجاج کے دوران پولیس نے بہت سے طلباء کو حراست میں لے لیا۔ | اسی بارے میں لاہور میں شدید احتجاج، فائرنگ سے دو ہلاک14 February, 2006 | پاکستان پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||