BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: پرتشدد مظاہروں کاتیسرادن

احتجاج
پشاور میں مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر بھی جلائے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کو تیسرے دن بھی یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری رہے۔


ہسپتال ذرائع کے مطابق دو پہر تک مختلف علاقوں میں ہنگاموں میں دو افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

پشاور کی مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹرز نے مکمل ہڑتال کی کال دی تھی۔ دکانیں اور کاروبار صبح سے بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔

صبح سے ہی شہر کے مختلف حصوں میں مشتعل مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں سڑکوں پر جمع ہونے شروع ہوئے۔ انہوں نے امریکہ اور ڈنمارک مردہ باد کے نعرے لگائے اور توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر بھی جلائے۔

مظاہرین نے شہر میں دو سینما گھروں، امریکی ریسٹورنٹ کے ایف سی اور ناروے کی موبائل کمپنی کے دفاتر کو نشانہ بنایا اور پتھراو کیا۔

شہر کے گلبہار علاقے میں ہوائی فائرنگ بھی ہوئی تاہم یہ نہیں معلوم کہ یہ کس جانب سے ہوئی۔ پولیس نے جگہ جگہ لاٹھی چارج اور اشک آور گیس سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

دکانیں اور کاروبار بدھ کو صبح سے بند ہیں

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجمنسی وارڈ کے ایک اہلکار کے مطابق سو سے زائد زخمی دوپہر تک لائے جاچکے ہیں۔

ہسپتال کے سربراہ یوسف پرویز کے مطابق ہلاک ہونے والے دو افراد آٹھ سالہ محمد اور تیس سالہ فیروز علی ہیں۔

محمد کو سر میں گولی لگی جبکہ فیروز بجلی کی تار گرنے سے جان کھو بیٹھے۔

کئی مقامات پر پیٹرول پمپوں، بنکوں اور دیگر شیشوں والے دفاتر کے باہر بڑی چادریں ڈال کر اور قرآنی آیات آویزاں کر کے مظاہرین کے غصے سے بچنے کی
کوشش کی گئی تھی۔ تاہم اس میں وہ بظاہر کامیاب نظر آتے تھے۔

شہر کے واحد کے ایف سی ریسٹورنٹ پر دو سو سے زائد مظاہرین نے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کیا۔

مظاہرین نے فرنیچر اور دیگر سامان سڑک پر پھینک کر اسے نذر آتش کر دیا۔ ساتھ میں موبائی فون موبائل اور دیگر دفاتر کا بھی یہی حشر ہوا۔

فون کمپنی کے وسیم صاحبزادہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ دفتر ڈیڑھ کڑوڑ روپے لاگت سے حال ہی میں تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خطرے کے باوجود پولیس کا وہاں صبح سے کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ انہوں نے اس توڑ پھوڑ کا الزام پولیس پر لگایا۔

ادھر جنوبی شہر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی پرتشدد احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقعے ٹانک شہر میں مظاہرین نے دکانوں کو آگ لگا دی، ٹائر جلائے اور پولیس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ کیا۔

اس لڑائی میں ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ ڈیرہ سے کسی بڑی توڑ پھوڑ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

آخری اطلاعات کے مطابق پشاور میں کئی مقامات پر مظاہرین ابھی بھی سڑکوں پر نکل کر ٹائر جلا رہے ہیں۔

پشاور میں بدھ کو احتجاج کا یہ تیسرا دن ہے۔ گزشتہ دو روز پولیس کے لیے کافی مشکل ثابت ہوئے تھے۔ اسے شہر میں کئی مقامات پر بیک وقت مشتعل مظاہرین کو قابو میں رکھنا تھا۔

بدھ کے احتجاج کے لیے بھی انہوں نے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں اور تمام اہم مقامات اور عمارتوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔ ان میں پشاور میں امریکی کونسل خانہ بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد